Thursday, February 20, 2014

ہمارے اعضاء ہمارے خلاف!!!

انسان ایک بےبس مخلوق ہے۔ اسکا اختیار اسکے اپنے ہاتھ میں نہیں ہے۔  جب  قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ روزِ آخرت اسکے ہاتھ،  پاؤں، زبان اور جلد اسکے خلاف گواہی دیں گے تو اس میں اہل بصیرت کے لیے کوئی اچھنبے کی بات نہیں ۔ کیونکہ اسکو معلوم ہے کہ یہ ہاتھ، پاؤں اور زبان  اسکے نہیں وہ اسکے مالک نہیں مالک تو صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہیں  ۔  بظاہر ہم کتنا خیال رکھتے ہیں اپنے ہاتھوں اور پیروں کا  ہزاروں خرچ کرتے ہیں  انکی خوبصورتی پر ، لیکن جن سے ہم اتنا پیار کرتے ہیں وہ ہی روزِ آخرت ہمارے خلاف ہوجائیں گے۔
یہ تو  اہل ایمان  کیلیے ایک دلیل ہے۔  لیکن سائنسی دلیل بھی موجود ہے۔ ہارڈ ڈسک ، مائیکرو ایس ڈی،  میموری کارڈ کا ہمارے اجسام میں موجود ہونا اور ہمارے  ہر ہر عمل کو  ریکارڈ کرنا   ممکن ہے۔ ہارڈ ڈسک ، مائیکرو ایس ڈی،  میموری کارڈ کے مین کمپونٹس سیلیکون اور کلورین ہیں۔  اور حیرت انگیز طور پر  یہ دونوں ایلیمنٹس  ( عنصر) ہمارے جسم  میں موجود ہیں۔ سیلیکون  ہمارے پورے جسم کے خون  میں بھی موجود ہے۔ پورے انسانی جسم میں سیلیکون کی مقدار 2-1 گرام ہے۔ ہڈیوں میں بھی سیلکون پایا  جاتا ہے اور اگراس کی  کمی واقع ہوجائے تو  ہڈیوں کی گروتھ اثر انداز ہوتی ہے اور متبادل کے طور پر  ڈاکٹرز سیلیکون کو ڈائیٹری سپلیمنٹ  کے طور پر تجویز کرتے ہیں۔ کتنی حیرت کی بات ہے زیادہ تر ہڈیاں ہمارے ہاتھوں اور پیروں میں ہی موجود ہوتی ہے۔ اور  اللہ نے ایسا نطام بنا دیا کہ میموری کارڈ کے مین ایلیمنٹ سیلیکون کی کمی ہوجائے تو    مصنوعی مین میڈ سیلیکون سے اسکی کمی پوری کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ  قدرتی پانی  میں25-5 ملی گرام پر لیٹر  کی مقدار سے سیلیکون موجود ہوتا ہے اور ہمارے جسم کا 72 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے۔  دوسرا بنیادی ایلیمنٹ کلورین  بھی ہمارے جسم میں 95گرام/ 0.14 فیصد کی مقدار سے موجود ہے۔ تو یہ کیوں ممکن نہیں کہ  اللہ نے ہمارے جسم میں ایک پورا ڈیٹا بیس سیٹ کیا ہوا ہے جو ہمارے اعمال کا حساب رکھ رہا ہے۔  بس اسکے زبان دینے کی دیر ہے اور یہ ہمارے سارے اعمال کھول کر بیان کردیں گے۔ بلکل ایسے ہی جیسے ہارڈ ڈسک ،  مائیکرو ایس ڈی،  میموری کارڈ موبائل اور کمپیوٹر میں جانے سے پہلے بےزبان ہیں اور جب وہ  انسے اٹیچ ہوجاتے ہیں تو ان میں موجود  وڈیوز بمع تصاویر بول اٹھتی ہیں۔  اسی طرح جب اللہ تعالیٰ ہمارے اعضاء کو قوت گویائی عطا کریں گے تو یہ بھی بول اٹھے گے۔ اس لیے ہمیں کچھ بھی کرنے،  بولنے اور سننے سے پہلے اس  بات کو یاد رکھ لینا چاہیے  کہ ہم کسی طرح بچ نہیں سکتے ہماری اپنے ہی چیزیں ہمارے خلاف گواہی دیں گیں۔


