اسلامی
معاشرہ ہمیں تمام انسانوں کے حقوق ادا
کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اور ایک ایسا معاشرہ بنانے کا حکم دیتا ہے جس سے اخلاقی اور معاشرتی بیماریاں جنم نہیں لیتی اوراس سے ایک
صحت مند معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔آج کے معاشرے کا اسلامی معاشرے کے درمیان جو بہت
ذیادہ گیپ موجود ہے ہمیں اس کو قرآنی
احکامات پر عمل کر کےختم کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشرہ جس بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے وہ خاندان ہے اور خاندان
کی بنیاد میاں بیوی کے باہمی تعلقات ہوتے ہیں۔
اس لیے سب سے پہلے ہم اس کا گیپ انالیسسز کرتے ہیں۔
میاں بیوی کے باہمی تعلقات :
موجودہ معاشرہ
|
اسلامی معاشرہ
|
طلاق کی اوسط شرح میں ریکارڈ اضافہ
|
٭ طلاق ایک حلال مگر ناپسندیدہ حکم ہے ۔
|
نفرتوں کا اضافہ اور ایک دوسرے کا احترام ختم۔۔۔نتیجہ
؛ میاں بیوی کے اختلافات عام
|
٭ باہمی محبت اور احترام کا
حکم۔۔۔نتیجہ ؛ ایک صحت مند معاشرہ
|
برداشت ختم اور جذباتیت کا اضافہ
|
٭ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حکم
|
خاندانی نظام سے آزادی کو فروغ
|
٭ خاندانی نظام کے قیام کو فروغ
|
عورت کی خودمختاری کو فروغ
|
٭ مرد قوام
ہیں عورت پر
|
فوراً تین طلاقوں کے بعد گھر بدر کردینا یا ایک طلاق کے
بعدعورت کا خود گھر کو چھوڑ دینا
|
٭پہلے
ایک طلاق کا حکم ؛ عدت کے بعد فیصلہ تاکہ میاں بیوی کو سوچنے سمجھنے کا وقت ملے
|
بیوی کے نان نفقہ کو اہمیت نہیں دی جاتی نتیجہ ؛ لڑائی
جھگڑے اینڈ رزلٹ علیحدگی/طلاق
|
٭ بیوی کا
مناسب نان نفقہ اور گھر کا خرچ
|
رشتہ دار خود طلاق دلوانے میں اہم کرادر ادا کرتے ہیں
|
٭ اگر ساتھ نہیں بن رہا تو
رشتہ داروں کی مدد لی جائے تاکہ وہ صلح کرائیں
|
نااتفاقی اور بد اخلاقی کا مظاہرہ
|
٭ خوش اخلاقی
اور اتفاق سے پیش آنے کا حکم
|
انحرافات کو ختم کرنے کیلیے اصتلاحات :
اسلامی معاشرے
کے قیام کے لیےاجتماعی طور پر مندرجہ ذیل اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے:
1: بے جوڑ شادیوں سے پرہیز کیا جائے اور لڑکا لڑکی
سے انکی پسند نا پسند پوچھی جائے۔
2: شادی کے بعد ذمہ داری میاں بیوی پر آجاتی ہے اسلیے دونوں کو محبت اور احترام کے
ساتھ رہنا چاہیے۔ خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اگر ایک بدزبان ہے تو دوسرے کو
خوش اخلاقی اور برداشت سے کام لینا چاہیے۔
3: خاندانی نظام کو فروغ دیں اور خاندان میں رہنے کو ترجیح
دیں۔
4: فیملی کورٹس کو درست کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان کورٹس میں
ننانوے فیصد فیصلے عورت کے حق میں یعنی
خلع دلوانے میں کامیابی ہوتی ہے۔ انکا مقصد ہی طلاق دلوانا ہوتا ہے حالانکہ انکا
بنیادی مقصد طلاق کو روکنے اور صلح کرانے میں ہونا چاہیے۔ اس مقصد کےلیے انہی
کورٹس میں ایک کاؤنسلنگ ادارہ کے قیام کو
مضبوط بنانا چاہیے جو میاں بیوی کے باہمی اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کرے اور چھ
ماہ کا وقفہ انکی کاؤنسلنگ کیلے رکھے پھر بھی بات نہ بنے تو طلاق کا فیصلہ ہو۔
5: طلاق کا سب سے بڑا ذمہ ہمارے میڈیا کو جاتا ہے ۔ آجکل
