Saturday, December 13, 2014

سیرت النبی ﷺ پر ایک مختصر اور جامع کتاب .....مصنفہ: مدیحہ فاطمہ

A book written by me as a part of biographical Studies of Islamic Studies Program.(ISP)
مکمل تحریر >>

Monday, September 15, 2014

Hurry To success




Zara Rizwan (Zara Zakia)

Comes to Betterment (حئی علی الفلاح), meaning of this sentence is very clear & obvious. Word Falaah representing betterment, success & improvement where ALLAH Azza wajallah openly offers us to get success, permit us to take everything we want yearn for. But had we ever think which kind of Falaah is this? How success can be gotten by going toward advancement? Have we ever think over it that this Falaah is hollow, ineffective & meaningless if we close our eyes to Salah (Salaat) where ALLAH Azza wajallah says, “Come to Salaat (حئی علی الصلاۃ) just before (حئی علی الفلاح)?
Deal for Falaah comes just after with Salaat, So, moving toward falaah is nothing without offer praying. It’s like a tree having no fruit, like a well having no water, body that hasn’t heart. Daily five times a day, Moaz’zan gives us message of ALLAH to go for success, have blessing of Him and acquire everything we always desired for.

You know why ALLAH SWT calls for Salah before Falaah? Because Namaz (Salah) makes us modest, sincere, internally strong & kind hearted. It teaches us to love humankind, give us lesson that we should be kind & do well with people to get good for ourselves.  It is Namaz that makes all sources available for us to go for betterment & success (falaah), not only the success of world but the life of hereafter as well. 
مکمل تحریر >>

Thursday, July 3, 2014

روزہ اور خواتین: چند نصیحتیں

مر د اور خواتین ثواب میں برابر ہیں۔  اسی لیے مردوں کی طرح  عورتوں سے بھی شریعت اسلامیہ تقاضہ کرتی ہے کہ وہ ماہِ رمضان  کو  ڈھیروں ثواب  کے حصول کے لیے موقع غنیمت جانے اور اس میں ایسے اعمال  انجام دیں جو  نہ صرف ان کے بلکہ  ان کے اہل خانہ  کے لیے بھی ابدی فائدے کا باعث بنیں۔ اس سلسلے میں چند نصیحتیں پیش ِ خدمت ہیں جو کہ  انتہائی مناسب اور قابل عمل  ہیں:
  1.  رمضان المبارک عبادتوں کا مہینہ ہے ۔ یہ اللہ کا مہینہ ہے۔ اس لیے مسلمان خاتون کو چاہیے کہ اس مہینے سے  مکمل فائدہ اٹھاتے ہوئے  اس میں ذیادہ سے ذیادہ وقت کو عبادت  میں گزارے مثلاً  تلاوتِ قرآن مجید، ذکر و اذکار ، دعائیں اور نوافل وغیرہ  میں  مصروف رہے۔  اس لیے کہ اس مہینے میں  کیے گئے  نیک اعمال کا اجر ستر گنا بڑھ جاتا ہے۔
  2.  ہمارے بچے ہم سے سیکھتے ہیں۔ اس لیے جب رمضان کا مہینہ آئے تو بچوں کو اس کی اہمیت سے آگاہ کریں۔  ان کی اس کی قدروقیمت کی طرف رہنمائی کریں۔  اور انہیں آہستہ آہستہ روزے کا عادی بنائیں۔ نیز ان کی سمجھ کے مطابق  ان کو رمضان کے احکامات اور مسائل بیان کریں۔ تاکہ ان میں اطاعت گزاری اور نیکی کی عادت پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ رمضان کی اصل روح سے واقفیت بھی پیدا ہو۔
  3.  آج کل ہمارے ہاں یہ تصور عام ہوگیا ہے کہ رمضان کھانے پینے کا مہینہ ہے۔  اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔  جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ رمضان عبادت کا مہینہ ہے نہ کہ کھانے پینے کا۔ اس کے لیے مختلف قسم کے کھانے تیار کرنے میں  کم سے کم وقت خرچ کریں۔ بہنوں کو ایسا کھانا تیار کرنا چاہیے جو ان کے اہل خانہ کے لیے مناسب ہو اور اس میں کسی قسم کا تکلف اور اسراف موجود نہ ہو۔  اس طرح،  کھانے سےذیادہ   اہم چیزیں ضائع ہونے کا خدشہ نہیں رہے گا۔ یعنی کہیں ایسا نہ ہو کہ  آپ کھانا تیار کرنے میں اس حد تک مشغول و مصروف ہیں کہ  عبادت کے لیے وقت ہی نہ نکال سکیں اور نیکیوں کے بڑھانے کا سنہری موقع  آپ کے ہاتھوں سے نکل جائے۔ نیز افطاری کا سامان اس طرح تیار کریں کہ افطاری سے پہلے دعا کے لیے مناسب وقفہ مل جائے۔ اس طرح نہیں کہ آپ ابھی تک پکوڑے تلنے میں مصروف ہیں اور ادھر آذان شروع ہوجائے اور آپ  جھٹ سے روزہ  افطار کرلیں۔ دعا مانگنا تو دور بلکہ  افطاری کی کیفیت سے بھی نابلد رہیں۔
  4.  روزہ اور نماز ایک ساتھ ساتھ ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اجر کو مکمل کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ نمازوں سے غفلت برتتے   ہیں اور رمضان کی  بے ضروری مصروفیات کے باعث یا تو نماز چھوڑ دیتے ہیں یا جان بوجھ کر قضا کر دیتے ہیں۔  یاد رکھیں ! نمازیں اول وقت میں ادا کریں ۔ صرف رمضان ہی میں نہیں بلکہ عام دنوں میں بھی اس پر عمل کریں کیونکہ اللہ کے ہاں  اول وقت  میں پڑھی جانے والی نماز بہت مقبول ہے۔

لہذا ہماری خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اسلامی واجبات پر عمل کریں ، نماز کو ان کے اوقات میں ادا کریں ، مکمل روزے رکھیں، زکوٰۃ بروقت ادا کریں ، اگر طاقت ہو تو بیت اللہ کا  حج  اور عمرہ ادا کریں ، بھلا ئی کا حکم دیں، برائی سے روکیں، اور استطاعت کے مطابق اپنے حلقہ اثر میں اسلام کی دعوت کا فریضہ انجام دیں۔  جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :
مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَنُحۡیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً ۚ وَ لَنَجۡزِیَنَّہُمۡ اَجۡرَہُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۷

"جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن با ایمان ہو تو ہم یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔‏" ( سورۃ النحل: ٩٧)
مکمل تحریر >>

Saturday, April 12, 2014

بیاضِ مدیحہ: Gap analysis of todays society with Quranic societ...

بیاضِ مدیحہ: Gap analysis of todays society with Quranic societ...: اسلامی معاشرہ  ہمیں تمام انسانوں کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اور ایک ایسا معاشرہ بنانے کا حکم دیتا ہے جس سے اخلاقی اور  معاشرتی ب...
مکمل تحریر >>

Friday, April 11, 2014

کیا آپ اپنی دشمنیاں ختم کرنا چاہتے ہیں؟ ۔۔۔۔۔۔ خاندانی اور نسلی دشمنیاں ختم کرنے کا قرآنی طریقہ کار



سورہ   فُصّلٰت آیت ٣٤ میں اللہ  تعالیٰ نے فرمایا :
وَ لَا تَسۡتَوِی الۡحَسَنَۃُ وَ لَا السَّیِّئَۃُ ؕ اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَ بَیۡنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ ﴿۳۴

"اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہو سکتی تو (سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو (ایسا کرنے
 سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے ‏"   ﴿٤٠: ٣٤﴾

اس آیت میں  ہم سب کے لیے ایک اہم اخلاقی ہدایت  موجود ہے کہ برائی کو اچھائی کے ساتھ ٹالو یعنی برائی کا بدلہ احسان کے ساتھ، زیادتی کا بدلہ عفو کے ساتھ غضب کا صبر کے ساتھ بےہودگیوں کا جواب چشم پوشی کے ساتھ اور مکروہات کا جواب برداشت اور حلم کے ساتھ دیا جائے اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہارا دشمن دوست بن جائے گا دور دور رہنے والا قریب ہو جائے گا اور خون کا پیاسا تمہارا گرویدہ اور جانثار ہو جا‏ئے گا۔ اور ویسے بھی  ایک مومن قانت اور خصوصاً داعی الی اللہ کا مسلک  بھی یہ ہونا چاہیے کہ برائی کا جواب برائی سے نہ دے بلکہ جہاں تک گنجائش ہو برائی کے مقابلہ میں بھلائی سے پیش آئے۔ اگر کوئی اسے سخت بات کہہ  بھی دے یا برا معاملہ کرے تو اس کے مقابل وہ طرز اختیار کرنا چاہیے جو اس سے بہتر ہو۔ مثلاً غصہ کے جواب میں بردباری، گالی کے جواب میں تہذیب و شائستگی اور سختی کے جواب میں نرمی اور مہربانی سے پیش آئے۔ اس طرز عمل کے نتیجہ میں ہو گا یہ کہ سخت سے سخت دشمن بھی ڈھیلا پڑ جائے گا۔ اور گو دل سے دوست نہ بنے تاہم ایک وقت آئے گا جب وہ ظاہراً        ایک گہرے اور گرم جوش دوست کی طرح   بر تاؤ کرنے لگے گا۔ بلکہ ممکن ہے کہ کچھ دنوں بعد سچے دل سے دوست بھی بن جائے اور دشمنی و عداوت کے خیالات یکسر دل  سے نکل جائیں۔