صرف ہمارے اجسام ہی نہیں اس پوری کائنات کا ذرہ ذرہ ہر پتھر اور پہاڑ  تک ہمارا ریکارڈ رکھ رہے ہیں۔ ہماری پوری زمین کی  کی ٹھوس  پرت  کا 80-90 فیصد  حصہ اسی سیلیکا اور سیلیکون کمپوننٹس سے مل کر بنا ہے۔ کائنات کی ہر ہر چیز ہمارا ریکارڈ رکھ رہی ہے۔ تبھی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ کہ ہم آخرت کے روز  سب اعمال نکال لائیں گے بے شک وہ رائی کے دانے کے برابر بھی کیوں نہ ہو اور کسی پہاڑ میں بھی کیوں نہ چھپا ہو۔ اس لیے ہمیں اللہ اور اسکے حساب سے ڈرنا چاہیے۔ لیکن لوگوں کو جب یہ باتیں بتائی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ  پلیز ہمیں ڈراؤ مت۔ کیوں نہ ڈریں ہم؟   اللہ تو خود فرماتے ہیں کہ  مجھ سے ڈرو تو پھر ہم کیوں نہ ڈریں؟۔ اللہ سے وہی ڈرتے ہیں جو کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں۔  اللہ ہم سب کو کائنات میں غور و فکر کرنے کی صلاحیت  عطا فرمائے اور ہمارے دل خوف ِ خدا سے بھر جائیں۔ آمین ثم آمین



sources:

مکمل تحریر >>

Tuesday, February 11, 2014

کچھ لوگ ناخوش ہیں اگرچہ وہ کہتے ہیں کہ وہ اللہ پر یقین رکھتے ہیں! (گیسٹ پوسٹ)

قرآن کی یہ آیت: "یہ درجات میں مختلف ہونگے اور اللہ تعالی خوب دیکھتے ہیں-" سورۃ آل عمران ۱۶۳ ایک بہت ہی اہم سچائی کی طرف ہماری توجہ مبذول کرواتی ہے۔کچھ لوگ ایمان کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔مگر جو ایمان والے ہیں انکے دلوں میں بھی اللہ کا خوف اور ایمان مختلف درجہ کا ہوتا ہے۔قرآن میں اللہ پاک ان لوگوں کا جو ایمان نہیں رکھتے حوالہ اس آیت میں دیتے ہیں 
یہ گنوار کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے،تم ایمان تو نہیں لائے یوں کہو کہ ہم مطیع ہو گئے اور ابھی تک ایمان تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا-" سورۃ الحجرات۱۴
: ایک دوسری آیت میں اللہ پاک ہمیں بتا تے ہیں کہ 
ایمان والوں میں کچھ لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں، کچھ درمیان میں اور کچھ ترقی کر کے آگے نکل جاتے ہیں۔پھر یہ کتاب ہم نے ان لوگوں کے ہاتھ میں پہنچائی جنکو ہم نے اپنے تمام دنیا کے بندوں میں سے پسند فرمایا۔پھر بعض ان میں سے اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعض ان میں سے اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں اور یہ بڑا فضل ہے- سورۃ فاطر۳۲ 

ان لوگوں میں جن کا قرآن میں ذکر ہے ایک گروہ ایسا بھی ہےجو اپنے ایمان کو غلط کاموں کے ساتھ ملا دیتے ہیں اسکا مطلب یہ ہے کہ سچے مذہب کی اعلی برتری سمجھ میں آنے کے باوجود اوریہ بات جانتے ہوئے کہ آخرت میں سوائے قرآن پر عمل کرنے کے اور کوئی بچت کا راستہ نہیں،اسکے با وجود وہ اپنے آپ کو مکمل طور پر غلط عقیدہ اور جہالت سے الگ کرنے میں ناکام ہوتے ہیں۔ایسے لوگ بظاہر ایمان کے ساتھ رہتے ہیں مگر اس لمحہ جب انکے ذاتی مفادات ایمان کے مقابلے میں آتے ہیں یا انکو کوئی پریشانی آتی ہے تو وہ بجائے قرآن والا رویّہ ظاہر کرنے کے ان لوگوں کا رویہ ظاہر کرتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے۔جب ایسے لوگوں کی بات ہوتی ہے تو صرف انہی لوگوں کے بارے میں دماغ میں نہیں آنا چاہیے جو صاف طور پر مذہب کا انکار کرتے ہیں اور ایک غیر مذہب رویہ اختیار کرتے ہیں بلکہ یہاں پر جن لوگوں کی بات ہو رہی ہے وہ وہ لوگ ہیں جو اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ قرآن کی بہت ساری باتوں پر عمل کرتے ہوئے اور ایک ایمان والے کی طرح رویہ ظاہر کرکے گزارتے ہیں۔البتہ کچھ خاص مواقع پر وہ یہ نہیں جانتے کہ قرآن کے مطابق وہ غلطی پر ہیں۔یا وہ صحیح طور پر اس بات کو سمجھ نہیں پاتے۔کچھ لوگ جو مسلمانوں کی طرح رہتے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انکے کچھ عقائد اور اعمال قرآن کے ساتھ اختلاف نہیں رکھتے اور وہ یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ قرآن میں کس چیز سے روکا گیا ہے اور کیا گناہ ہے۔


