Sunday, February 2, 2014

میاں بیوی کا باہمی تعلق


"میں اس کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتی۔"  بیٹی نے ہٹ دھرمی سے کہا
"لیکن کیوں بیٹا؟ ابھی تو تمہاری شادی کو کچھ ماہ ہی ہوئے ہیں۔" ماں حیران و پریشان تھی
"مما اس کی حرکتیں مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔"  بیٹی نے غصے سے کہا
"کیوں کیا  وہ عادتوں کا خراب ہے۔" ماں پریشان ہوگئی
"پتہ نہیں بس اس کی سوچ مجھ سے نہیں ملتی۔ میں باہر دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا چاہتی ہوں زندگی انجوائے کرنا چاہتی ہوں لیکن وہ دقیانوس انسان چاہتا میں زیادہ وقت گھر میں گزاروں۔ مما ایسا کیسے ہوسکتا ہے میں پہلے بھی تو گھر سے باہر ہی رہتی تھی پاپا یا آپ نے تو کبھی نہیں روکا۔" بیٹی نے اکتاہٹ سےکہا
"تو بیٹا اب تمہاری شادی ہوگئی ہے نہ تمہاری زمہ داریاں بڑھ گئی ہیں ۔ پہلے تم پہ ایسی کوئی ذمہ داری نہیں تھی۔" ما ں نے سمجھانے کی ناکام کوشش کی۔
"کیا مطلب ہے آپ کا کیا آپ نے مجھے اسکا نوکر بنا کر رخصت کیا ہے۔ میں اسکی اور اسکے گھر والوں کی خدمت کروں۔ میری اپنی کوئی زندگی نہیں ہے کیا۔؟" بیٹی نے طیش  میں آکر کہا
"لیکن بیٹا اب تم اپنے آپ کو تھوڑا شوہر کیلیے بدلنے کی کوشش کرو۔"  ماں بے بس محسوس  کرہی تھی
"میں کیوں بدلوں اپنے آپکو ، وہ کیوں نہیں بدلتا۔" بیٹی کی آواز غصے میں بہت بلند ہوگئی تھی
"لیکن بیٹا۔۔۔۔"
"بس نہ مما!  مجھے نہیں رہنا اس بدتمیز اور دقیانوس کے ساتھ ۔ "
۔
۔
۔
اس کے بعد وہی جو ہر اس طرح کے معاملے میں ہوتا ہے ۔ طلاق!
معاشرہ خاندان سے وجود میں آتا ہے اور ایک خاندان  میاں بیوی کے باہمی تعلقات سے قائم ہوتا ہے ۔ اگر میاں بیوی کا رشتہ ہی کمزور ہوگا تو خاندان کبھی مضبوط نہیں ہوسکتا اور ایک کمزور خاندان ایک کمزور معاشرہ تخلیق کرتا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ  آج کا معاشرہ بہت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے  جس کی وجہ  طلاق  کی شرح میں تیزی سے  اضافہ ہے۔  طلاق کی بہت بڑی وجہ  قوت برداشت اور احترام کا ختم ہونا ہے۔ اس کے علاوہ بڑی حد تک فنانشیل ڈفرنسز اور عورت کی خودمختاری  بھی طلاق کا سبب بنتی ہے۔ 
میاں بیوی کے رشتے میں  عورت کا رویہ بہت اہم ہے اس لیے ہمیں  بیٹیوں کی صحیح تربیت کی بہت ضرورت ہے۔ایک گھر کی مضبوط بنیاد عورت بناتی ہے۔ اگر ایک عورت چاہے تو گھر بگاڑ سکتی ہے اور چاہے تو سنوار بھی سکتی ہے۔  یہ لڑکیوں کی تربیت پر منحصر ہے۔ آج کل کی مائیں اس بات پر توجہ نہیں دیتیں۔  انکو شادی کے وقت یہ تو  سیکھایا جاتا ہے کہ سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ کیسے رہنا ہے لیکن افسوس یہ نہیں بتایا جاتا کہ شریک سفر کے ساتھ کیسے اچھی زندگی کیسے گزاری جائے۔  
آج کےماڈرن معاشرے سے بہتر تو  زمانہ جاہلیت کی بدو عورتیں تھیں۔ رشتہ ازدواج کی اہمیت کے پیش نظر زمانہ جاہلیت کی مائیں اپنی بچیوں کی شادی کےبعد انہیں رخصت کرتے  وقت جو پندو نصاح  کرتی تھیں انہیں پڑھ کرانکی ذہانت و فراست پر حیرت ہوتی ہے۔ موجودہ زمانے  میں میاں بیوی کے تعلقات کی کشیدگی کو ان ہدایات پر  عمل کر  اس کشیدگی اور بیگانگی  کو محبت و الفت میں بآسانی بدلا جا سکتا ہے۔
اس نصیحت کی طوالت کی وجہ سے  کا صرف اسکا خلاصہ پیشِ خدمت ہے۔ انشااللہ اسکا پورا متن اگلی پوسٹ میں شیئر کروں گی ۔
!اے میری پیاری بیٹی"
مردوں کو عورتوں کے لیے پیدا کیا گیا اور عورتوں کو مردوں کیلیے اس لیے کوئی بھی عورت اس بات پر کہ اسکے ماں باپ بہت دولتمند اور اپنی بیٹی سے بہت پیار کرتے ہیں ،  اپنے شوہر سے مستغنی نہیں ہوسکتی کیونکہ نکاح کی صورت میں شوہر عورت کا نگہبان اور مالک بن جاتا ہے۔بیوی جتنا اپنے شوہر کا حکم بجا لاتی  ہے ،مرد اس کی اتنی ہی قدر کرتا ہے  اور اس کی ہر بات مانتا ہے۔اپنے حسن و جمال کا خاص خیال رکھنا ۔  اس کے کھانے پینے اور آرام کا بھی خاص خیال رکھنا۔اس کے گھر اور مال کی حفاظت کرنا اور اس کےنوکروں اور اہل و عیال کی خبر گیری کرتی رہنا۔اسکے راز کو اپنا راز سمجھنا اور اس کی کی کبھی بھی نافرمانی نہ کرنا۔ جب وہ غمزدہ ہو تو اسکے سامنے خوشی کا اظہار نہ کرنا اور جب وہ خوش ہو تو اس کے سامنے منہ بنا کر مت بیٹھنا۔اس کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ پیش آنا وہ بھی اتنی ہی تمہاری قدر کرے گا۔"
بہت سی بیویاں اس زعم میں ہوتی ہیں کہ مرد و عورت برابر ہیں تو ہم شوہروں کو اتنی اہمیت کیوں دیں۔ وہ شاید یہ بات بھول جاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مردوں کو عورتوں پر قوام بنایا ہے۔ بیٹی کی شادی صرف جہیز کا نام نہیں  بلکہ اسکو  اس قابل بنانے کا بھی نام ہے کہ وہ آگے جا کر اپنے شوہر کی عزت کرسکے۔ کاش! اس ماڈرن زمانے میں بھی ایسا ہو کہ بیٹی کی شادی کے وقت مائیں ایسی نصیحتیں بیٹی کو کریں اور  اللہ تعالیٰ ہمیں ان نصیحتوں پر عمل کرنے کے توفیق عطا فرمائے۔ آمین  ثم آمین
 ایسا نہیں ہے کہ صرف عورتوں کی ہی غلطی ہوتی ہے بلکہ رشتہ ازدواج گاڑی کے دوپہیوں کی طرح ہوتا ہے دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں تب ہی منزل تک پہنچ کر کامیاب ہوتے ہیں۔

