Thursday, July 3, 2014

روزہ اور خواتین: چند نصیحتیں

مر د اور خواتین ثواب میں برابر ہیں۔  اسی لیے مردوں کی طرح  عورتوں سے بھی شریعت اسلامیہ تقاضہ کرتی ہے کہ وہ ماہِ رمضان  کو  ڈھیروں ثواب  کے حصول کے لیے موقع غنیمت جانے اور اس میں ایسے اعمال  انجام دیں جو  نہ صرف ان کے بلکہ  ان کے اہل خانہ  کے لیے بھی ابدی فائدے کا باعث بنیں۔ اس سلسلے میں چند نصیحتیں پیش ِ خدمت ہیں جو کہ  انتہائی مناسب اور قابل عمل  ہیں:
  1.  رمضان المبارک عبادتوں کا مہینہ ہے ۔ یہ اللہ کا مہینہ ہے۔ اس لیے مسلمان خاتون کو چاہیے کہ اس مہینے سے  مکمل فائدہ اٹھاتے ہوئے  اس میں ذیادہ سے ذیادہ وقت کو عبادت  میں گزارے مثلاً  تلاوتِ قرآن مجید، ذکر و اذکار ، دعائیں اور نوافل وغیرہ  میں  مصروف رہے۔  اس لیے کہ اس مہینے میں  کیے گئے  نیک اعمال کا اجر ستر گنا بڑھ جاتا ہے۔
  2.  ہمارے بچے ہم سے سیکھتے ہیں۔ اس لیے جب رمضان کا مہینہ آئے تو بچوں کو اس کی اہمیت سے آگاہ کریں۔  ان کی اس کی قدروقیمت کی طرف رہنمائی کریں۔  اور انہیں آہستہ آہستہ روزے کا عادی بنائیں۔ نیز ان کی سمجھ کے مطابق  ان کو رمضان کے احکامات اور مسائل بیان کریں۔ تاکہ ان میں اطاعت گزاری اور نیکی کی عادت پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ رمضان کی اصل روح سے واقفیت بھی پیدا ہو۔
  3.  آج کل ہمارے ہاں یہ تصور عام ہوگیا ہے کہ رمضان کھانے پینے کا مہینہ ہے۔  اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔  جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ رمضان عبادت کا مہینہ ہے نہ کہ کھانے پینے کا۔ اس کے لیے مختلف قسم کے کھانے تیار کرنے میں  کم سے کم وقت خرچ کریں۔ بہنوں کو ایسا کھانا تیار کرنا چاہیے جو ان کے اہل خانہ کے لیے مناسب ہو اور اس میں کسی قسم کا تکلف اور اسراف موجود نہ ہو۔  اس طرح،  کھانے سےذیادہ   اہم چیزیں ضائع ہونے کا خدشہ نہیں رہے گا۔ یعنی کہیں ایسا نہ ہو کہ  آپ کھانا تیار کرنے میں اس حد تک مشغول و مصروف ہیں کہ  عبادت کے لیے وقت ہی نہ نکال سکیں اور نیکیوں کے بڑھانے کا سنہری موقع  آپ کے ہاتھوں سے نکل جائے۔ نیز افطاری کا سامان اس طرح تیار کریں کہ افطاری سے پہلے دعا کے لیے مناسب وقفہ مل جائے۔ اس طرح نہیں کہ آپ ابھی تک پکوڑے تلنے میں مصروف ہیں اور ادھر آذان شروع ہوجائے اور آپ  جھٹ سے روزہ  افطار کرلیں۔ دعا مانگنا تو دور بلکہ  افطاری کی کیفیت سے بھی نابلد رہیں۔
  4.  روزہ اور نماز ایک ساتھ ساتھ ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اجر کو مکمل کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ نمازوں سے غفلت برتتے   ہیں اور رمضان کی  بے ضروری مصروفیات کے باعث یا تو نماز چھوڑ دیتے ہیں یا جان بوجھ کر قضا کر دیتے ہیں۔  یاد رکھیں ! نمازیں اول وقت میں ادا کریں ۔ صرف رمضان ہی میں نہیں بلکہ عام دنوں میں بھی اس پر عمل کریں کیونکہ اللہ کے ہاں  اول وقت  میں پڑھی جانے والی نماز بہت مقبول ہے۔

لہذا ہماری خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اسلامی واجبات پر عمل کریں ، نماز کو ان کے اوقات میں ادا کریں ، مکمل روزے رکھیں، زکوٰۃ بروقت ادا کریں ، اگر طاقت ہو تو بیت اللہ کا  حج  اور عمرہ ادا کریں ، بھلا ئی کا حکم دیں، برائی سے روکیں، اور استطاعت کے مطابق اپنے حلقہ اثر میں اسلام کی دعوت کا فریضہ انجام دیں۔  جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :
مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَنُحۡیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً ۚ وَ لَنَجۡزِیَنَّہُمۡ اَجۡرَہُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۷

"جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن با ایمان ہو تو ہم یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔‏" ( سورۃ النحل: ٩٧)

2 comments:

افتخار اجمل بھوپال نے لکھا ہے کہ

نیک مشورہ بھی کارِ ثواب ہے ۔ اللہ جزائے خیر دے ۔ ویسے میرا خیال ہے کہ خواتیں مردوں سے زیادہ عبادت کرتی ہیں ۔ بچپن سے لے کر دادا بننے تک اپنے گھر میں میں نے یہی دیکھا ہے ۔ بالخصوص کھانے پینے کے متعلق جو آپ نے لکھا ہے یہ غور طلب ہے ۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے ہر رسم کھانے پینے کیلئے مختص ہو کر رہ گئی ہے

Adila Kokab نے لکھا ہے کہ

بہت عمدہ مضمون ہے ماشاءاللہ۔۔۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے۔آمین

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


My Blog List