مثال کے طور پر،کچھ لو گ یہ نہیں سمجھتے یا سمجھنا نہیں چاہتے کہ جذباتیت ایک ایسی خصلت ہے جو قرآن کی اخلاقی اقدار کے بلکل برعکس ہے۔یہ بات صاف طور پر قرآن کی بہت ساری آیات میں دیکھی جا سکتی ہے۔جیسا کہ ایک رشتہ دار کی موت پر مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ وہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو گیا بلکہ اسکے لیے ایک نا ختم ہونے ولی زندگی کا آغاز ہے۔ اور اگر مرنے والا ایک ایمان والے کا رشتہ دار ہے تو وہ خوش ہوتا ہے اور امید کرتا ہے وہ جنت میں داخل ہوگا۔اسکے علاوہ موت ایک تقدیر کا حصہ ہے جو اللہ نے پہلے سے لکھی ہے۔جیسا کہ ہر چیز کی ایک وجہ ہے، موت بھی اللہ نے کسی وجہ سے بنائی ہے۔اسکے نتیجہ میں ایمان والا جانتا ہے کہ اسکے رشتہ دار کی موت میں بھی اللہ کی رحمت ہے اور وہ ایک اطمینان والا رویہ اختیار کرتا ہے۔مگر بہت سارے لوگ اس سچائی کو جانتے ہوئے بھی جہالت والا رویہ اختیار کرتے ہیں۔وہ بہت زیادہ جذباتیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔جو لوگ ایسے کردار کو قرآن کی اخلاقی اقدار کے مقابلے میں خامی یا کمزوری نہیں سمجھتے انکو اس چیز کو چھوڑنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔زندگی کے کچھ خاص لمحات میں وہ جاہلوں کی طرح رہتے ہیں۔وہ مشکلات اٹھاتے ہیں جو ایک ایمان والا نہیں اٹھاتا۔عام طور پر جاہلوں میں یہ رائج ہے۔اور ایمان والوں کے مقابلے میں زیادہ تر وہ اداس اور ناخوش رہتے ہیں۔


اسی وجہ سے، ہر وہ شخص جو یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ اللہ پر یقین رکھتا ہےاسکو یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا جس خوبصورت زندگی کا اللہ نے اس دنیا میں اور آخرت میں ایمان والوں سے وعدہ کیا ہےوہ اس علم کی روشنی میں اسکے پاس ہے یا نہیں۔ایک چھوٹے درجہ میں بھی اسکی زندگی میں اگر کوئی غم، پریشانی یا اداسی ہے تو اسکو یہ ایک تنبیہ کے طور پر لینا چاہیے اور اسکی فکر کرنی چاہیے۔ایک ایسے شخص کے لیے جو ساری زندگی تکلیف اور مصیبت اٹھاتاہے،اسکا حل بہت ہی سادہ ہے۔جیسا کہ ہمیں اس آیت میں بتایا گیا ہے
 اللہ کو تمھارے ساتھ آسانی کرنا منظور ہے ،دشواری منظور نہیں۔"  سورۃ بقرہ۱۸۵"
ہراس شخص کے لیے جو تھوڑا بہت بھی ظاہر میں یا چھپا ہوا جاہلانہ طرز عمل اختیار کرتا ہے، اسکے لیے حل بہت ہی سادہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ایسا طرز عمل چھوڑدے اور قرآن کے مطابق زندگی گزارے۔ہر کوئی جو اللہ پر یقین رکھتا ہے اورہر ایمان والا جو قرآن کے مطابق زندگی گزارتا ہے اسکو چاہیےکہ بہت ہی اخلاص کے ساتھ قرآن کو پڑھے اور ہر اس عمل اور اس سوچ سے اپنے آپ کو محفوظ کرے جو ان یمان والوں کے رویہ کے خلاف ہے جنکا قرآن میں ذکر ہے۔قرآن میں بتائی گئی سچائی کو صرف فرضی طور پر نہ لے بلکہ اسکو اپنی زندگی میں عمل میں لائے اور اسکی مشق کرے اور اسکو محسوس کرے اور ہر وقت اسکا تجربہ کرے۔اسکو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اللہ پاک ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہیں اور وہ ہر شخص کے پوشیدہ احساسات سے واقف ہےاور اسکے چھپے ہوئے فریب سے بھی واقف ہے۔