 جیسا آیت   "عسی اللہ ان یجعل بینکم وبین الذین عادیتہم منہم مودۃ" (سورہ ممتحنہ، رکوع٢) ہاں کسی شخص کی طبیعت کی افتاد ہی سانپ بچھو کی طرح ہو کہ کوئی نرم خوئی اور خوش اخلاقی اس پر اثر نہ کرے وہ دوسری بات ہے مگر ایسے افراد بہت کم ہوتے ہیں۔ بہرحال دعوت الی اللہ کے منصب پر فائز ہونے والوں کو بہت زیادہ صبر و استقلال اور حسن خلق کی ضرورت ہے۔
عام زندگی میں  اگر ہم اس  گوہر ہدایت کو لاگو کر لیں تو ہم بہت سی مشکلات سے بچ سکتے ہیں۔ خاندانی اور قبائلی چپقلش کہاں نہیں ہوتی۔ لیکن  ان کو بھی اسی اصول پر عمل پیرا ہو کر ختم کیا جا سکتا ہے۔ ایک انسان کب تک آپ کو مار سکتا ہے۔ اگر جواباً ہم بھی برابر ہاتھ اٹھائیں  گے  تو یہ لڑائی طول پکڑ سکتی ہے۔ اسی طرح اگر بحث برائے بحث کی جائے تو بحث کبھی ختم نہیں ہوتی  بلکہ بڑھتی ہی رہتی ہے نتیجتاً غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اگر ہم پہلے ہی بحث کے جواب میں خاموش ہو جاتے تو نوبت یہاں تک نہ آتی۔ بلکہ  آپ کے خاموش رہنے سے اس کا غصہ بھی ٹھنڈا پڑ جائے گا  اور کچھ دیر تک وہ نارمل بھی ہوجائے گا۔
مکمل تحریر >>

Thursday, February 20, 2014

ہمارے اعضاء ہمارے خلاف!!!

انسان ایک بےبس مخلوق ہے۔ اسکا اختیار اسکے اپنے ہاتھ میں نہیں ہے۔  جب  قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ روزِ آخرت اسکے ہاتھ،  پاؤں، زبان اور جلد اسکے خلاف گواہی دیں گے تو اس میں اہل بصیرت کے لیے کوئی اچھنبے کی بات نہیں ۔ کیونکہ اسکو معلوم ہے کہ یہ ہاتھ، پاؤں اور زبان  اسکے نہیں وہ اسکے مالک نہیں مالک تو صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہیں  ۔  بظاہر ہم کتنا خیال رکھتے ہیں اپنے ہاتھوں اور پیروں کا  ہزاروں خرچ کرتے ہیں  انکی خوبصورتی پر ، لیکن جن سے ہم اتنا پیار کرتے ہیں وہ ہی روزِ آخرت ہمارے خلاف ہوجائیں گے۔
یہ تو  اہل ایمان  کیلیے ایک دلیل ہے۔  لیکن سائنسی دلیل بھی موجود ہے۔ ہارڈ ڈسک ، مائیکرو ایس ڈی،  میموری کارڈ کا ہمارے اجسام میں موجود ہونا اور ہمارے  ہر ہر عمل کو  ریکارڈ کرنا   ممکن ہے۔ ہارڈ ڈسک ، مائیکرو ایس ڈی،  میموری کارڈ کے مین کمپونٹس سیلیکون اور کلورین ہیں۔  اور حیرت انگیز طور پر  یہ دونوں ایلیمنٹس  ( عنصر) ہمارے جسم  میں موجود ہیں۔ سیلیکون  ہمارے پورے جسم کے خون  میں بھی موجود ہے۔ پورے انسانی جسم میں سیلیکون کی مقدار 2-1 گرام ہے۔ ہڈیوں میں بھی سیلکون پایا  جاتا ہے اور اگراس کی  کمی واقع ہوجائے تو  ہڈیوں کی گروتھ اثر انداز ہوتی ہے اور متبادل کے طور پر  ڈاکٹرز سیلیکون کو ڈائیٹری سپلیمنٹ  کے طور پر تجویز کرتے ہیں۔ کتنی حیرت کی بات ہے زیادہ تر ہڈیاں ہمارے ہاتھوں اور پیروں میں ہی موجود ہوتی ہے۔ اور  اللہ نے ایسا نطام بنا دیا کہ میموری کارڈ کے مین ایلیمنٹ سیلیکون کی کمی ہوجائے تو    مصنوعی مین میڈ سیلیکون سے اسکی کمی پوری کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ  قدرتی پانی  میں25-5 ملی گرام پر لیٹر  کی مقدار سے سیلیکون موجود ہوتا ہے اور ہمارے جسم کا 72 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے۔  دوسرا بنیادی ایلیمنٹ کلورین  بھی ہمارے جسم میں 95گرام/ 0.14 فیصد کی مقدار سے موجود ہے۔ تو یہ کیوں ممکن نہیں کہ  اللہ نے ہمارے جسم میں ایک پورا ڈیٹا بیس سیٹ کیا ہوا ہے جو ہمارے اعمال کا حساب رکھ رہا ہے۔  بس اسکے زبان دینے کی دیر ہے اور یہ ہمارے سارے اعمال کھول کر بیان کردیں گے۔ بلکل ایسے ہی جیسے ہارڈ ڈسک ،  مائیکرو ایس ڈی،  میموری کارڈ موبائل اور کمپیوٹر میں جانے سے پہلے بےزبان ہیں اور جب وہ  انسے اٹیچ ہوجاتے ہیں تو ان میں موجود  وڈیوز بمع تصاویر بول اٹھتی ہیں۔  اسی طرح جب اللہ تعالیٰ ہمارے اعضاء کو قوت گویائی عطا کریں گے تو یہ بھی بول اٹھے گے۔ اس لیے ہمیں کچھ بھی کرنے،  بولنے اور سننے سے پہلے اس  بات کو یاد رکھ لینا چاہیے  کہ ہم کسی طرح بچ نہیں سکتے ہماری اپنے ہی چیزیں ہمارے خلاف گواہی دیں گیں۔


صرف ہمارے اجسام ہی نہیں اس پوری کائنات کا ذرہ ذرہ ہر پتھر اور پہاڑ  تک ہمارا ریکارڈ رکھ رہے ہیں۔ ہماری پوری زمین کی  کی ٹھوس  پرت  کا 80-90 فیصد  حصہ اسی سیلیکا اور سیلیکون کمپوننٹس سے مل کر بنا ہے۔ کائنات کی ہر ہر چیز ہمارا ریکارڈ رکھ رہی ہے۔ تبھی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ کہ ہم آخرت کے روز  سب اعمال نکال لائیں گے بے شک وہ رائی کے دانے کے برابر بھی کیوں نہ ہو اور کسی پہاڑ میں بھی کیوں نہ چھپا ہو۔ اس لیے ہمیں اللہ اور اسکے حساب سے ڈرنا چاہیے۔ لیکن لوگوں کو جب یہ باتیں بتائی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ  پلیز ہمیں ڈراؤ مت۔ کیوں نہ ڈریں ہم؟   اللہ تو خود فرماتے ہیں کہ  مجھ سے ڈرو تو پھر ہم کیوں نہ ڈریں؟۔ اللہ سے وہی ڈرتے ہیں جو کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں۔  اللہ ہم سب کو کائنات میں غور و فکر کرنے کی صلاحیت  عطا فرمائے اور ہمارے دل خوف ِ خدا سے بھر جائیں۔ آمین ثم آمین



sources:

مکمل تحریر >>

Tuesday, February 11, 2014

کچھ لوگ ناخوش ہیں اگرچہ وہ کہتے ہیں کہ وہ اللہ پر یقین رکھتے ہیں! (گیسٹ پوسٹ)

قرآن کی یہ آیت: "یہ درجات میں مختلف ہونگے اور اللہ تعالی خوب دیکھتے ہیں-" سورۃ آل عمران ۱۶۳ ایک بہت ہی اہم سچائی کی طرف ہماری توجہ مبذول کرواتی ہے۔کچھ لوگ ایمان کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔مگر جو ایمان والے ہیں انکے دلوں میں بھی اللہ کا خوف اور ایمان مختلف درجہ کا ہوتا ہے۔قرآن میں اللہ پاک ان لوگوں کا جو ایمان نہیں رکھتے حوالہ اس آیت میں دیتے ہیں 
یہ گنوار کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے،تم ایمان تو نہیں لائے یوں کہو کہ ہم مطیع ہو گئے اور ابھی تک ایمان تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا-" سورۃ الحجرات۱۴
: ایک دوسری آیت میں اللہ پاک ہمیں بتا تے ہیں کہ 
ایمان والوں میں کچھ لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں، کچھ درمیان میں اور کچھ ترقی کر کے آگے نکل جاتے ہیں۔پھر یہ کتاب ہم نے ان لوگوں کے ہاتھ میں پہنچائی جنکو ہم نے اپنے تمام دنیا کے بندوں میں سے پسند فرمایا۔پھر بعض ان میں سے اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعض ان میں سے اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں اور یہ بڑا فضل ہے- سورۃ فاطر۳۲ 