ایسے ڈرامےدکھائے جاتے ہیں جن میں طلاق ایک عام موضوع ہوتا ہے اس طرح
یہ لوگوں کے ذہنوں میں پہلے سے ہی موجود ہوتا ہے یعنی ہر جھگڑے کا حل طلاق۔ لہذا بڑے پیمانے پر میڈیا
کو درست کرنے کی ضرورت ہے اور چھوٹے پیمانے پر ایسے مواد دیکھنے سے بچوں کو روکنا
ماں باپ کی ذمہ داری ہے۔
6: ہر جھگڑے کا حل طلاق نہیں ہوتا یہ بات میاں بیوی کے علاوہ ماں باپ اور رشتہ
داروں کو بھی سمجھنی
چاہیے ۔
کمزور طبقہ کی مدد اور زکوٰۃ
خاندان کے بعد
معاشرے میں سب سے ذیادہ مستحق غرباء اور مساکین ہیں ۔ یہ معاشرے کا وہ کمزور طبقہ
ہے جن کی کفالت ہمارا فرض ہے نہ کہ کوئی
احسان۔ آج کے معاشرے میں اگر کوئی انکی مدد کر بھی دے تو وہ صرف دکھاوا کیلیے بہت کم لوگ ایسے رہ گئے ہیں جو صرف اللہ کیلیے انکی مدد کرتے ہیں۔ اب انکا گیپ انالیسسز کرلیتے ہیں:
موجودہ معاشرہ
|
اسلامی معاشرہ
|
دکھاوے کی مدد وہ بھی کم رہ گئی ہے
|
٭ غرباء اور
مساکین کا خیال اور انکی مالی مدد
انکا حق
|
آج کا معاشرہ زکوٰۃ کو
اہمیت ہی نہیں دیتا اور مال جمع کر تا ہے
|
٭ زکوٰۃ کی ادائیگی ہر صاحبِ
مال پر فرض
|
دنیا اور مال کی محبت نے کمزور طبقہ کی مدد کا حوصلہ تک
چھین لیا ہے۔
|
٭ کمزور طبقہ
کی مدد
|
گردشِ دولت صفر،
تنیجہ؛ غریب غریب تر۔۔۔امیر امیر
تر
|
٭ زکوٰۃ سے گردشِ دولت
|
انحرافات کو ختم کرنے کیلیے اصتلاحات :
محلے محلے میں ایک ادارہ قائم ہونا
چاہیے جس کو محلے کے ایماندار لوگ چلائیں اور
جو محلے میں موجود ہر
خاندان کا تحریری رکارڈ رکھے۔ جن میں کل تعداد،
بوڑھوں کی تعداداور بچوں کی تعدادوغیرہ
موجود ہو۔ وہ
ادارہ انکی خبر رکھے اور محلے کے امیر طبقہ سے زکوٰۃ اور چندہ جمع کر ے۔ اس رقم سے محلے میں
موجود غریب اور جن کے پاس بنیادی ضرورتوں
کےلیے وسائل نہیں انکی مدد کی جائے مثلاً
:
٭ بیواؤں کا
ماہانہ خرچ
٭ غریب ماں باپ جن کے پاس بیٹی کی
شادی اور جہیز کیلیے وسائل نہیں انکی مد
٭ غریب بچوں کی پڑھائی
٭ بیماروں اور ناداروں کی مالی اور جسمانی مدد( ہسپتالوں اور سرکاری دفتروں
کے کام وغیرہ)
جسمانی مدد کیلیے محلے کے
نوجوانوں کو اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس
سے دولت کی گردش رہے گی اور غریبوں
کے حالات بہتر ہونگے۔
یتیموں
اور والدین کے حقوق :
والدین جب برھاپے کو پہنچ
جاتے ہیں تو اولاد ان کے حقوق نظر انداز کردیتی ہے اور ان کا خیال رکھنے سے بچنے
کیلیے انکو" اولڈ ہومز "میں بھیج دیتی ہے۔ یتیموں کے والی وارث نہ ہونے
کی وجہ سے ان کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جاتا ہے اور انکی دولت کو انسے چھین لیا
جاتا ہے۔ قرآن ہمیں ان دونوں کے ساتھ احسن
معاملات کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اور ان کے
حقوق ادا کرنے پر زور دیتا ہے۔
موجودہ
معاشرہ
|
اسلامی
معاشرہ
|
|
ماں باپ کی عزت کم
اور بد اخلاقی کا مظاہرہ
|
٭ والدین کے ساتھ حسن و
سلوک کا حکم
|
والدین
|
ماں باپ کے سامنے بلند
آواز میں بات کرنا عام
|
٭ والدین کو اُف تک نہ کہو جب وہ بڑھاپے کو پہنچ جائیں
|
|
اولاد ماں باپ کی ضروریات
کا خیال تو درکنار ان کا حال احوال تک دریافت نہیں کرتی
|
٭ والدین کی ضروریات کا خیال
|
موجودہ
معاشرہ
|
اسلامی
معاشرہ
|
|
بہت کم ان کے حقوق صیح
طریقے سے ادا کیے جاتے ہیں