اللہ عزوجل کا ارشاد گرامی ہے: ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجۃ

یعنی "جس طرح مردوں کا حق عورتوں پر ہے اسی طرح عورتوں کا حق بھی مردوں پر ہے۔
 ایسا نہیں ہے کہ صرف مردوں کے حقوق عورتوں پر اور شوہروں کے حقوق بیویوں پر ہوتے ہیں۔ نہیں بلکہ اسی طرح عورتوں کے بھی حقوق مردوں پر اور بیویوں کے حقوق بھی شوہروں پر ہوتے ہیں۔ عورتیں جانور یا جائیداد نہیں کہ مال کی طرح ان پر مردوں کو تصرف کا حق حاصل ہو جائےاور شوہر کہیں اس سے بھول میں نہ پڑجائیں کہ ان کے صرف حقوق ہی حقوق ہیں اور فرض و ذمہ داری کچھ نہیں؟ فرائض ان پر بھی اسی طرح عائد ہوتے ہیں جس طرح ان کے ان کی بیویوں پر۔ 

ایک اور جگہ قرآن مجید میں ہے کہ :ھن لباس لکم وانتم لباس لھن
"وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو۔"
مرد عورت دونوں کو حکم ہے کہ وہ ایک دوسرے کےلیے مخلص اور وفادار رہیں بلکہ یک جان دو قالب ہوں، ایک دوسرے 
کے پردہ پوش، ایک دوسرے کی زینت اور ایک دوسرے کی تکمیل کا ذریعہ ہوں۔

اکثر عورتوں میں ضد اور ہٹ دھرمی ہوتی ہے۔ مرد کو چاہیےکہ اس کی ضد کے مقابلے میں سختی اور درشتی سے کام نہ لے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
عورتوں کے ساتھی نیکی کا برتاؤ کرو کہ ان کی پیدائش ٹیڑھی پسلی سے ہوئی ہے وہ تیرے لیے کبھی سیدھی نہیں ہوسکتی۔ اگر تو اسے برتنا چاہے تو اسی حالت میں برت سکتا ہے اور سیدھا کرنا چاہے گا تو توڑ دے گا اور توڑنا طلاق دینا ہے۔ (مسلم)
اس کے علاوہ ایک اور جگہ پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
"ایمان والوں میں زیادہ مکمل ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اخلاق میں زیادہ اچھے ہیں اور تم میں سے اچھے وہ لوگ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہیں۔"
  (ترمذی: ۱۱۶۲، عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ)  



3 comments:

Unknown نے لکھا ہے کہ

بہت عمدہ ۔ ماشاءاللہ

Zara نے لکھا ہے کہ

بہترین تحریر۔ جزاک اللہ خیرا و احسن الجزاء۔

Anonymous نے لکھا ہے کہ

بہت خوب

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


My Blog List