ان لوگوں میں جن کا قرآن میں ذکر ہے ایک گروہ ایسا بھی ہےجو اپنے ایمان کو غلط کاموں کے ساتھ ملا دیتے ہیں اسکا مطلب یہ ہے کہ سچے مذہب کی اعلی برتری سمجھ میں آنے کے باوجود اوریہ بات جانتے ہوئے کہ آخرت میں سوائے قرآن پر عمل کرنے کے اور کوئی بچت کا راستہ نہیں،اسکے با وجود وہ اپنے آپ کو مکمل طور پر غلط عقیدہ اور جہالت سے الگ کرنے میں ناکام ہوتے ہیں۔ایسے لوگ بظاہر ایمان کے ساتھ رہتے ہیں مگر اس لمحہ جب انکے ذاتی مفادات ایمان کے مقابلے میں آتے ہیں یا انکو کوئی پریشانی آتی ہے تو وہ بجائے قرآن والا رویّہ ظاہر کرنے کے ان لوگوں کا رویہ ظاہر کرتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے۔جب ایسے لوگوں کی بات ہوتی ہے تو صرف انہی لوگوں کے بارے میں دماغ میں نہیں آنا چاہیے جو صاف طور پر مذہب کا انکار کرتے ہیں اور ایک غیر مذہب رویہ اختیار کرتے ہیں بلکہ یہاں پر جن لوگوں کی بات ہو رہی ہے وہ وہ لوگ ہیں جو اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ قرآن کی بہت ساری باتوں پر عمل کرتے ہوئے اور ایک ایمان والے کی طرح رویہ ظاہر کرکے گزارتے ہیں۔البتہ کچھ خاص مواقع پر وہ یہ نہیں جانتے کہ قرآن کے مطابق وہ غلطی پر ہیں۔یا وہ صحیح طور پر اس بات کو سمجھ نہیں پاتے۔کچھ لوگ جو مسلمانوں کی طرح رہتے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انکے کچھ عقائد اور اعمال قرآن کے ساتھ اختلاف نہیں رکھتے اور وہ یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ قرآن میں کس چیز سے روکا گیا ہے اور کیا گناہ ہے۔


مثال کے طور پر،کچھ لو گ یہ نہیں سمجھتے یا سمجھنا نہیں چاہتے کہ جذباتیت ایک ایسی خصلت ہے جو قرآن کی اخلاقی اقدار کے بلکل برعکس ہے۔یہ بات صاف طور پر قرآن کی بہت ساری آیات میں دیکھی جا سکتی ہے۔جیسا کہ ایک رشتہ دار کی موت پر مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ وہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو گیا بلکہ اسکے لیے ایک نا ختم ہونے ولی زندگی کا آغاز ہے۔ اور اگر مرنے والا ایک ایمان والے کا رشتہ دار ہے تو وہ خوش ہوتا ہے اور امید کرتا ہے وہ جنت میں داخل ہوگا۔اسکے علاوہ موت ایک تقدیر کا حصہ ہے جو اللہ نے پہلے سے لکھی ہے۔جیسا کہ ہر چیز کی ایک وجہ ہے، موت بھی اللہ نے کسی وجہ سے بنائی ہے۔اسکے نتیجہ میں ایمان والا جانتا ہے کہ اسکے رشتہ دار کی موت میں بھی اللہ کی رحمت ہے اور وہ ایک اطمینان والا رویہ اختیار کرتا ہے۔مگر بہت سارے لوگ اس سچائی کو جانتے ہوئے بھی جہالت والا رویہ اختیار کرتے ہیں۔وہ بہت زیادہ جذباتیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔جو لوگ ایسے کردار کو قرآن کی اخلاقی اقدار کے مقابلے میں خامی یا کمزوری نہیں سمجھتے انکو اس چیز کو چھوڑنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔زندگی کے کچھ خاص لمحات میں وہ جاہلوں کی طرح رہتے ہیں۔وہ مشکلات اٹھاتے ہیں جو ایک ایمان والا نہیں اٹھاتا۔عام طور پر جاہلوں میں یہ رائج ہے۔اور ایمان والوں کے مقابلے میں زیادہ تر وہ اداس اور ناخوش رہتے ہیں۔


اسی وجہ سے، ہر وہ شخص جو یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ اللہ پر یقین رکھتا ہےاسکو یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا جس خوبصورت زندگی کا اللہ نے اس دنیا میں اور آخرت میں ایمان والوں سے وعدہ کیا ہےوہ اس علم کی روشنی میں اسکے پاس ہے یا نہیں۔ایک چھوٹے درجہ میں بھی اسکی زندگی میں اگر کوئی غم، پریشانی یا اداسی ہے تو اسکو یہ ایک تنبیہ کے طور پر لینا چاہیے اور اسکی فکر کرنی چاہیے۔ایک ایسے شخص کے لیے جو ساری زندگی تکلیف اور مصیبت اٹھاتاہے،اسکا حل بہت ہی سادہ ہے۔جیسا کہ ہمیں اس آیت میں بتایا گیا ہے
 اللہ کو تمھارے ساتھ آسانی کرنا منظور ہے ،دشواری منظور نہیں۔"  سورۃ بقرہ۱۸۵"
ہراس شخص کے لیے جو تھوڑا بہت بھی ظاہر میں یا چھپا ہوا جاہلانہ طرز عمل اختیار کرتا ہے، اسکے لیے حل بہت ہی سادہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ایسا طرز عمل چھوڑدے اور قرآن کے مطابق زندگی گزارے۔ہر کوئی جو اللہ پر یقین رکھتا ہے اورہر ایمان والا جو قرآن کے مطابق زندگی گزارتا ہے اسکو چاہیےکہ بہت ہی اخلاص کے ساتھ قرآن کو پڑھے اور ہر اس عمل اور اس سوچ سے اپنے آپ کو محفوظ کرے جو ان یمان والوں کے رویہ کے خلاف ہے جنکا قرآن میں ذکر ہے۔قرآن میں بتائی گئی سچائی کو صرف فرضی طور پر نہ لے بلکہ اسکو اپنی زندگی میں عمل میں لائے اور اسکی مشق کرے اور اسکو محسوس کرے اور ہر وقت اسکا تجربہ کرے۔اسکو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اللہ پاک ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہیں اور وہ ہر شخص کے پوشیدہ احساسات سے واقف ہےاور اسکے چھپے ہوئے فریب سے بھی واقف ہے۔


ایک مسلمان کو اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کو ہی کافی نہیں سمجھنا چاہیےاور اپنے اندر چھپی ہوئی ریا کاری کو غیر اہم یا نہ قابلِ توجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔اسکو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اللہ کے پاس غیر مخلص یا ریا کار کو سخت دکھ دینے والے عذاب کی طاقت ہے اور اسکو کسی بھی وقت حساب کتاب کے لیے حاظر کیا جائے گا اور پھر جو کچھ اسنے کیا ہوگا اسکے مطابق اسکے ساتھ معاملہ کیا جائے گا۔ہر چیز جو اس دنیا میں پیش آتی ہے وہ اللہ نے پیدا کی ہے۔ہر جاندار اللہ کو سجدہ کرتا ہے اور اسکے حکم کے مطابق عمل کرتا ہے۔مسلمانوں کو اطاعت گزاری اور بندگی کے ساتھ رہنا چاہیے اور سچائی کو بھولنا نہیں چاہیے اور زندگی کے ہر لمحہ میں یہ جاننا چاہیے کہ یقینا ً اس میں کوئی بہتری ہے اور اللہ کی رحمت ہے۔


جب کوئی شخص اس سچائی کو پہچانتا ہے تو وہ ایک فرق دیکھے گا ایک خوبصورت زندگی کی شروعات ہوتی ہے۔اس وقت وہ یہ بات جان لے گا کہ جسکو وہ خوشی سمجھتا رہا وہ تو کچھ بھی نہیں تھی اور اس نے  توکبھی اللہ کی رحمت کاصحیح مزہ اور ذائقہ چکھا ہی نہیں اور وہ کتنی عام اور معمولی سی چیزیں ہیں جنکو لوگ سمجھتے ہیں کہ انکو خوشیاں دیتی ہیں ۔وہ یہ محسوس کرے گا کہ ہر کھانا جو وہ کھاتا ہے اور ہر خوبصورت جگہ جو دیکھتا ہے ہر سانس جو وہ لیتا ہے اسکو ایک عظیم مسرت اور خوشی دیتا ہے جسکا اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ محبت کرنا،محبوب بننا، پختہ اخلاق کا اظہار،لوگوں میں نفیس خوبصورتی دیکھنا، ہنسنا ہنسانا اورخوشی محسوس کرنا، دوستی اور گفتگو اسکو ایک نئے مزے کی طرف لے جائیگی۔اسکی زندگی اور اسکے دنیاوی معاملات ایک فہم میں اسکو جنت کی زندگی کی یاد دلاتے ہیں۔


اس موقع پر البتہ ایک اور اہم مسئلہ کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔جب ہم ایک خوبصورت زندگی کی بات کرتے ہیں تو اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس دنیا میں جو ایک امتحان کی جگہ ہے لوگوں کو مشکلات یا پریشانیاں نہیں آینگی۔ہر شخص مرنےسے پہلے مختلف حالات اور واقعات سے آزما یا جائے گا۔جیسا کہ اللہ پاک نے قرآن کی آیات میں ہمیں بتایا ہے کہ ہر شخص مشکلات اور پریشانیاں دیکھے گا۔ کسی کو بھوک سے آزمایا جائیگا،کسی کو ڈر اور خوف سے اور کسی کو جائیداد اور پیاروں کے نقصان سے۔مگر یہ چیزیں ذرہ برابر بھی ایک ایمان والے کے دل میں جو خوشی اور اطمینان ہے اس پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔کیونکہ ایمان والا تقدیر پر راضی رہتا ہے،ہر واقعہ میں فائدہ اور رحمت دیکھتا ہے اور یقین رکھتا ہے اگرچہ وہ ذہنی طور پر اسکا ادارک نہیں کرسکتا اور اسمیں چھپی ہوئی خوبصورتی کو نہیں دیکھ سکتا۔واقعات کے بارے میں مثبت انداز میں سوچنا اور اللہ کی رضا پر راضی رہنا جو علیم ہے،حقیقی اور نہ ختم ہونے والی خوشی اور مسرت کا سبب بنتا ہے۔