ایک مسلمان کو اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کو ہی کافی نہیں سمجھنا چاہیےاور اپنے اندر چھپی ہوئی ریا کاری کو غیر اہم یا نہ قابلِ توجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔اسکو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اللہ کے پاس غیر مخلص یا ریا کار کو سخت دکھ دینے والے عذاب کی طاقت ہے اور اسکو کسی بھی وقت حساب کتاب کے لیے حاظر کیا جائے گا اور پھر جو کچھ اسنے کیا ہوگا اسکے مطابق اسکے ساتھ معاملہ کیا جائے گا۔ہر چیز جو اس دنیا میں پیش آتی ہے وہ اللہ نے پیدا کی ہے۔ہر جاندار اللہ کو سجدہ کرتا ہے اور اسکے حکم کے مطابق عمل کرتا ہے۔مسلمانوں کو اطاعت گزاری اور بندگی کے ساتھ رہنا چاہیے اور سچائی کو بھولنا نہیں چاہیے اور زندگی کے ہر لمحہ میں یہ جاننا چاہیے کہ یقینا ً اس میں کوئی بہتری ہے اور اللہ کی رحمت ہے۔


جب کوئی شخص اس سچائی کو پہچانتا ہے تو وہ ایک فرق دیکھے گا ایک خوبصورت زندگی کی شروعات ہوتی ہے۔اس وقت وہ یہ بات جان لے گا کہ جسکو وہ خوشی سمجھتا رہا وہ تو کچھ بھی نہیں تھی اور اس نے  توکبھی اللہ کی رحمت کاصحیح مزہ اور ذائقہ چکھا ہی نہیں اور وہ کتنی عام اور معمولی سی چیزیں ہیں جنکو لوگ سمجھتے ہیں کہ انکو خوشیاں دیتی ہیں ۔وہ یہ محسوس کرے گا کہ ہر کھانا جو وہ کھاتا ہے اور ہر خوبصورت جگہ جو دیکھتا ہے ہر سانس جو وہ لیتا ہے اسکو ایک عظیم مسرت اور خوشی دیتا ہے جسکا اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ محبت کرنا،محبوب بننا، پختہ اخلاق کا اظہار،لوگوں میں نفیس خوبصورتی دیکھنا، ہنسنا ہنسانا اورخوشی محسوس کرنا، دوستی اور گفتگو اسکو ایک نئے مزے کی طرف لے جائیگی۔اسکی زندگی اور اسکے دنیاوی معاملات ایک فہم میں اسکو جنت کی زندگی کی یاد دلاتے ہیں۔


اس موقع پر البتہ ایک اور اہم مسئلہ کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔جب ہم ایک خوبصورت زندگی کی بات کرتے ہیں تو اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس دنیا میں جو ایک امتحان کی جگہ ہے لوگوں کو مشکلات یا پریشانیاں نہیں آینگی۔ہر شخص مرنےسے پہلے مختلف حالات اور واقعات سے آزما یا جائے گا۔جیسا کہ اللہ پاک نے قرآن کی آیات میں ہمیں بتایا ہے کہ ہر شخص مشکلات اور پریشانیاں دیکھے گا۔ کسی کو بھوک سے آزمایا جائیگا،کسی کو ڈر اور خوف سے اور کسی کو جائیداد اور پیاروں کے نقصان سے۔مگر یہ چیزیں ذرہ برابر بھی ایک ایمان والے کے دل میں جو خوشی اور اطمینان ہے اس پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔کیونکہ ایمان والا تقدیر پر راضی رہتا ہے،ہر واقعہ میں فائدہ اور رحمت دیکھتا ہے اور یقین رکھتا ہے اگرچہ وہ ذہنی طور پر اسکا ادارک نہیں کرسکتا اور اسمیں چھپی ہوئی خوبصورتی کو نہیں دیکھ سکتا۔واقعات کے بارے میں مثبت انداز میں سوچنا اور اللہ کی رضا پر راضی رہنا جو علیم ہے،حقیقی اور نہ ختم ہونے والی خوشی اور مسرت کا سبب بنتا ہے۔

