حضرت خضرٰؑ کون تھے اس بارے میں بہت سی رائےپائی جاتی ہیں۔ بعض
علماءحضرت خضرٰؑ کونبی، کچھ ولی اور کوئی
فرشتہ مانتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم ان تینکیٹیگر یزکو دیکھ لیتے ہیں کہ یہ کون ہوتے ہیں۔
نبی : تفسیر ضیا القرآن کے حوالہ سےاس کی تشریح اور معنی کی تحقیق پیش ہے۔ اس کے ماخذ کے متعلق اہلِ لغت کے تین قول ہیں:
1
: نَبَاٌ
2:
نَبُوَّۃٌ
3:
نَبَاوَۃٌ
پہلے
قول کے مطابق نبی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دینے والا ہو۔ اگر اسکا ماخذ
نَبُوَّۃٌ یا نَبَاوَۃٌ ہو تو اس کے معنی بلند اور اونچی چیز کے ہو
جاتے ہیں کیونکہ نبی دوسروں سے ہر لحاظ سے(علم و مقام)
ارفع و اعلیٰ
ہوتا ہے اس لیے اسے نبی کہتے ہیں۔
علامہ اصفحانی کی رائے کے مطابق "نبا"
ہر خبر کو نہیں کہتےبلکہ" نبا " وہ خبر ہے جو :
* فائدہ مند ہو
* اہم اور عظیم ہو
فرشتہ :
فرشتےنورانی مخلوق ہیں ۔
یہ انسان و جناّت سے بھی بہت پہلے سے موجود ہیں۔ انکا کام صرف اللہ کی عبادت کرنا اور اللہ کے احکامات ماننا
ہے۔اور دنیا کے تکوینی امورانجام دینا بھی
انکے کاموں میں شمارہوتے ہیں۔ حضرت آدمؑ کو اللہ نے اسماء کا علم سیکھایا تو
فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا ۔ یہ سجدہ اس بات کی علامت تھا کہ آدمؑ علم
کی بنا پر فرشتوں سے افضل ہیں۔ حضرت آدمؑ کے پاس فرشتوں سے زیادہ علم تھا۔ اگر حضرت
خضؑر فرشتے تھے تو تب بھی وہ وہیں موجود ہونگے انہوں نے بھی آدمؑ کو سجدہ کیا ہوگا۔حالانکہ
سجدے کا مطلب ہی انسان کی علم پر برتری قبول کرنا اور انسان کی خدمت کرنا تھا۔ وہب
بن منبہ نے رسول اکرم صلى الله عليه وسلم سے نقل فرمایا کہ جب موسیٰؑ نے یہ خیال کیا
وہ اہلِ زمین میں سب سے بڑے عالم ہیں تو اس وقت اللہ نے جس شخص کی تلاش میں بھیجا
وہ خضرٰؑ تھے (جو موسیٰؑ سے بھی بڑے عالم تھے) تاکہ وہ ان سے علم سیکھیں۔جب فرشتوں سے زیادہ
علم اللہ نے انسان کو دیا اور فرشتوں نے اس بات کو مانتےہوئے انسان کو سجدہ کیا تو
پھر یہ کیسے مان لیا جائے کہ ایک نبی جو
کلیم اللہ ہے وہ ایک فرشتے سے علم سیکھنےجائیں کیونکہ وہ ایک نبی سے بھی بڑے عالم
تھے۔حالانکہ وہ (فرشتے) سجدے کی صورت میں اپنی کم علمی کا اقرار کر چکے تھے ۔لہذا
حضرت خضرٰؑ فرشتے نہیں تھے۔
ولی : ولی اللہ کے نیک بندے اور دوست ہوتے ہیں۔ یہ وہ بوریا
نشین انسان ہوتے ہیں جنکی ساری زندگی عبادت میں گزرتی ہے اوروہ اپنے نفس پر پورا
اختیار رکھتے ہیں۔ اپنی عبادات اور مجاہدات سے وہاعلیٰ مقام حاصل کر لیتے ہیں جو
بہت کم لوگوں کو ملتا ہے۔ انکی روحانی پرواز کعبہ شریف و روضہِ اطہر سے لے کر سدرہ
المنتہیٰ تک ہوتی ہے۔ا نہی کے بارے میں قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ
" وہ مردانِ حق جنہیں تجارت اور خرید
و فروخت یادِ خدا وندی سے غافل نہیں کرتی"۔
صوفیا ءکرام نےعلومِ اسلامیہ کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہے:
1: علم الاحکام
2: علم الاسرار
علم الاحکام یعنی مسائل
و فضائلِ شریعہ تک محدود رہنے والے علماء محدث،فقیہ، مفتی اور مجتہد وغیرہ کہلاتے
ہیں ۔ اور صرف علم الاسرار کے جاننے والے درویش صوفی ابدال وغیرہ کہلاتے ہیں۔ البتہ اہلِ کمال کا ایک طبقہ
ایسا بھی ہےجو دونوں علوم سے فائدہ حاصل کرتا ہے۔حدیث شریف میں انہیں بزرگوں کو
انبیا ء کے وارث کہا گیا ہے۔ علوم الاسرار اور روحانیت کا سرچشمہ بھی دیگر علومِ
اسلامیہ کی طرح قرآن مجید ہی ہے۔ ا اہلِ ولایت کو بھی صوفیا کرام نے دو طبقوں میں
تقسیم کیا ہے ۔ایک کا تعلق تشریحی امور سے اور ایک کا تعلق تکوینی امور سے ہے۔
یعنی ایک طبقہ اہلِ دعوت و ارشاد ہے اور دوسرا طبقہ اہلِ تصّوف و اختیار ہےاور یہ
رجال الغیب کی حیثیت سے تکوینی امور انجام
دیتے ہیں مثلاًجنگ و امن ، عذاب و سزا ،
بارش و طوفان، فتح و شکست ، حکومت و اقتداراور انسانی معاشرت سے متعلق دیگر
انتظامی معاملات کا طے پانا(اللہ کے حکم سے ) ایسے ہی اہلِ باطن کے روحانی تصرف سے
وابستہ ہوتاہے۔ اللہ فرماتے ہیں : " زمین و آسمان کے لشکر اللہ ہی کے ہیں
"۔(الفتح:4)
امام
قرطبیؒ اس کی تفسیر میں حضرت ابنِ عباس رضی تعالیٰ عنہا کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ
آسمانی لشکر سے مرادملائکہ اور زمینی لشکر سے مراد اہلِ ایمان ہیں۔امام جلال و الدین سیوطیؒ اپنی تفسیر"
الدر المنثور" میں بحوالہ ابن عباس
رضی تعالیٰ عنہا نقل فرماتے ہیں : " روحیں اللہ کے لشکروں میں سے ایک لشکر
ہیں" سید الطائفہ حضرت جنید بغدادیؒ نے اولیاء کرام کو بھی " جنداللہ " فرمایا ہے۔
اللہ کے بہت سے
فرشتےکائنات کے تکوینی امور اللہ کے حکم سے انجام دے رہے ہیں ۔لیکن مدبر حقیقی
ذاتِ باری تعالیٰ ہی ہے۔سابقات اور سابحات بھی اس کے عطا کردہ امور میں مصروف رہتے
ہیں۔
چنانچہ
سور بقر
آیت 251کی
تفسیر میں امام قرطبی لکھتے ہیں کہ اس لشکر سے مراد "ابدال " ہیں اور
وہ چالیس ہیں۔
حضرت
علی رضی تعالیٰ عنہا سے مروی ہے آپ نے فرمایا :"میں نےآپﷺ سے سنا : "
یقیناً ابدال شام میں ہونگےاور وہ چالیس مرد ہونگے، جب کبھی ان میں سے کوئی وفات پا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس
کی جگہ دوسرے کو متعین فرمائے گا، انکی برکت سےبادل بارش برسائیں گےاور انکے طفیل
دشمنوں پر فتح دی جائے گی اور انکے صدقے
زمین والوں کی بلائیں ٹال دی جائیں گی۔"
ابدال: یہ لوگ انبیاء کے نائب ہیں یہ قوم وہ ہے جسے اللہ نے اپنے لیے چن لیا اور اپنےعلم
میں سے انہیںخاص علم عطا کیا ہے۔امام محی
الدین ابن عربی اپنےرسالہ" حلیۃ الابدال " میں لکھتے ہیں : " میں