|
٭ یتیموں کے حقوق کا
خیال
|
یتیم
|
گزارے لائق دنیا دکھاوے
کیلیے پرورش
|
٭یتیموں کی اچھے طریقے سے پرورش
|
|
انکے مال پر رشتہ داروں
کی بد دیانتی
|
٭ یتیموں کے مال میں دیانت داری
|
: انحرافات کو ختم کرنے کے لیے اصتلاحات
ان
انحرافات کو ختم کرنے کیلیے احساس کی ضرورت ہے ۔ ان میں رشتہ داروں کا کرداربہت اہم ہے۔ یتیموں
کیلیے اگر رشتہ دار بد دیانتی کا مظاہرہ کر رہےہیں تو ایماندار
رشتہ دار یا کوئی یتیم کا ویل وشر ان کی
مدد کیلیے
قانونی مدد لے ۔ والدین کے ساتھ محبت سےے پیش آنا چاہیے اور یہ
سمجھناچاہیے کہ جب وہ بڑھاپے کو پہنچ
جاتے ہیں تو وہ چڑچڑے ہوجاتے ہیں اور ان کو
ذیادہ ٹائم دینے کی ضرورت ہے ۔ اس لیے ان
کےغصے کی
نظر انداز کر کے انکا خیال رکھنا چاہیے۔ ان کے حقوق ویسے ہی پورے کرنے
چاہیے جیسے انہوں نے بچپن میں
ہمارا خیال رکھا
اور ہمارے حقوق پورے کیے۔ جب بھی
ان پر غصہ آئے تو ہمیں اپنا بچپن یاد کرنا چاہیے ۔
شرم
و حیا:
معاشرے کی تقریباً تمام برائیوں کی جڑ بے حیائی ہے۔ آج کے معاشرے میں شرم و
حیا کا
بہت ذیادہ فقدان ہے۔
موجودہ معاشرہ
|
اسلامی معاشرہ
|
پردے کی بجائے عریانیت عام
|
٭ پردے کا اہتمام
|
نظروں کا کوئی پردہ نہیں
|
٭نظروں کو جھکا کے چلنے کا حکم
|
کھلے عام بے حیائی کے مظاہرے
|
٭کھلی چھپی بے حیائی سے پرہیز
|
انحرافات کو ختم کرنے کیلیے اصتلاحات
٭اس کے لیے
دینی تعلیم کی بہت ضرورت ہے
٭ پردے کی اہمیت
کے بارے میں کانسپٹس کلئیر کرنے چاہیے۔
بہت سی عورتیں اس کو قید سمجھتی ہیں جبکہ
پردہ عورت کی آزادی ہے ۔ وہ جیسے چاہے گھوم پھر سکتی ہے گندی نظروں بچ سکتی اگر اس
کے جسم پر پراپر پردہ ہو تو۔
٭اس میں میڈیا
نئی نسل کو بہت خراب کر رہا ہےاور بے حیائی پھیلانے کا سب سے بڑا محرک ہے۔ ایسا مواد دیکھنا اور پڑھنا چاہیے جس سے ایمان
مضبوط ہو نہ کہ کمزور۔
٭ مخلوط تعلیمی
نظام کو بھی ختم کرنا چاہیے۔
٭ پردہ کو حکومتی سطح پر لازم
کردینا چاہیے۔
: وراثت کا حق
وراثت کی غیر منصفانہ تقسیم سے بہت سے مسائل اور برائیاں جنم لیتی ہیں۔ اور
رشتہ داروں میں اختلافات کا
باعث بنتی ہیں۔
موجودہ معاشرہ
|
اسلامی معاشرہ
|
غیر منصفانہ تقسیم
خاص کر بیٹیوں کو ان کے حق سے محروم کردیا جاتا ہے
|
٭ جمع شدہ دولت کے چھوٹے چھوٹے حصے منصفانہ تقسیم
|
بہت کم لوگ وصیت لکھتے ہیں اگر کوئی کرے بھی تو رشتہ دار
جھوٹی وصیت بنالیتے ہیں
|
٭وصیت کا حکم
|
مرنے والے کی طرف سے لالچ کی وجہ سے قرض کی ادائیگی رشتہ
دار لازم نہیں سمجھتے
|
٭قرض کی ادائیگی
|
:انحرافات کو ختم کرنے کیلیے اصتلاحات
٭ وارث اللہ نے بنائے ہیں اس بات کو
ذہن نشین کرلینا چاہیے پھر ہی منصفانہ
تقسیم کرنی چاہیے۔
٭
وصیت کو اہمیت دینی چاہیے اور وصیت کرنے والے کو بھی چاہیے کہ اپنے مال کو اللہ کے حکم کے مطابق
تقسیم کرے۔
٭ تقسیم کے وقت بیٹیوں کے حق کا بھی خیال
کرنا چاہیے۔
٭ رشتہ داروں کو بھی شریک کرنا چاہیے ورنہ بعد
میں رشتہ دار گھر والوں کو بہت تنگ کرتے ہیں اور بہت
لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں۔
1 comments:
writing of 'wasiya' was not mandatory after inheritance shares were prescribed in Quran.
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