یہ کتاب لوگوں کو سیدھا راستہ دیکھاتی ہے، دلی خوشی اور اطمینان جو ایک مومن تجربہ کرتا ہے، اللہ کی رحمت ہے،  ان ماننے والوں کے لیے جو حقیقی ایمان رکھتے ہیں۔

اللہ پاک اس معاملے کو مومن کے لیے اس دنیا میں اور آخرت میں ایک خوشخبر ی کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں۔وہ اللہ کے دوست ہیں جو ایمان لائے اور پرہیز رکھتے ہیں۔انکے لیے دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی خوشخبری ہے۔اللہ کی باتوں میں کچھ فرق نہیں ہوا کرتااور بے شک یہ بڑی کامیابی ہے-  سورۃ یونس۶۲-۶۴ 

ایک دوسری آیت میں اللہ پاک فرماتے ہیں کہ امن و حفاظت ان ماننے والوں کے لیے ہے جو حقیقی ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو غلط چیزوں کے ساتھ ملاتے نہیں ہیں۔

جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے ہیں ایسوں ہی کے لیے امن ہےاور وہ ہی سیدھی راہ پر چل رہے ہیں-" سورۃ الانعام۸۳ 

ہارون یحیٰ


مکمل تحریر >>

Monday, February 3, 2014

اے میری پیاری بیٹی!۔۔۔ ایک عرب ماں کی نصیحت

عوف بن محلم ، ایک عرب سردار تھا۔ ریاست کے بادشاہ ، حارث بن عمرو نے اسکی بیٹی کی بہت تعریف سنی۔ اس نے ایک دانا  اور تجربہ کار عصام نامی عورت کو عوف کی بیٹی کو دیکھنے بھیجا ۔ اسنے واپس آکر بیٹی کی بہت تعاریف کی  اور اسکے خصائل و شمائل کا جامع تذکرہ کیا، یوں رشتہ طے گیا۔ رسم نکاح کے بعد ماں نے اپنی لخت جگر کو رخصت کرتے وقت  جو نصیحت کی اسکا ترجمہ  پیش خدمت ہے۔
"اے میری پیاری بیٹی!"
"اگر وصیت کو اس لیے ترک کردینا روا ہوتا  کہ  جس کو وصیت کی جا رہی ہے  وہ خود عقلمند اور زیرک ہے  تو میں تجھے وصیت نہ کرتی۔"
"لیکن وصیت غافل کے لیے یاداشت اور عقلمند کیلیے ایک ضرورت ہے۔"
اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے اس لیے مستغنی ہوسکتی  کہ اس کے والدین بڑے دولتمند ہیں اور وہ اسے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں تو تُو سب سے زیادہ  اس بات کی مستحق تھی کہ اپنے خاوند سے مستغنی ہوجائے۔"
" لیکن حقیقت یہ ہے کہ عورتیں مردوں کیلیے پیدا کی گئی ہیں اور مرد  عورتوں کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔"
" اے میری نورِ نظر ! آج تو اس  فضا کو الوداع کہہ رہی ہے جس میں تو پیدا ہوئی۔"
"آج تو اس نشیمن کو پیچھے چھوڑ رہی ہے  جس میں تُو نے نشونما پائی۔"
"ایک ایسے آشیانے کی طرف جا رہی ہے جسے تو نہیں جانتی۔"
"اور ایک ایسے ساتھی کی طرف کوچ کرہی ہے جس کو تو نہیں پہچانتی۔"
" پس وہ تجھے اپنے نکاح میں لینے سے تیرا نگہبا ن اور مالک بن گیا۔"
" تو اس کیلیے فرمانبردار کنیز بن جا ،  وہ تیرا وفادار غلام بن جائے گا۔"
" اے میری لخت جگر! اپنی ماں سے دس باتیں یاد کرلے یہ تیرے لیے قیمتی سرمایہ اور مفید یادداشت ثابت ہونگی۔"
" سنگت قناعت سے دائمی بنے گی اور باہمی میل جول اس کی بات سننے اور اسکا حکم بجا لانے سے پرمسرت ہوگا۔"
" جہاں جہاں اس کی نگاہ پڑتی ہے  ان جگہوں کا خاص خیال رکھ  اور جہاں جہاں اس کی ناک سونگھ سکتی ہے اس کے بارے میں محتاط رہ تاکہ اس کی نگاہ تیرے جسم اور لباس  کے کسی ایسے حصہ پر نہ پڑے جو بدنما اور غلیظ ہو۔ اور تجھ سے اسے بدبو آئے بلکہ خوشبو سونگھے۔ اس بات کا خاص خیال رکھنا۔"
" سرمہ حسن کی افزائش کا بہترین ذریعہ  اور پانی گمشدہ خوشبو سے بہت ذیادہ پاکیزہ ہے۔"
" اس کے کھانے کے وقت کا خاص خیال رکھنا  اور جب وہ سوئے اس کے آرام میں مخل نہ ہونا۔ کیونکہ بھوک کی حرارت شعلہ بن جا یا کرتی ہے اور نیند میں خلل اندازی بغض کا باعث بن جاتی ہے۔"
" اس کے گھر اور مال کی حفاظت کرنا اس کی ذات کی ، اسکے نوکروں کی اور اس کے عیال کی ہر طرح خبر گیری کرنا۔"
" اس کے راز کو افشا مت کرنا  اور نہ اس کی نافرمانی کرنا اگر تو اس کے راز کو افشا کردے گی  تو اس کے غدر سے محفوظ نہیں رہ سکے گی اور اگر تو اس کے حکم کی نافرمانی کرے گی تو   اس کے سینہ میں تیرے بارے میں غیظ و غضب بھر جائے گا۔"
" جب وہ غمزدہ اور افسردہ ہو تو خوشی کے اظہار سے اجتناب کرنا اور جب وہ شاداں و فرحاں ہو تو  اسکے سامنے منہ بسور کر مت بیٹھنا۔ پہلی خصلت آدابِ زوجیت  کی ادائیگی  میں کوتاہی ہے اور دوسری خصلت  دل کو مکدر کردینے والی ہے۔"
" جتنا تم سے ہو سکے اسکی تعظیم بجا لانا  وہ اسی قدر تمہارا احترام  کرے گا۔"
" جس قدر تم اس کی ہم نوا  رہو گی  اتنی قدر ہی وہ تمہیں اپنا رفیق حیات بنائے رکھے گا۔"
" اچھی طرح جان لو تم جس چیز کو پسند کرتی ہواسے نہیں پا سکتی جب تک تم اسکی رضا کو اپنی رضا پر اور اسکی خواہش کو  اپنی خواہش  پر ترجیح نہ دو خواہ وہ بات تمہیں پسند ہو یا نہ ہو۔"
" اے بیٹی! اللہ تعالیٰ تیرا بھلا کرے۔"
چنائچہ وہ بچی رخصت ہو کر اپنے شوہر کے پاس آئی  ۔ اپنی ماں کی ان زریں نصائح کو اسنے اپنا حرزجان بنائے رکھا  اور اسنے عزت و آرام کی  کی قابل رشک زندگی گزاری ۔ بادشاہ اس کی بڑی قدر کیا کرتا تھا اور اس کی نسل سے یمن کے سات بادشاہ تولد ہوئے۔