نے ایک بزرگ سے پوچھاکہ ابدال کسطر ح ابدال بنتا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: " چار چیزوں سےجو ابو
طالب مکی نےقوت القلوب" میں لکھی ہیں
(1) خاموشی ، (2)
تنہائی ، (3
) بھوک اور ( 4) بیداری
رؤےزمین میں مختلف
جہانوں اور آبادیوںمیں بلکہ برّ و بحرمیں ایسے رجال الغیب اور مردانِ خدا ہر دور
میں موجود رہتے ہیں ۔صوفیا کرام فرماتے
ہیں کوئی بستی اور قریہ ایسا نہیں جس میں ایک قطب یا ابدال نہ ہو جس کی برکت سے رحمت نازل اور عذاب ٹلتے ہیں۔
رجال
الغیب اورخاصانِ خداکی جماعت کے سردار و پیشوا حضرت ابو العباس خضرٰؑہیں ۔ آپ کو
نقیب الاولیاءبھی کہا جاتا ہے۔آپ اللہ
کےعبد خاص اورصاحب علم لدنی ہیں۔
علم
لدنی کیا ہے؟علم لدنی ا نہی اسماء کا علم ہے جو حضرت آدمؑ کو دیا گیا تھا۔
انہی اسماء کے علم کو تصّوف کی زبان میں علم لدنی
کہتے ہیں۔ (لوح و قلم، قلندر بابا ا ولیاءؒ، علم لد
نی)
قرآن مجید میں االلہ تعالیٰ نے فرمایا
کہ:" پس اسنے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے
اپنے پاس کی خاص رحمت عطا فرما رکھی تھیاور اسے اپنے پاس سے خاص علم (علم لدنی) سیکھا رکھا تھا۔"
جو
علم (علم لدنی ) آدمؑ کو دیا گیا تھا وہی علم خضرؑکے پاس بھی تھا لیکن وہ فرشتوں
کے پاس نہیں تھا ۔ثابت ہوا کہ حضرت خضرؑ فرشتے
نہیں تھے۔تو پھر وہ کون تھے؟
اگر مذکورہ بالا آیت کو
دوبارہ دیکھیں تو اللہ نے انکو "عبد" کہا ہے۔عبدروحانیت کا سب اونچا
منصب ہے۔منصبِ عبد کے متعلق حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی ؒدفتراِ وّل کے مکتوب 30
میں فرماتے ہیں :
"لہذا مراتب ولایت کی انتہا مقام عبدیت
ہے۔ولایت کے درجات میں مقام عبدیت سے اوپر کوئی
مقام نہیں۔"
اس لحاظ سے ہم خضرؑ کو ولایت کے سب سے اونچے مقام عبد سمجھ سکتے ہیں۔
جو اپنے سے نیچے تمام منصب کے ہیڈ ہیں۔لیکن یہاں ایک بات ہمیں روکتی ہے کہ کوئی
غیر نبی کسطرح نبی سے بڑھ کرعالم ہوسکتا ہے؟اور کیسے ایک نبی و رسول غیر نبی کے
تابع ہو سکتا ہے۔کیونکہ جہاں عبدیت کی حد ختم ہوتی ہے وہاں سے حدِنبوت شروع ہوتی
ہے۔ (حا ل سفر، پرو
فیسر فقیرباغ حسین کمال ؔ ،صفحہ نمبر61)
اگر وہ عبد ہوتے
تووہ ہر لحاظ سے نبی سے نیچے تھے۔ لیکن موسیٰؑ کے واقعے میں خضرؑ کا علمی مقام موسیٰؑ سے زیادہ ہے۔ اس لحاظ سے ہم انہیں ولی
بھی نہیں مان سکتے ۔ ولی نہ ماننے کی وجہ ایک اور بھی ہےکہ کسی ولی کو یہ اختیار
حاصل نہیں کہ وہ علم الغیب کی بنا پر کسی انسان کو قتل کردے اور نہ ہی تاریخ میں
ایساکبھی ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اولیاء کرام کو اللہ نے تب بھیجا جب نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا
اس سے پہلے رجال الغیب موجودتھے وہ حضرت آدمؑ کے زمانہ سے لے کرحضرت محمد ﷺ کے زمانہ تک اور آپؐ کے زمانہ سے لے حضرت عیسیٰؑ کے ظہور تک موجود ہونگے یعنی ابد سے آخر تک۔ اس سے پتہ چلتا ہے کی حضرت خضرؑ ولی نہیں بلکہ انکا تعلق رجال الغیب سے
معلوم ہوتا ہے۔لیکن انبیاء ، انسان، فرشتے اور جنات بھی رجال الغیب ہوسکتے ہیں
۔انسان کی مثال میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اور حضرت مجدد الف ثانیؒ وغیرہ ہیں
۔اب حضرت خضرؑ نہ ولی ہیں نہ فرشتہ جیسا
کہ ثابت ہوالہذا ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ ہم حضرت خضرؑ کو نبی
مانے۔اللہ نے قرآن میں اپنے انبیا ء و رسل کو کہیں عبد اور کہیں صدیق سے بھی خطاب
کیا ہے۔سورۃ مریم آیت 41
:" اور اس کتاب میں ابراہیمؑ کا ذکر کیجیے وہ صدیق اور نبی تھے۔" اور
سور ۃ صٓ کی آیت 41:"
اور ہمارے عبد ایوب کو یاد کیجیے"۔ اورحضورﷺ کے متعلق" عبدہ ُ وَ رَسُولہُ"
اسی کی طرف اشارہ ہے۔اللہ نے عبد کا لفظ اپنے نبی کے لیے بھی استعمال کیا ہے اسلحاظ سےحضرت خضرؑ ایک نبی ہیں نہ کہ ولی یا فرشتہ۔ اور جیسا کہ نبی کی
تعاریف اوپر بیان ہو چکی ہے کہ جسے اللہ نے
غیب کی خبریں دی۔ خضرؑ کے پاس بھی غیب کا علم تھا۔نبی سے مراد بلند اور
ارفع بھی ہے۔
امام
ابو جعفرالطحاوی نے " مشکل الآثار
" میں حضرت ابوامامۃ الباھلی رضی تعالیٰ عنہ سے مروی ایک روایت نقل کی ہے جس
میں رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو بنی اسرائیل کا ایک واقع سناتے ہوئے حضرت خضرؑ کا تذکرہ فرمایا اور دورانِ مکالمہ انکی نبوّت کا
اثبات و اظہار فرمایا۔ (مشکل الآثار ،طحاوی ر قم
: 1218 ) اس
روایت کو امام طحاوی کے علاوہ امام ہیثمی نے مجمع الزوائدمیں بحوالہ طبرانی
نقل کیا ہے۔ اس کے علاوہ ابو سعید نقاش نے اسے " فنون العجائب" میں
روایت کیا ہے۔امام ہیثمی کہتے ہیں کہ اسے
طبرانی نے" معجم کبیر" میں
روایت کیا اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد
صفحہ 502 )
رہی
وہ روایت جس میں حضرت خضرؑ نے فرمایاکہ "اللہ تعالیٰ نے اپنے علوم میں سے ایک علم مجھے سیکھایا جسے آپ نہیں جانتے اور ایک علم آپ کو دیا جسے
میں نہیں جانتا۔"
حضرت
موسیٰؑ کے پاس نبوت اور شریعت کا علم تھا۔اور حضرت خضرؑ کو اللہ نے نبوت کے ساتھ ساتھ بعض تکوینی
امور کا علم (علم لدنی ) دیا تھاجسے صرف خضرؑ کو نوازہ گیا تھا۔ اور اس علم کی بدولت وہ ایسے
کام اللہ کے حکم سے انجام دیتے تھے جو شریعت کے خلاف تھے۔یعنی شریعت کا علم جو
اللہ نے موسیٰؑ کو دیا وہ خضرؑ کے پاس نہیں تھا۔
دوسرا جس میں خضرؑ
فرماتے ہیں کہ میں جو بھی کرتا ہو اللہ کے حکم سے کرتا ہوں۔ تو صرف فرشتے ہی اللہ
کے حکم سے ہر کام نہیں کرتے بلکہ نبی و رسول بھی اللہ کے حکم کے پابند ہوتے ہیں
۔حضورﷺ نے بہت دفع کفارِ مکّہ سے فرمایا