یہ کتاب لوگوں کو سیدھا راستہ دیکھاتی ہے، دلی خوشی اور اطمینان جو ایک مومن تجربہ کرتا ہے، اللہ کی رحمت ہے،  ان ماننے والوں کے لیے جو حقیقی ایمان رکھتے ہیں۔

اللہ پاک اس معاملے کو مومن کے لیے اس دنیا میں اور آخرت میں ایک خوشخبر ی کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں۔وہ اللہ کے دوست ہیں جو ایمان لائے اور پرہیز رکھتے ہیں۔انکے لیے دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی خوشخبری ہے۔اللہ کی باتوں میں کچھ فرق نہیں ہوا کرتااور بے شک یہ بڑی کامیابی ہے-  سورۃ یونس۶۲-۶۴ 

ایک دوسری آیت میں اللہ پاک فرماتے ہیں کہ امن و حفاظت ان ماننے والوں کے لیے ہے جو حقیقی ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو غلط چیزوں کے ساتھ ملاتے نہیں ہیں۔

جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے ہیں ایسوں ہی کے لیے امن ہےاور وہ ہی سیدھی راہ پر چل رہے ہیں-" سورۃ الانعام۸۳ 

ہارون یحیٰ


مکمل تحریر >>

Monday, February 3, 2014

اے میری پیاری بیٹی!۔۔۔ ایک عرب ماں کی نصیحت

عوف بن محلم ، ایک عرب سردار تھا۔ ریاست کے بادشاہ ، حارث بن عمرو نے اسکی بیٹی کی بہت تعریف سنی۔ اس نے ایک دانا  اور تجربہ کار عصام نامی عورت کو عوف کی بیٹی کو دیکھنے بھیجا ۔ اسنے واپس آکر بیٹی کی بہت تعاریف کی  اور اسکے خصائل و شمائل کا جامع تذکرہ کیا، یوں رشتہ طے گیا۔ رسم نکاح کے بعد ماں نے اپنی لخت جگر کو رخصت کرتے وقت  جو نصیحت کی اسکا ترجمہ  پیش خدمت ہے۔
"اے میری پیاری بیٹی!"
"اگر وصیت کو اس لیے ترک کردینا روا ہوتا  کہ  جس کو وصیت کی جا رہی ہے  وہ خود عقلمند اور زیرک ہے  تو میں تجھے وصیت نہ کرتی۔"
"لیکن وصیت غافل کے لیے یاداشت اور عقلمند کیلیے ایک ضرورت ہے۔"
اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے اس لیے مستغنی ہوسکتی  کہ اس کے والدین بڑے دولتمند ہیں اور وہ اسے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں تو تُو سب سے زیادہ  اس بات کی مستحق تھی کہ اپنے خاوند سے مستغنی ہوجائے۔"
" لیکن حقیقت یہ ہے کہ عورتیں مردوں کیلیے پیدا کی گئی ہیں اور مرد  عورتوں کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔"
" اے میری نورِ نظر ! آج تو اس  فضا کو الوداع کہہ رہی ہے جس میں تو پیدا ہوئی۔"
"آج تو اس نشیمن کو پیچھے چھوڑ رہی ہے  جس میں تُو نے نشونما پائی۔"
"ایک ایسے آشیانے کی طرف جا رہی ہے جسے تو نہیں جانتی۔"
"اور ایک ایسے ساتھی کی طرف کوچ کرہی ہے جس کو تو نہیں پہچانتی۔"
" پس وہ تجھے اپنے نکاح میں لینے سے تیرا نگہبا ن اور مالک بن گیا۔"
" تو اس کیلیے فرمانبردار کنیز بن جا ،  وہ تیرا وفادار غلام بن جائے گا۔"
" اے میری لخت جگر! اپنی ماں سے دس باتیں یاد کرلے یہ تیرے لیے قیمتی سرمایہ اور مفید یادداشت ثابت ہونگی۔"
" سنگت قناعت سے دائمی بنے گی اور باہمی میل جول اس کی بات سننے اور اسکا حکم بجا لانے سے پرمسرت ہوگا۔"
" جہاں جہاں اس کی نگاہ پڑتی ہے  ان جگہوں کا خاص خیال رکھ  اور جہاں جہاں اس کی ناک سونگھ سکتی ہے اس کے بارے میں محتاط رہ تاکہ اس کی نگاہ تیرے جسم اور لباس  کے کسی ایسے حصہ پر نہ پڑے جو بدنما اور غلیظ ہو۔ اور تجھ سے اسے بدبو آئے بلکہ خوشبو سونگھے۔ اس بات کا خاص خیال رکھنا۔"
" سرمہ حسن کی افزائش کا بہترین ذریعہ  اور پانی گمشدہ خوشبو سے بہت ذیادہ پاکیزہ ہے۔"
" اس کے کھانے کے وقت کا خاص خیال رکھنا  اور جب وہ سوئے اس کے آرام میں مخل نہ ہونا۔ کیونکہ بھوک کی حرارت شعلہ بن جا یا کرتی ہے اور نیند میں خلل اندازی بغض کا باعث بن جاتی ہے۔"
" اس کے گھر اور مال کی حفاظت کرنا اس کی ذات کی ، اسکے نوکروں کی اور اس کے عیال کی ہر طرح خبر گیری کرنا۔"
" اس کے راز کو افشا مت کرنا  اور نہ اس کی نافرمانی کرنا اگر تو اس کے راز کو افشا کردے گی  تو اس کے غدر سے محفوظ نہیں رہ سکے گی اور اگر تو اس کے حکم کی نافرمانی کرے گی تو   اس کے سینہ میں تیرے بارے میں غیظ و غضب بھر جائے گا۔"
" جب وہ غمزدہ اور افسردہ ہو تو خوشی کے اظہار سے اجتناب کرنا اور جب وہ شاداں و فرحاں ہو تو  اسکے سامنے منہ بسور کر مت بیٹھنا۔ پہلی خصلت آدابِ زوجیت  کی ادائیگی  میں کوتاہی ہے اور دوسری خصلت  دل کو مکدر کردینے والی ہے۔"
" جتنا تم سے ہو سکے اسکی تعظیم بجا لانا  وہ اسی قدر تمہارا احترام  کرے گا۔"
" جس قدر تم اس کی ہم نوا  رہو گی  اتنی قدر ہی وہ تمہیں اپنا رفیق حیات بنائے رکھے گا۔"
" اچھی طرح جان لو تم جس چیز کو پسند کرتی ہواسے نہیں پا سکتی جب تک تم اسکی رضا کو اپنی رضا پر اور اسکی خواہش کو  اپنی خواہش  پر ترجیح نہ دو خواہ وہ بات تمہیں پسند ہو یا نہ ہو۔"
" اے بیٹی! اللہ تعالیٰ تیرا بھلا کرے۔"
چنائچہ وہ بچی رخصت ہو کر اپنے شوہر کے پاس آئی  ۔ اپنی ماں کی ان زریں نصائح کو اسنے اپنا حرزجان بنائے رکھا  اور اسنے عزت و آرام کی  کی قابل رشک زندگی گزاری ۔ بادشاہ اس کی بڑی قدر کیا کرتا تھا اور اس کی نسل سے یمن کے سات بادشاہ تولد ہوئے۔