(بلوغ الارب، جلد دوم، صفحہ 19)
مکمل تحریر >>

Sunday, February 2, 2014

میاں بیوی کا باہمی تعلق


"میں اس کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتی۔"  بیٹی نے ہٹ دھرمی سے کہا
"لیکن کیوں بیٹا؟ ابھی تو تمہاری شادی کو کچھ ماہ ہی ہوئے ہیں۔" ماں حیران و پریشان تھی
"مما اس کی حرکتیں مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔"  بیٹی نے غصے سے کہا
"کیوں کیا  وہ عادتوں کا خراب ہے۔" ماں پریشان ہوگئی
"پتہ نہیں بس اس کی سوچ مجھ سے نہیں ملتی۔ میں باہر دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا چاہتی ہوں زندگی انجوائے کرنا چاہتی ہوں لیکن وہ دقیانوس انسان چاہتا میں زیادہ وقت گھر میں گزاروں۔ مما ایسا کیسے ہوسکتا ہے میں پہلے بھی تو گھر سے باہر ہی رہتی تھی پاپا یا آپ نے تو کبھی نہیں روکا۔" بیٹی نے اکتاہٹ سےکہا
"تو بیٹا اب تمہاری شادی ہوگئی ہے نہ تمہاری زمہ داریاں بڑھ گئی ہیں ۔ پہلے تم پہ ایسی کوئی ذمہ داری نہیں تھی۔" ما ں نے سمجھانے کی ناکام کوشش کی۔
"کیا مطلب ہے آپ کا کیا آپ نے مجھے اسکا نوکر بنا کر رخصت کیا ہے۔ میں اسکی اور اسکے گھر والوں کی خدمت کروں۔ میری اپنی کوئی زندگی نہیں ہے کیا۔؟" بیٹی نے طیش  میں آکر کہا
"لیکن بیٹا اب تم اپنے آپ کو تھوڑا شوہر کیلیے بدلنے کی کوشش کرو۔"  ماں بے بس محسوس  کرہی تھی
"میں کیوں بدلوں اپنے آپکو ، وہ کیوں نہیں بدلتا۔" بیٹی کی آواز غصے میں بہت بلند ہوگئی تھی
"لیکن بیٹا۔۔۔۔"
"بس نہ مما!  مجھے نہیں رہنا اس بدتمیز اور دقیانوس کے ساتھ ۔ "
۔
۔
۔
اس کے بعد وہی جو ہر اس طرح کے معاملے میں ہوتا ہے ۔ طلاق!
معاشرہ خاندان سے وجود میں آتا ہے اور ایک خاندان  میاں بیوی کے باہمی تعلقات سے قائم ہوتا ہے ۔ اگر میاں بیوی کا رشتہ ہی کمزور ہوگا تو خاندان کبھی مضبوط نہیں ہوسکتا اور ایک کمزور خاندان ایک کمزور معاشرہ تخلیق کرتا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ  آج کا معاشرہ بہت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے  جس کی وجہ  طلاق  کی شرح میں تیزی سے  اضافہ ہے۔  طلاق کی بہت بڑی وجہ  قوت برداشت اور احترام کا ختم ہونا ہے۔ اس کے علاوہ بڑی حد تک فنانشیل ڈفرنسز اور عورت کی خودمختاری  بھی طلاق کا سبب بنتی ہے۔ 
میاں بیوی کے رشتے میں  عورت کا رویہ بہت اہم ہے اس لیے ہمیں  بیٹیوں کی صحیح تربیت کی بہت ضرورت ہے۔ایک گھر کی مضبوط بنیاد عورت بناتی ہے۔ اگر ایک عورت چاہے تو گھر بگاڑ سکتی ہے اور چاہے تو سنوار بھی سکتی ہے۔  یہ لڑکیوں کی تربیت پر منحصر ہے۔ آج کل کی مائیں اس بات پر توجہ نہیں دیتیں۔  انکو شادی کے وقت یہ تو  سیکھایا جاتا ہے کہ سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ کیسے رہنا ہے لیکن افسوس یہ نہیں بتایا جاتا کہ شریک سفر کے ساتھ کیسے اچھی زندگی کیسے گزاری جائے۔  