کہ میں جو کہتا ہوں خود سے نہیں کہتا بلکہ اس کا حکم تو مجھے اللہ کی طر ف سے
وحی ہوتا ہے۔قرآن میں بھی یہ آیت کی صورت
میں موجود ہیں۔
لہذا
حضرت خضرؑ ایک نبی تھے ۔اور اللہ نے انہیں اپنی حکمتِ عالیہ سے ہر دور کیلیے قطب
وابدال اور رجال الغیب کا معاون ٹھہرایا ہے۔خضرؑ صدیوں سے رجال الغیب سے ملاقاتیں
کرتےآ رہے ہیں۔ اور بعض اوقات انکی راہنمائی بھی کرتے ہیں۔تمام اہلِ نظر خضرؑ
کواولیاء کرام کا قائد مانتے ہیں۔سید علی کرم اللہ وجہہ نے آپؑ کو " سید القوم"
تسلیم کیا ہے۔ (روض الریاحین)
قسطلانی شرح بخاری
میں حضرت خضرؑ کو مردانِ غیب ہی نہیں بلکہ رجال الغیب کا رہنما بھی
تسلیم کیا ہے۔
حضرت خضرؑ کا تعارف:
حضرت خضرؑ کانام
بلیآ بن ملکان تھا۔آپؑ کا لقب خضر تھا اور کنیتابوالعباس
تھی آپؑ حضرت نوح ؑ کی اولاد
میں سے تھے اور آپؑ کے آباؤاجداد اس کشتی میں بھی
سوار تھے جو طوفانِ نوح میں بچ کر لوگوں کو محفوظ کرتی گئی جوکائناتِ ارضی پر
آئندہ نسلِ انسانی کے آباؤاجداد بنے۔خضر کا لقب پانے کی وجہ یہ ہے کہ آپؑ جہاں
بیٹھتےوہاں سبزہ اگ آتا۔جہاں قدم رکھتے سبزہ نمودار ہوجاتا۔ خضر کے معنی "سبز" کے ہیں۔اس
لیے
انکا لقب خضر تھا۔
تفسیر روح البیان کے
مصنف نے حضرت ابو اللیث کی روایت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حضورﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو بتایا تھا کہ" حضرت خضرؑ ایک بادشاہ کے فرزند تھےجو انہیں اپنا جا نشین
بنانا چاہتے تھے۔ مگر خضرؑ نے نہ صرف جانشینی سے انکار کیا بلکہ وہاں سے بھاگ کر
دوربیاباں میں چلے گئےوہاں آکرایسے گم ہوئےکہ کوئی شخص انہیں تلاش نہ کر
سکا"۔آپ کے اس سفر کے دوران آپکو آبِ حیات کاچشمہ ملا جس کا پانی پی کر آپ
تاحیات زندگی پانے میں کامیاب ہوگئے۔ انکی تاریخِ پیدائش کا تو کسی کو علم
نہیں مگر انکے زندہ ہونے اور تاقیامت زندہ
ہونے کے آثار ملتے ہیں۔
5 comments:
میرے خیال میں حضرت حضر انسان نہیں تھے۔ کیونکہ اس کے بارے میں قرآن پاک سے شہادت نہیں ملتی۔۔ جو تفسیر کا آپ نے ریفرنس دیا ہے اس میں حدیث ضیعف ہے میرے خیال میں۔ آپ چیک کریں ایک بار۔ اور اس کے علاوہ قرآن پاک میں ہے کہ حضرت حضر نے کہا تھا میں جو کچھ کیا اللہ کی مرضی سے کیا ہے۔ میرا اپنا اختیار نہیں تھا۔ اور یہ خصوصیت فرشتوں میں ہوتی کہ وہ اپنی مرضی استعمال نہیں کر سکتے (اس کے لیے دیکھیں علوم القرآن ماڈیول 1) سر عقیل نے لکھا ہے۔وہ چیک کریں۔ دوسری بات جو میں خود کہنا چاہوں گی کہ جس بارے میں اللہ نے وضاحت نہیں دی اس بارے میں ہمیں تلاش نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ ہر اس چیز کی وضاحت اللہ نے دی جو ہمارے لیے ضروری ہے۔جیسے اصحاب کہف کی تعداد پوچھنے سے منع کیا گیا ویسے ہی۔۔