(بلوغ الارب، جلد دوم، صفحہ 19)
مکمل تحریر >>

Sunday, February 2, 2014

میاں بیوی کا باہمی تعلق


"میں اس کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتی۔"  بیٹی نے ہٹ دھرمی سے کہا
"لیکن کیوں بیٹا؟ ابھی تو تمہاری شادی کو کچھ ماہ ہی ہوئے ہیں۔" ماں حیران و پریشان تھی
"مما اس کی حرکتیں مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔"  بیٹی نے غصے سے کہا
"کیوں کیا  وہ عادتوں کا خراب ہے۔" ماں پریشان ہوگئی
"پتہ نہیں بس اس کی سوچ مجھ سے نہیں ملتی۔ میں باہر دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا چاہتی ہوں زندگی انجوائے کرنا چاہتی ہوں لیکن وہ دقیانوس انسان چاہتا میں زیادہ وقت گھر میں گزاروں۔ مما ایسا کیسے ہوسکتا ہے میں پہلے بھی تو گھر سے باہر ہی رہتی تھی پاپا یا آپ نے تو کبھی نہیں روکا۔" بیٹی نے اکتاہٹ سےکہا
"تو بیٹا اب تمہاری شادی ہوگئی ہے نہ تمہاری زمہ داریاں بڑھ گئی ہیں ۔ پہلے تم پہ ایسی کوئی ذمہ داری نہیں تھی۔" ما ں نے سمجھانے کی ناکام کوشش کی۔
"کیا مطلب ہے آپ کا کیا آپ نے مجھے اسکا نوکر بنا کر رخصت کیا ہے۔ میں اسکی اور اسکے گھر والوں کی خدمت کروں۔ میری اپنی کوئی زندگی نہیں ہے کیا۔؟" بیٹی نے طیش  میں آکر کہا
"لیکن بیٹا اب تم اپنے آپ کو تھوڑا شوہر کیلیے بدلنے کی کوشش کرو۔"  ماں بے بس محسوس  کرہی تھی
"میں کیوں بدلوں اپنے آپکو ، وہ کیوں نہیں بدلتا۔" بیٹی کی آواز غصے میں بہت بلند ہوگئی تھی
"لیکن بیٹا۔۔۔۔"
"بس نہ مما!  مجھے نہیں رہنا اس بدتمیز اور دقیانوس کے ساتھ ۔ "
۔
۔
۔
اس کے بعد وہی جو ہر اس طرح کے معاملے میں ہوتا ہے ۔ طلاق!
معاشرہ خاندان سے وجود میں آتا ہے اور ایک خاندان  میاں بیوی کے باہمی تعلقات سے قائم ہوتا ہے ۔ اگر میاں بیوی کا رشتہ ہی کمزور ہوگا تو خاندان کبھی مضبوط نہیں ہوسکتا اور ایک کمزور خاندان ایک کمزور معاشرہ تخلیق کرتا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ  آج کا معاشرہ بہت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے  جس کی وجہ  طلاق  کی شرح میں تیزی سے  اضافہ ہے۔  طلاق کی بہت بڑی وجہ  قوت برداشت اور احترام کا ختم ہونا ہے۔ اس کے علاوہ بڑی حد تک فنانشیل ڈفرنسز اور عورت کی خودمختاری  بھی طلاق کا سبب بنتی ہے۔ 
میاں بیوی کے رشتے میں  عورت کا رویہ بہت اہم ہے اس لیے ہمیں  بیٹیوں کی صحیح تربیت کی بہت ضرورت ہے۔ایک گھر کی مضبوط بنیاد عورت بناتی ہے۔ اگر ایک عورت چاہے تو گھر بگاڑ سکتی ہے اور چاہے تو سنوار بھی سکتی ہے۔  یہ لڑکیوں کی تربیت پر منحصر ہے۔ آج کل کی مائیں اس بات پر توجہ نہیں دیتیں۔  انکو شادی کے وقت یہ تو  سیکھایا جاتا ہے کہ سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ کیسے رہنا ہے لیکن افسوس یہ نہیں بتایا جاتا کہ شریک سفر کے ساتھ کیسے اچھی زندگی کیسے گزاری جائے۔  
آج کےماڈرن معاشرے سے بہتر تو  زمانہ جاہلیت کی بدو عورتیں تھیں۔ رشتہ ازدواج کی اہمیت کے پیش نظر زمانہ جاہلیت کی مائیں اپنی بچیوں کی شادی کےبعد انہیں رخصت کرتے  وقت جو پندو نصاح  کرتی تھیں انہیں پڑھ کرانکی ذہانت و فراست پر حیرت ہوتی ہے۔ موجودہ زمانے  میں میاں بیوی کے تعلقات کی کشیدگی کو ان ہدایات پر  عمل کر  اس کشیدگی اور بیگانگی  کو محبت و الفت میں بآسانی بدلا جا سکتا ہے۔
اس نصیحت کی طوالت کی وجہ سے  کا صرف اسکا خلاصہ پیشِ خدمت ہے۔ انشااللہ اسکا پورا متن اگلی پوسٹ میں شیئر کروں گی ۔
!اے میری پیاری بیٹی"
مردوں کو عورتوں کے لیے پیدا کیا گیا اور عورتوں کو مردوں کیلیے اس لیے کوئی بھی عورت اس بات پر کہ اسکے ماں باپ بہت دولتمند اور اپنی بیٹی سے بہت پیار کرتے ہیں ،  اپنے شوہر سے مستغنی نہیں ہوسکتی کیونکہ نکاح کی صورت میں شوہر عورت کا نگہبان اور مالک بن جاتا ہے۔بیوی جتنا اپنے شوہر کا حکم بجا لاتی  ہے ،مرد اس کی اتنی ہی قدر کرتا ہے  اور اس کی ہر بات مانتا ہے۔اپنے حسن و جمال کا خاص خیال رکھنا ۔  اس کے کھانے پینے اور آرام کا بھی خاص خیال رکھنا۔اس کے گھر اور مال کی حفاظت کرنا اور اس کےنوکروں اور اہل و عیال کی خبر گیری کرتی رہنا۔اسکے راز کو اپنا راز سمجھنا اور اس کی کی کبھی بھی نافرمانی نہ کرنا۔ جب وہ غمزدہ ہو تو اسکے سامنے خوشی کا اظہار نہ کرنا اور جب وہ خوش ہو تو اس کے سامنے منہ بنا کر مت بیٹھنا۔اس کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ پیش آنا وہ بھی اتنی ہی تمہاری قدر کرے گا۔"
بہت سی بیویاں اس زعم میں ہوتی ہیں کہ مرد و عورت برابر ہیں تو ہم شوہروں کو اتنی اہمیت کیوں دیں۔ وہ شاید یہ بات بھول جاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مردوں کو عورتوں پر قوام بنایا ہے۔ بیٹی کی شادی صرف جہیز کا نام نہیں  بلکہ اسکو  اس قابل بنانے کا بھی نام ہے کہ وہ آگے جا کر اپنے شوہر کی عزت کرسکے۔ کاش! اس ماڈرن زمانے میں بھی ایسا ہو کہ بیٹی کی شادی کے وقت مائیں ایسی نصیحتیں بیٹی کو کریں اور  اللہ تعالیٰ ہمیں ان نصیحتوں پر عمل کرنے کے توفیق عطا فرمائے۔ آمین  ثم آمین
 ایسا نہیں ہے کہ صرف عورتوں کی ہی غلطی ہوتی ہے بلکہ رشتہ ازدواج گاڑی کے دوپہیوں کی طرح ہوتا ہے دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں تب ہی منزل تک پہنچ کر کامیاب ہوتے ہیں۔

اللہ عزوجل کا ارشاد گرامی ہے: ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجۃ

یعنی "جس طرح مردوں کا حق عورتوں پر ہے اسی طرح عورتوں کا حق بھی مردوں پر ہے۔
 ایسا نہیں ہے کہ صرف مردوں کے حقوق عورتوں پر اور شوہروں کے حقوق بیویوں پر ہوتے ہیں۔ نہیں بلکہ اسی طرح عورتوں کے بھی حقوق مردوں پر اور بیویوں کے حقوق بھی شوہروں پر ہوتے ہیں۔ عورتیں جانور یا جائیداد نہیں کہ مال کی طرح ان پر مردوں کو تصرف کا حق حاصل ہو جائےاور شوہر کہیں اس سے بھول میں نہ پڑجائیں کہ ان کے صرف حقوق ہی حقوق ہیں اور فرض و ذمہ داری کچھ نہیں؟ فرائض ان پر بھی اسی طرح عائد ہوتے ہیں جس طرح ان کے ان کی بیویوں پر۔ 

ایک اور جگہ قرآن مجید میں ہے کہ :ھن لباس لکم وانتم لباس لھن
"وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو۔"
مرد عورت دونوں کو حکم ہے کہ وہ ایک دوسرے کےلیے مخلص اور وفادار رہیں بلکہ یک جان دو قالب ہوں، ایک دوسرے 
کے پردہ پوش، ایک دوسرے کی زینت اور ایک دوسرے کی تکمیل کا ذریعہ ہوں۔

اکثر عورتوں میں ضد اور ہٹ دھرمی ہوتی ہے۔ مرد کو چاہیےکہ اس کی ضد کے مقابلے میں سختی اور درشتی سے کام نہ لے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
عورتوں کے ساتھی نیکی کا برتاؤ کرو کہ ان کی پیدائش ٹیڑھی پسلی سے ہوئی ہے وہ تیرے لیے کبھی سیدھی نہیں ہوسکتی۔ اگر تو اسے برتنا چاہے تو اسی حالت میں برت سکتا ہے اور سیدھا کرنا چاہے گا تو توڑ دے گا اور توڑنا طلاق دینا ہے۔ (مسلم)
اس کے علاوہ ایک اور جگہ پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
"ایمان والوں میں زیادہ مکمل ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اخلاق میں زیادہ اچھے ہیں اور تم میں سے اچھے وہ لوگ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہیں۔"
  (ترمذی: ۱۱۶۲، عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ)  