آج کےماڈرن معاشرے سے بہتر تو  زمانہ جاہلیت کی بدو عورتیں تھیں۔ رشتہ ازدواج کی اہمیت کے پیش نظر زمانہ جاہلیت کی مائیں اپنی بچیوں کی شادی کےبعد انہیں رخصت کرتے  وقت جو پندو نصاح  کرتی تھیں انہیں پڑھ کرانکی ذہانت و فراست پر حیرت ہوتی ہے۔ موجودہ زمانے  میں میاں بیوی کے تعلقات کی کشیدگی کو ان ہدایات پر  عمل کر  اس کشیدگی اور بیگانگی  کو محبت و الفت میں بآسانی بدلا جا سکتا ہے۔
اس نصیحت کی طوالت کی وجہ سے  کا صرف اسکا خلاصہ پیشِ خدمت ہے۔ انشااللہ اسکا پورا متن اگلی پوسٹ میں شیئر کروں گی ۔
!اے میری پیاری بیٹی"
مردوں کو عورتوں کے لیے پیدا کیا گیا اور عورتوں کو مردوں کیلیے اس لیے کوئی بھی عورت اس بات پر کہ اسکے ماں باپ بہت دولتمند اور اپنی بیٹی سے بہت پیار کرتے ہیں ،  اپنے شوہر سے مستغنی نہیں ہوسکتی کیونکہ نکاح کی صورت میں شوہر عورت کا نگہبان اور مالک بن جاتا ہے۔بیوی جتنا اپنے شوہر کا حکم بجا لاتی  ہے ،مرد اس کی اتنی ہی قدر کرتا ہے  اور اس کی ہر بات مانتا ہے۔اپنے حسن و جمال کا خاص خیال رکھنا ۔  اس کے کھانے پینے اور آرام کا بھی خاص خیال رکھنا۔اس کے گھر اور مال کی حفاظت کرنا اور اس کےنوکروں اور اہل و عیال کی خبر گیری کرتی رہنا۔اسکے راز کو اپنا راز سمجھنا اور اس کی کی کبھی بھی نافرمانی نہ کرنا۔ جب وہ غمزدہ ہو تو اسکے سامنے خوشی کا اظہار نہ کرنا اور جب وہ خوش ہو تو اس کے سامنے منہ بنا کر مت بیٹھنا۔اس کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ پیش آنا وہ بھی اتنی ہی تمہاری قدر کرے گا۔"
بہت سی بیویاں اس زعم میں ہوتی ہیں کہ مرد و عورت برابر ہیں تو ہم شوہروں کو اتنی اہمیت کیوں دیں۔ وہ شاید یہ بات بھول جاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مردوں کو عورتوں پر قوام بنایا ہے۔ بیٹی کی شادی صرف جہیز کا نام نہیں  بلکہ اسکو  اس قابل بنانے کا بھی نام ہے کہ وہ آگے جا کر اپنے شوہر کی عزت کرسکے۔ کاش! اس ماڈرن زمانے میں بھی ایسا ہو کہ بیٹی کی شادی کے وقت مائیں ایسی نصیحتیں بیٹی کو کریں اور  اللہ تعالیٰ ہمیں ان نصیحتوں پر عمل کرنے کے توفیق عطا فرمائے۔ آمین  ثم آمین
 ایسا نہیں ہے کہ صرف عورتوں کی ہی غلطی ہوتی ہے بلکہ رشتہ ازدواج گاڑی کے دوپہیوں کی طرح ہوتا ہے دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں تب ہی منزل تک پہنچ کر کامیاب ہوتے ہیں۔

