Monday, February 3, 2014

اے میری پیاری بیٹی!۔۔۔ ایک عرب ماں کی نصیحت

عوف بن محلم ، ایک عرب سردار تھا۔ ریاست کے بادشاہ ، حارث بن عمرو نے اسکی بیٹی کی بہت تعریف سنی۔ اس نے ایک دانا  اور تجربہ کار عصام نامی عورت کو عوف کی بیٹی کو دیکھنے بھیجا ۔ اسنے واپس آکر بیٹی کی بہت تعاریف کی  اور اسکے خصائل و شمائل کا جامع تذکرہ کیا، یوں رشتہ طے گیا۔ رسم نکاح کے بعد ماں نے اپنی لخت جگر کو رخصت کرتے وقت  جو نصیحت کی اسکا ترجمہ  پیش خدمت ہے۔
"اے میری پیاری بیٹی!"
"اگر وصیت کو اس لیے ترک کردینا روا ہوتا  کہ  جس کو وصیت کی جا رہی ہے  وہ خود عقلمند اور زیرک ہے  تو میں تجھے وصیت نہ کرتی۔"
"لیکن وصیت غافل کے لیے یاداشت اور عقلمند کیلیے ایک ضرورت ہے۔"
اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے اس لیے مستغنی ہوسکتی  کہ اس کے والدین بڑے دولتمند ہیں اور وہ اسے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں تو تُو سب سے زیادہ  اس بات کی مستحق تھی کہ اپنے خاوند سے مستغنی ہوجائے۔"
" لیکن حقیقت یہ ہے کہ عورتیں مردوں کیلیے پیدا کی گئی ہیں اور مرد  عورتوں کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔"
" اے میری نورِ نظر ! آج تو اس  فضا کو الوداع کہہ رہی ہے جس میں تو پیدا ہوئی۔"
"آج تو اس نشیمن کو پیچھے چھوڑ رہی ہے  جس میں تُو نے نشونما پائی۔"
"ایک ایسے آشیانے کی طرف جا رہی ہے جسے تو نہیں جانتی۔"
"اور ایک ایسے ساتھی کی طرف کوچ کرہی ہے جس کو تو نہیں پہچانتی۔"
" پس وہ تجھے اپنے نکاح میں لینے سے تیرا نگہبا ن اور مالک بن گیا۔"
" تو اس کیلیے فرمانبردار کنیز بن جا ،  وہ تیرا وفادار غلام بن جائے گا۔"
" اے میری لخت جگر! اپنی ماں سے دس باتیں یاد کرلے یہ تیرے لیے قیمتی سرمایہ اور مفید یادداشت ثابت ہونگی۔"
" سنگت قناعت سے دائمی بنے گی اور باہمی میل جول اس کی بات سننے اور اسکا حکم بجا لانے سے پرمسرت ہوگا۔"
" جہاں جہاں اس کی نگاہ پڑتی ہے  ان جگہوں کا خاص خیال رکھ  اور جہاں جہاں اس کی ناک سونگھ سکتی ہے اس کے بارے میں محتاط رہ تاکہ اس کی نگاہ تیرے جسم اور لباس  کے کسی ایسے حصہ پر نہ پڑے جو بدنما اور غلیظ ہو۔ اور تجھ سے اسے بدبو آئے بلکہ خوشبو سونگھے۔ اس بات کا خاص خیال رکھنا۔"
" سرمہ حسن کی افزائش کا بہترین ذریعہ  اور پانی گمشدہ خوشبو سے بہت ذیادہ پاکیزہ ہے۔"
" اس کے کھانے کے وقت کا خاص خیال رکھنا  اور جب وہ سوئے اس کے آرام میں مخل نہ ہونا۔ کیونکہ بھوک کی حرارت شعلہ بن جا یا کرتی ہے اور نیند میں خلل اندازی بغض کا باعث بن جاتی ہے۔"
" اس کے گھر اور مال کی حفاظت کرنا اس کی ذات کی ، اسکے نوکروں کی اور اس کے عیال کی ہر طرح خبر گیری کرنا۔"
" اس کے راز کو افشا مت کرنا  اور نہ اس کی نافرمانی کرنا اگر تو اس کے راز کو افشا کردے گی  تو اس کے غدر سے محفوظ نہیں رہ سکے گی اور اگر تو اس کے حکم کی نافرمانی کرے گی تو   اس کے سینہ میں تیرے بارے میں غیظ و غضب بھر جائے گا۔"
" جب وہ غمزدہ اور افسردہ ہو تو خوشی کے اظہار سے اجتناب کرنا اور جب وہ شاداں و فرحاں ہو تو  اسکے سامنے منہ بسور کر مت بیٹھنا۔ پہلی خصلت آدابِ زوجیت  کی ادائیگی  میں کوتاہی ہے اور دوسری خصلت  دل کو مکدر کردینے والی ہے۔"
" جتنا تم سے ہو سکے اسکی تعظیم بجا لانا  وہ اسی قدر تمہارا احترام  کرے گا۔"
" جس قدر تم اس کی ہم نوا  رہو گی  اتنی قدر ہی وہ تمہیں اپنا رفیق حیات بنائے رکھے گا۔"
" اچھی طرح جان لو تم جس چیز کو پسند کرتی ہواسے نہیں پا سکتی جب تک تم اسکی رضا کو اپنی رضا پر اور اسکی خواہش کو  اپنی خواہش  پر ترجیح نہ دو خواہ وہ بات تمہیں پسند ہو یا نہ ہو۔"
" اے بیٹی! اللہ تعالیٰ تیرا بھلا کرے۔"
چنائچہ وہ بچی رخصت ہو کر اپنے شوہر کے پاس آئی  ۔ اپنی ماں کی ان زریں نصائح کو اسنے اپنا حرزجان بنائے رکھا  اور اسنے عزت و آرام کی  کی قابل رشک زندگی گزاری ۔ بادشاہ اس کی بڑی قدر کیا کرتا تھا اور اس کی نسل سے یمن کے سات بادشاہ تولد ہوئے۔

(بلوغ الارب، جلد دوم، صفحہ 19)

1 comments:

مکرّمؔ نے لکھا ہے کہ

اگر بلوغ الارب کا اردو ترجمہ پی۔ ڈی۔ ایف فورمیٹ میں موجود ہے تو، برائے کرم، ربط بتا دیجیے۔

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


My Blog List