مکمل تحریر >>

Sunday, January 26, 2014

ریگنگ کی تباہ کاریاں


کلاس شروع ہونے میں ابھی کافی وقت باقی تھا اس لیے میں کلاس   کے سامنے بنی سیڑھیوں پر آکر بیٹھ گئی۔  چونکہ  آج نئے بیچ کا پہلا دن تھا  اس لئےیونیورسٹی میں معمول سے  زیادہ چہل پہل تھی۔ ۔ہر جگہ جونیئر طلبا ٹولیاں  بنا کر کھڑے تھے۔   ابھی میں یہ منظر دیکھ ہی رہی تھی کہ  کہ سامنے سے ایک لڑکا بھاگتا ہوا آیا۔ وہ خوف زدہ   اور گھبرایا ہوا تھا۔ اس نے رک کر ایک نظر پیچھے دیکھا ،   جب  میں نے  اس کے نگاہوں  کا تعاقب  کیا  تو ایک جم غفیر اس کے پیچھے بھاگا  چلاآرہا تھا  ۔  یہ مجمع سینئر طلبا کا تھا۔ اس لڑکے نے پھر سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن ایک سینئر  جمپ لگا کر اسکے سامنے  آگے آگیا اور اس کے فرار کی راہیں مسدود ہوگئیں۔ لڑکا بے بسی سے ان سینئیرز کو دیکھ رہا تھا  جو اس پر آوازیں کس رہے تھے ۔ راہ روکے لڑکے نے اس لاچار کا  نام پوچھا۔ اس سے قبل وہ کوئی جواب دے پاتا کہ ہجوم سے آوازیں آنے لگیں :
" بھگوڑا،  بھگوڑا،  بھگوڑا"
" جی نہیں  اسکا نام تو مسٹر ڈرپوک ہے۔"۔ ایک سینئر لڑکی نے  ہانک لگائی۔
اس  کے بعدساتھ ہی پورا ہجوم نعرے لگانے لگا  :" ڈرپوک، ڈرپوک، ڈرپوک"
سامنے کھڑے سینئیر نے اسے زور کادھکا دیا  اور وہ معصوم  ہجوم کے ہتھے چڑھ گیا۔ اب کوئی اس کی کمر سہلا رہا تھا تو کوئی سر کی مالش کررہا تھا۔  بڑی مشکل سے وہ ہجوم کی دستبرد سے خود کو بچاکر الگ کھڑا ہوگیا اور بےبسی  سے بولا:
"آخر تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟"
 "ہم کچھ نہیں چاہتے ، اگر تم جان چھڑانا چاہتے ہو تو ہم سب کو کینٹین سے کھانا کھلاؤ۔ " ابھی ایک مطالبہ پیش ہی ہوا تھا کہ ہجوم نے شور مچا دیا : "نہیں نہیں نہیں  ، ہمیں ناچ کر دیکھاؤ"۔ اس کے بعد بےہنگم قہقے  گونجنے لگے۔ایک اور سینئیر آگے بڑھا  اور جھٹ سے اسکا والٹ نکال لیا ۔ جونیئر نے والٹ  واپس لینا چاہا لیکن ناکام رہا۔والٹ سے تقریباً دو سو روپے برآمد ہوئے۔ اس پر سب نے اسے فقیر فقیر  کے طعنے دینے شروع کردیے۔ 
 اس سے زیادہ دیکھنے کا حوصلہ مجھ میں  نہیں  تھا لہذا میں وہاں سے اٹھ کر کلاس میں آگئی۔میرا دل بہت چاہا کہ اس لڑکے کو بچاؤں  لیکن مجھے معلوم تھا کہ ایسا کرنے سے میں خود بھی اس واہیات مذاق کا شکار ہوسکتی ہوں اور میں فطرتاً بزدل واقع ہوئی ہوں لہذا میری حیثیت ایک تماشائی سے زیادہ نہیں تھی۔میں نہیں جانتی اس لڑکے کے ساتھ بعد میں کیا ہوا لیکن  میں نے اس لڑکے کو دوبارہ یونیورسٹی میں نہیں دیکھا۔
وقت کا کام گزرنا ہے وہ گزر ہی جاتا ہے ۔آج اس واقعے کو    پانچ سال گزر گئے لیکن اس واقعے کی بازگشت  آج بھی میرے اندر موجود ہے۔
اس قسم کے " مذاق" کو ریگنگ یا  بُلنگ کہتے ہیں۔  ریگنگ  ایک ایسی سالانہ بربریت پر مبنی روایت ہے جو شمالی ایشیا میں پھیلی ہوئی ہے جو ہمارے اخلاقی  نظا م کو تباہ کررہی ہے۔  آج کے دور میں اس ستم ظریفی  کا سب سے بڑا  شکار سری لنکا،پاکستان اور انڈیا  کے طلبا ہیں ۔  اس کے علاوہ مغربی ممالک سے بھی ریگنگ کیسز سامنے آتے  ہیں۔ حالیہ سروے کے مطابق زیادہ  تر  اسٹوڈنٹس کی اموات  اسی ریگنگ کے باعث ہوتیں ہیں۔ سن  2008-2009 میں ریگنگ کے 89 کیسز رصرف انڈیا میں رپورٹ کیے گئے  جس میں 12 اموات اور 5 خودکشی کے کیسز تھے۔ 44فیصد  کیسز کو سیریس جسمانی انجریز کے باعث ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ پاکستان میں میڈیکل اور انجینئرنگ  کالجز سب سے زیادہ  اس بے ہودہ  روایت کا شکار ہیں۔ہاسٹلز خاص طور پر  اس بُلنگ اور ریگنگ کا گڑھ  ہیں کیونکہ یہاں کوئی روک ٹوک نہیں ہوتی۔ یہاں نئے آنے والوں کے  ساتھ انتہائی ظالمانہ سلوک کیا  جاتا ہے اور بعض اوقات ایسے  جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے جو کہ الفاظ میں بھی بیان نہیں ہوسکتا۔
یہ روایت کہاں سے آئی؟  اس کی تاریخ کیا ہے ؟   تاریخ دان کہتے ہیں کہ اور بہت سی معاشرتی بیماریوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی مغرب کا تحفہ ہے۔ اسکی تاریخ  کی ابتدا یونان  میں اسپورٹس سے کی جاتی ہے  جب وہاں کوئی نیا کھلاڑی آتا تو پرانے کھلاڑی  ہر طرح سے اسے ذلیل خوار کرتے  تاکہ اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کی جاسکے۔   یہی روایات بعد میں کچھ تبدیلیوں  کے ساتھ فوج میں آئی اور پھر  یہ تعلیمی نظام میں داخل ہوئی۔
ریگنگ کی تباہ کاریاں اس عمل کے ساتھ ہی شروع  ہوگئیں  تھیں ۔ اس قبیح فعل  کے باعث سب سے پہلی موت 1873 میں ہوئی جب کارنل یونیورسٹی کا  نوآموز اسٹوڈنٹ ریگنگ کے باعث کھائی میں جا گرا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد ریگنگ ایک  بہت بڑے پیمانے پر پھیلنا شروع ہوئی یہ وہی وقت تھا جب ریگنگ نے بربریت کی صورت اختیار کر لی۔  اور انگریز نے جب برصغیرپر قبضہ کیا تو  یہ روایت اپنے ساتھ لائے۔  اور آج سری لنکا اور شمالی انڈیا اس ریگنگ کا گڑھ مانے جاتے ہیں۔   اور آج یہ رسم  ہمارے پاکستان میں بھی اپنی جڑیں مضبوط کر چکی ہے۔
اگر ہم  اسلام کی تعلیمات پر غور کریں تو واضح طور پر  اس  قسم کے مذاق کی کوئی گنجائش نہیں  اورقرآن و احادیث اس قبیح فعل کی مذمت میں واضح طور پر وعید سناتے ہیں۔
سورہ الحجرات میں  واضح طور پربیان ہوتا ہے کہ :
                ”اے ایمان والو! نہ مردوں کی کوئی جماعت دوسرے مردوں کا مذاق اڑائے ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں کیا عجب وہ ان سے بہتر نکلیں۔ (الحجرات 11:49)
مذاق اڑانا ایک شخص کی تحقیر کرنا اور اسے بے عزت کرنا ہے۔ اسی لئے روایات  میں کسی کی آبرو  کو نقصان پہچانے کی واضح الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے۔۔۔۔۔سرور عالم ﷺنے فرمایا ۔۔۔۔"جو کوئی کسی مسلمان کی عزت کو نقصان پہنچاتا ہے تو اس پر اللہ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوتی ہے اس کی نفل اور فرض عبادت قبول نہیں ہوگی۔"(صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 440 )
مذا ق اڑانے کا عمومی مقصد کسی مخصوص شخص کی تحقیر کرنا اور اسے کمتر مشہور کرنا ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے تکبر کا رویہ کارفرما ہے۔ دوسری جانب تکبرکے بارے میں  قرآ ن و حدیث  میں سخت الفاظ میں مذمت بیان ہوئی ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا اس پر ایک آدمی نے عرض کیا کہ ایک آدمی چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کی جو تی بھی اچھی ہو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ جمیل ہے اور جمال ہی کو پسند کرتا ہے تکبر تو حق کی طرف سے منہ موڑنے اور دوسرے لوگوں کو کمتر سمجھنے کو کہتے ہیں۔" ( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 266)
ایک اور روایت میں بھی  اس روئیے کی بالواسطہ مذمت بیان ہوئی ہے۔
                حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا۔۔۔۔"اللہ کے بندے بھائی بھائی ہو جاؤ  ،مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر سمجھتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا تقوی یہاں ہے کسی آدمی کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر پورا پورا حرام ہے اس کا خون اور اس کا مال اور اس کی عزت و آبرو"۔(صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2044)
                مذاق اڑانے کا منطقی نتیجہ کسی شخص کی دل آزاری کی شکل میں نکلتا ہے۔ اس ایذا رسانی کی بھی ان الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
عبداللہ بن عمرو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا" مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان ایذاء نہ پائیں۔" ( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 9)
ہمِیں چاہئے کہ بحیثیت مسلمان اس رسم کا قلع قمع کریں، اس کی مذمت کریں اورحکومتی  سطح پر اس کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کریں۔
مکمل تحریر >>

Monday, January 20, 2014

حضرت خضرؑ کون تھے۔؟

حضرت خضرٰؑ   کون تھے اس بارے میں بہت سی رائےپائی جاتی ہیں۔  بعض علماءحضرت خضرٰؑ   کونبی، کچھ ولی اور کوئی فرشتہ مانتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم ان تینکیٹیگر یزکو دیکھ لیتے ہیں کہ یہ کون  ہوتے ہیں۔