اللہ عزوجل کا ارشاد گرامی ہے: ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجۃ

یعنی "جس طرح مردوں کا حق عورتوں پر ہے اسی طرح عورتوں کا حق بھی مردوں پر ہے۔
 ایسا نہیں ہے کہ صرف مردوں کے حقوق عورتوں پر اور شوہروں کے حقوق بیویوں پر ہوتے ہیں۔ نہیں بلکہ اسی طرح عورتوں کے بھی حقوق مردوں پر اور بیویوں کے حقوق بھی شوہروں پر ہوتے ہیں۔ عورتیں جانور یا جائیداد نہیں کہ مال کی طرح ان پر مردوں کو تصرف کا حق حاصل ہو جائےاور شوہر کہیں اس سے بھول میں نہ پڑجائیں کہ ان کے صرف حقوق ہی حقوق ہیں اور فرض و ذمہ داری کچھ نہیں؟ فرائض ان پر بھی اسی طرح عائد ہوتے ہیں جس طرح ان کے ان کی بیویوں پر۔ 

ایک اور جگہ قرآن مجید میں ہے کہ :ھن لباس لکم وانتم لباس لھن
"وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو۔"
مرد عورت دونوں کو حکم ہے کہ وہ ایک دوسرے کےلیے مخلص اور وفادار رہیں بلکہ یک جان دو قالب ہوں، ایک دوسرے 
کے پردہ پوش، ایک دوسرے کی زینت اور ایک دوسرے کی تکمیل کا ذریعہ ہوں۔

اکثر عورتوں میں ضد اور ہٹ دھرمی ہوتی ہے۔ مرد کو چاہیےکہ اس کی ضد کے مقابلے میں سختی اور درشتی سے کام نہ لے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
عورتوں کے ساتھی نیکی کا برتاؤ کرو کہ ان کی پیدائش ٹیڑھی پسلی سے ہوئی ہے وہ تیرے لیے کبھی سیدھی نہیں ہوسکتی۔ اگر تو اسے برتنا چاہے تو اسی حالت میں برت سکتا ہے اور سیدھا کرنا چاہے گا تو توڑ دے گا اور توڑنا طلاق دینا ہے۔ (مسلم)
اس کے علاوہ ایک اور جگہ پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
"ایمان والوں میں زیادہ مکمل ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اخلاق میں زیادہ اچھے ہیں اور تم میں سے اچھے وہ لوگ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہیں۔"
  (ترمذی: ۱۱۶۲، عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ)  



مکمل تحریر >>

My Blog List