جی سسٹر عدیلہ میں نے وہ ماڈیول کور کرلیا ہوا ہے اور ان فیکٹ یہ سوال اسی ماڈیول کے باب 10 کا ہے اور یہ اسی وقت میں نے حل کیا تھا۔ اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ سر نے اس میں حرکت خضرؑ کو فرشتہ ثابت کیا تھا۔ اس کے سوالنامے میں اس سوال کا دوبارہ آنا دراصل اس لیے تھا کہ اسٹوڈنٹ اس کے بارے میں خود ریسرچ کرے ، کاپی پیسٹ نہ کرے۔ اس لیے میں نے ریسرچ کی تو میرے رائے یہ بنی۔ ہو سکتا ہے میں غلط ہوں اور ایک وقت آئے جب میں دوسروں کی رائے سے متفق ہو جاؤں اور کیا پتہ یہ وقت آئے کہ دوسرے میری رائے سے متفق ہو جائیں۔
اور رہی یہ بات کہ حضرت حضر ؑنے کہا تھا میں نے جو کچھ کیا اللہ کی مرضی سے کیا ہے۔ میرا اپنا اختیار نہیں تھا۔ تو یہ خصوصیت صرف فرشتوں میں نہیں ہوتی یہ انبیاء کرام کی بھی خصوصیت ہے ۔ حضرت محمد ﷺ نے بہت بار کفار مکہ کو کہا کہ میں جو کچھ بھی کہتا ہوں وہ خود سے نہیں کہتا۔ یہ تو مجھے اللہ کی طرف سے وحی ہوتی ہے۔ تو یہ ایک دلیل نہیں ہوسکتی۔ لیکن میں پھر بھی کہوں گی کہ میں غلط ہوسکتی ہوں۔
اور دوسری بات کہ ہمیں اس قسم کے سوالوں میں نہیں پڑنا چاہیے جس کا تعلق غیب سے ہو تو میں پھر کہوں گی کہ یہ میری اسائنمنٹ تھی جو میں نے یہاں پوسٹ کی اور یہ تحقیق میرے کورس کی ڈیمانڈ تھی۔
حیات خضرؑ کے بارے میں تمام روایات جھوٹی ہیں، پڑھیے امام ابن قیم کی کتاب المنار المنیف۔
As far as 'ilm' of Humans vis-a-vis angels is concerned, Allah may grant any angel, additional 'ilm' for training of His humans. Just as angel Jibrael was deputed to teach Prophet Muhammad PBUH.
Its not authentic that Khizar AS is still alive. Rather a contradictory evidence is that in a Hadees Prophet Muhammad PBUH said, "Nobody on earth who's alive today, will be alive after 100 years from now"(or words to that effect), so if he was a human, he may not be alive.
Every statement attributed to "buzurgs" is not necessarily true.
What is definitely true are the words of Allah (swt), and of His last Prophet (saw) provided the latter are from authentic sources. The Quran is well known, and any attempt to change it or to quote out of context can be detected and challenged. Authenticity of Ahadeeth has also been documented, but somehow daeef (weak) and maudoo (false) ahadeeth have become very popular.
When quoting any hadith, it is better to find out the status (ranking) of that hadith.
So it is best to stick to the the Quran, and to Ahadeeth certified by ulema of Hadith as authentic.
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