نبی :  تفسیر ضیا القرآن کے حوالہ سےاس کی تشریح اور معنی کی تحقیق پیش ہے۔  اس کے ماخذ کے متعلق اہلِ لغت کے تین قول ہیں:               

1 :  نَبَاٌ

2: نَبُوَّۃٌ

3:  نَبَاوَۃٌ                                                                                                                                                

پہلے قول کے مطابق نبی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دینے والا ہو۔ اگر اسکا ماخذ نَبُوَّۃٌ   یا نَبَاوَۃٌ   ہو تو اس کے معنی بلند اور اونچی چیز کے ہو جاتے ہیں کیونکہ نبی دوسروں سے ہر لحاظ سے(علم و مقام)  ارفع و اعلیٰ  ہوتا ہے اس لیے اسے نبی کہتے ہیں۔
علامہ اصفحانی کی رائے کے مطابق "نبا" ہر خبر کو نہیں کہتےبلکہ" نبا " وہ خبر ہے جو :
*  فائدہ مند ہو          
*  اہم اور عظیم ہو

   فرشتہ : فرشتےنورانی مخلوق ہیں ۔ یہ انسان و جناّت سے بھی بہت پہلے سے موجود ہیں۔ انکا کام صرف  اللہ کی عبادت کرنا اور اللہ کے احکامات ماننا ہے۔اور دنیا کے تکوینی امورانجام  دینا بھی انکے کاموں میں شمارہوتے ہیں۔ حضرت آدمؑ کو اللہ نے اسماء کا علم سیکھایا تو فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا ۔ یہ سجدہ اس بات کی علامت تھا کہ آدمؑ علم کی بنا پر فرشتوں سے افضل ہیں۔ حضرت آدمؑ کے پاس فرشتوں سے زیادہ علم تھا۔ اگر حضرت خضؑر فرشتے تھے تو تب بھی وہ وہیں موجود ہونگے انہوں نے بھی آدمؑ کو سجدہ کیا ہوگا۔حالانکہ سجدے کا مطلب ہی انسان کی علم پر برتری قبول کرنا اور انسان کی خدمت کرنا تھا۔ وہب بن منبہ نے رسول اکرم صلى الله عليه وسلم سے نقل فرمایا کہ جب موسیٰؑ نے یہ خیال کیا وہ اہلِ زمین میں سب سے بڑے عالم ہیں تو اس وقت اللہ نے جس شخص کی تلاش میں بھیجا وہ خضرٰؑ تھے (جو موسیٰؑ سے بھی بڑے عالم تھے)  تاکہ وہ ان سے علم سیکھیں۔جب فرشتوں سے زیادہ علم اللہ نے انسان کو دیا اور فرشتوں نے اس بات کو مانتےہوئے انسان کو سجدہ کیا تو پھر یہ کیسے مان  لیا جائے کہ ایک نبی جو کلیم اللہ ہے وہ ایک فرشتے سے علم سیکھنےجائیں کیونکہ وہ ایک نبی سے بھی بڑے عالم تھے۔حالانکہ وہ (فرشتے) سجدے کی صورت میں اپنی کم علمی کا اقرار کر چکے تھے ۔لہذا حضرت خضرٰؑ   فرشتے نہیں تھے۔

              

   ولی : ولی اللہ کے نیک بندے اور دوست ہوتے ہیں۔ یہ وہ بوریا نشین انسان ہوتے ہیں جنکی ساری زندگی عبادت میں گزرتی ہے اوروہ اپنے نفس پر پورا اختیار رکھتے    ہیں۔ اپنی عبادات اور مجاہدات سے وہاعلیٰ مقام حاصل کر لیتے ہیں جو بہت کم لوگوں کو ملتا ہے۔ انکی روحانی پرواز کعبہ شریف و روضہِ اطہر سے لے کر سدرہ المنتہیٰ تک ہوتی ہے۔ا نہی کے بارے میں قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ " وہ مردانِ  حق جنہیں تجارت اور خرید و فروخت یادِ خدا وندی سے غافل نہیں کرتی"۔  صوفیا ءکرام نےعلومِ اسلامیہ کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہے:


1: علم الاحکام
2: علم الاسرار
علم الاحکام یعنی مسائل و فضائلِ شریعہ تک محدود رہنے والے علماء محدث،فقیہ، مفتی اور مجتہد وغیرہ کہلاتے ہیں ۔ اور صرف علم الاسرار کے جاننے والے درویش صوفی ابدال  وغیرہ کہلاتے ہیں۔ البتہ اہلِ کمال کا ایک طبقہ ایسا بھی ہےجو دونوں علوم سے فائدہ حاصل کرتا ہے۔حدیث شریف میں انہیں بزرگوں کو انبیا ء کے وارث کہا گیا ہے۔ علوم الاسرار اور روحانیت کا سرچشمہ بھی دیگر علومِ اسلامیہ کی طرح قرآن مجید ہی ہے۔ ا اہلِ ولایت کو بھی صوفیا کرام نے دو طبقوں میں تقسیم کیا ہے ۔ایک کا تعلق تشریحی امور سے اور ایک کا تعلق تکوینی امور سے ہے۔ یعنی ایک طبقہ اہلِ دعوت و ارشاد ہے اور دوسرا طبقہ اہلِ تصّوف و اختیار ہےاور یہ رجال الغیب کی حیثیت سے  تکوینی امور انجام  دیتے ہیں مثلاًجنگ و امن ، عذاب و سزا ، بارش و طوفان، فتح و شکست ، حکومت و اقتداراور انسانی معاشرت سے متعلق دیگر انتظامی معاملات کا طے پانا(اللہ کے حکم سے ) ایسے ہی اہلِ باطن کے روحانی تصرف سے وابستہ ہوتاہے۔ اللہ  فرماتے ہیں  : " زمین و آسمان کے لشکر اللہ ہی کے ہیں "۔(الفتح:4)
امام قرطبیؒ اس کی تفسیر میں حضرت ابنِ عباس رضی تعالیٰ عنہا کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ آسمانی لشکر سے مرادملائکہ اور زمینی لشکر سے مراد اہلِ ایمان  ہیں۔امام جلال و الدین سیوطیؒ اپنی تفسیر" الدر المنثور"  میں بحوالہ ابن عباس رضی تعالیٰ عنہا نقل فرماتے ہیں : " روحیں اللہ کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہیں" سید الطائفہ حضرت جنید بغدادیؒ نے اولیاء کرام  کو بھی " جنداللہ "  فرمایا ہے۔
اللہ کے بہت سے فرشتےکائنات کے تکوینی امور اللہ کے حکم سے انجام دے رہے ہیں ۔لیکن مدبر حقیقی ذاتِ باری تعالیٰ ہی ہے۔سابقات اور سابحات بھی اس کے عطا کردہ امور میں مصروف رہتے ہیں۔
چنانچہ سور  بقر  آیت 251کی تفسیر میں امام قرطبی لکھتے ہیں کہ اس لشکر سے مراد "ابدال " ہیں اور وہ  چالیس ہیں۔
حضرت علی رضی تعالیٰ عنہا سے مروی ہے آپ نے فرمایا :"میں نےآپﷺ سے سنا : " یقیناً ابدال شام میں ہونگےاور وہ چالیس مرد ہونگے، جب کبھی ان  میں سے کوئی وفات پا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے کو متعین فرمائے گا، انکی برکت سےبادل بارش برسائیں گےاور انکے طفیل دشمنوں پر فتح دی  جائے گی اور انکے صدقے زمین والوں کی بلائیں ٹال دی جائیں گی۔"
ابدال: یہ لوگ انبیاء کے نائب ہیں یہ قوم  وہ ہے جسے اللہ نے اپنے لیے چن لیا اور اپنےعلم میں سے انہیںخاص علم عطا کیا ہے۔امام محی الدین ابن عربی اپنےرسالہ" حلیۃ الابدال " میں لکھتے ہیں : " میں نے ایک بزرگ سے پوچھاکہ ابدال کسطر ح ابدال  بنتا ہے؟  تو انہوں نے فرمایا: " چار چیزوں سےجو ابو طالب مکی نےقوت القلوب" میں لکھی ہیں 

(1) خاموشی ،  (2) تنہائی ،  (3 ) بھوک   اور ( 4)   بیداری
رؤےزمین میں مختلف جہانوں اور آبادیوںمیں بلکہ برّ و بحرمیں ایسے رجال الغیب اور مردانِ خدا ہر دور میں موجود رہتے ہیں ۔صوفیا کرام  فرماتے ہیں کوئی بستی اور قریہ ایسا نہیں جس میں ایک قطب یا ابدال نہ  ہو جس کی برکت سے رحمت نازل اور عذاب ٹلتے ہیں۔
رجال الغیب اورخاصانِ خداکی جماعت کے سردار و پیشوا حضرت ابو العباس خضرٰؑہیں ۔ آپ کو نقیب  الاولیاءبھی کہا جاتا ہے۔آپ اللہ کےعبد خاص اورصاحب علم لدنی ہیں۔
علم لدنی کیا ہے؟علم لدنی ا نہی اسماء کا علم ہے جو حضرت آدمؑ کو دیا گیا تھا۔ انہی  اسماء کے علم کو تصّوف کی زبان میں علم لدنی کہتے ہیں۔ (لوح و قلم، قلندر بابا ا ولیاءؒ، علم لد نی)
قرآن مجید میں االلہ تعالیٰ نے فرمایا کہ:" پس اسنے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنے پاس کی خاص رحمت عطا فرما رکھی تھیاور اسے اپنے پاس سے خاص علم  (علم لدنی) سیکھا رکھا تھا۔"
جو علم (علم لدنی ) آدمؑ کو دیا گیا تھا وہی علم خضرؑکے پاس بھی تھا لیکن وہ فرشتوں کے پاس نہیں تھا ۔ثابت  ہوا کہ حضرت خضرؑ فرشتے نہیں تھے۔تو پھر وہ کون تھے؟
 اگر مذکورہ بالا آیت کو دوبارہ دیکھیں تو اللہ نے انکو "عبد" کہا ہے۔عبدروحانیت کا سب اونچا منصب ہے۔منصبِ عبد کے متعلق حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی  ؒدفتراِ وّل  کے مکتوب 30 میں فرماتے ہیں : 

    "لہذا مراتب ولایت کی انتہا مقام عبدیت ہے۔ولایت کے درجات میں مقام عبدیت سے اوپر کوئی  مقام نہیں۔"

اس لحاظ سے ہم خضرؑ  کو   ولایت کے سب سے اونچے مقام عبد سمجھ سکتے ہیں۔ جو اپنے سے نیچے تمام منصب کے ہیڈ ہیں۔لیکن یہاں ایک بات ہمیں روکتی ہے کہ کوئی غیر نبی کسطرح نبی سے بڑھ کرعالم ہوسکتا ہے؟اور کیسے ایک نبی و رسول غیر نبی کے تابع ہو سکتا ہے۔کیونکہ جہاں عبدیت کی حد ختم ہوتی ہے وہاں سے حدِنبوت شروع ہوتی ہے۔ (حا ل سفر، پرو   فیسر فقیرباغ حسین کمال ؔ ،صفحہ نمبر61)

اگر وہ عبد ہوتے تووہ ہر لحاظ سے نبی سے نیچے تھے۔ لیکن موسیٰؑ کے واقعے میں خضرؑ  کا علمی مقام  موسیٰؑ سے زیادہ ہے۔ اس لحاظ سے ہم انہیں ولی بھی نہیں مان سکتے ۔ ولی نہ ماننے کی وجہ ایک اور بھی ہےکہ کسی ولی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ علم الغیب کی بنا پر کسی انسان کو قتل کردے اور نہ ہی تاریخ میں ایساکبھی ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اولیاء کرام  کو اللہ نے تب بھیجا جب نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا اس سے پہلے رجال الغیب موجودتھے وہ حضرت آدمؑ کے زمانہ سے لے کرحضرت محمد ﷺ کے زمانہ تک اور آپؐ کے زمانہ سے لے حضرت عیسیٰؑ کے ظہور تک موجود ہونگے یعنی ابد سے  آخر تک۔ اس سے پتہ چلتا ہے کی حضرت خضرؑ ولی نہیں بلکہ انکا تعلق رجال الغیب سے معلوم ہوتا ہے۔لیکن انبیاء ، انسان، فرشتے اور جنات بھی رجال الغیب ہوسکتے ہیں ۔انسان کی مثال میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اور حضرت مجدد الف ثانیؒ وغیرہ ہیں ۔اب حضرت خضرؑ  نہ ولی ہیں نہ فرشتہ جیسا کہ ثابت ہوالہذا ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ ہم حضرت خضرؑ کو نبی مانے۔اللہ نے قرآن میں اپنے انبیا ء و رسل کو کہیں عبد اور کہیں صدیق سے بھی خطاب کیا ہے۔سورۃ  مریم آیت 41 :"  اور اس کتاب میں ابراہیمؑ  کا ذکر کیجیے وہ صدیق اور نبی تھے۔" اور سور ۃ  صٓ کی آیت 41:" اور ہمارے عبد ایوب کو یاد کیجیے"۔ اورحضورﷺ کے متعلق"  عبدہ ُ   وَ   رَسُولہُ" اسی کی طرف اشارہ ہے۔اللہ نے عبد کا لفظ اپنے نبی کے لیے بھی  استعمال کیا ہے اسلحاظ سےحضرت خضرؑ ایک نبی  ہیں نہ کہ ولی یا فرشتہ۔ اور جیسا کہ نبی کی تعاریف اوپر بیان ہو چکی ہے کہ جسے اللہ نے  غیب کی خبریں دی۔ خضرؑ کے پاس بھی غیب کا علم تھا۔نبی سے مراد بلند اور ارفع بھی ہے۔

امام  ابو جعفرالطحاوی نے " مشکل الآثار " میں حضرت ابوامامۃ الباھلی رضی تعالیٰ عنہ سے مروی ایک روایت نقل کی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو بنی اسرائیل کا ایک واقع سناتے ہوئے حضرت خضرؑ  کا تذکرہ فرمایا اور دورانِ مکالمہ انکی نبوّت کا اثبات و اظہار فرمایا۔ (مشکل الآثار ،طحاوی ر قم : 1218 ) اس روایت کو امام  طحاوی کے علاوہ  امام ہیثمی نے مجمع الزوائدمیں بحوالہ طبرانی نقل کیا ہے۔ اس کے علاوہ ابو سعید نقاش نے اسے " فنون العجائب" میں روایت کیا ہے۔امام  ہیثمی کہتے ہیں کہ اسے طبرانی نے" معجم کبیر"  میں روایت کیا اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد صفحہ 502 )
رہی وہ روایت جس میں حضرت خضرؑ نے فرمایاکہ "اللہ تعالیٰ نے اپنے علوم  میں سے ایک علم مجھے سیکھایا  جسے آپ نہیں جانتے اور ایک علم آپ کو دیا جسے میں نہیں جانتا۔"
حضرت موسیٰؑ کے پاس نبوت اور شریعت کا علم تھا۔اور حضرت خضرؑ     کو اللہ نے نبوت کے ساتھ ساتھ بعض تکوینی امور کا علم (علم لدنی ) دیا تھاجسے صرف خضرؑ  کو نوازہ گیا تھا۔ اور اس علم کی بدولت وہ ایسے کام اللہ کے حکم سے انجام دیتے تھے جو شریعت کے خلاف تھے۔یعنی شریعت کا علم جو اللہ نے موسیٰؑ  کو دیا وہ خضرؑ  کے پاس نہیں تھا۔
دوسرا جس میں خضرؑ فرماتے ہیں کہ میں جو بھی کرتا ہو اللہ کے حکم سے کرتا ہوں۔ تو صرف فرشتے ہی اللہ کے حکم سے ہر کام نہیں کرتے بلکہ نبی و رسول بھی اللہ کے حکم کے پابند ہوتے ہیں ۔حضورﷺ نے  بہت دفع کفارِ مکّہ سے فرمایا کہ میں جو کہتا ہوں خود سے نہیں کہتا بلکہ اس کا حکم تو مجھے اللہ کی طر ف سے وحی  ہوتا ہے۔قرآن میں بھی یہ آیت کی صورت میں موجود ہیں۔
لہذا حضرت خضرؑ ایک نبی تھے ۔اور اللہ نے انہیں اپنی حکمتِ عالیہ سے ہر دور کیلیے قطب وابدال اور رجال الغیب کا معاون ٹھہرایا ہے۔خضرؑ صدیوں سے رجال الغیب سے ملاقاتیں کرتےآ رہے ہیں۔ اور بعض اوقات انکی راہنمائی بھی کرتے ہیں۔تمام اہلِ نظر خضرؑ کواولیاء کرام کا قائد مانتے ہیں۔سید علی کرم  اللہ وجہہ نے آپؑ کو " سید القوم" تسلیم کیا ہے۔ (روض الریاحین)
 قسطلانی شرح بخاری میں حضرت خضرؑ  کو مردانِ  غیب ہی نہیں بلکہ رجال الغیب کا رہنما بھی تسلیم کیا ہے۔

حضرت خضرؑ کا تعارف:





حضرت خضرؑ  کانام بلیآ  بن ملکان تھا۔آپؑ کا لقب خضر تھا اور کنیتابوالعباس تھی آپؑ حضرت نوح ؑ کی اولاد
 میں سے تھے اور آپؑ کے آباؤاجداد اس کشتی میں بھی سوار تھے جو طوفانِ نوح میں بچ کر لوگوں کو محفوظ کرتی گئی جوکائناتِ ارضی پر آئندہ نسلِ انسانی کے آباؤاجداد بنے۔خضر کا لقب پانے کی وجہ یہ ہے کہ آپؑ جہاں بیٹھتےوہاں سبزہ اگ آتا۔جہاں قدم رکھتے سبزہ نمودار  ہوجاتا۔ خضر کے معنی "سبز" کے ہیں۔اس لیے 
انکا لقب خضر تھا۔
تفسیر روح البیان کے مصنف نے حضرت ابو اللیث کی روایت بیان  کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حضورﷺ نے اپنے صحابہ کرام  کو بتایا تھا کہ" حضرت خضرؑ  ایک بادشاہ کے فرزند تھےجو انہیں اپنا جا نشین بنانا چاہتے تھے۔ مگر خضرؑ نے نہ صرف جانشینی سے انکار کیا بلکہ وہاں سے بھاگ کر دوربیاباں میں چلے گئےوہاں آکرایسے گم ہوئےکہ کوئی شخص انہیں تلاش نہ کر سکا"۔آپ کے اس سفر کے دوران آپکو آبِ حیات کاچشمہ ملا جس کا پانی پی کر آپ تاحیات زندگی پانے میں کامیاب ہوگئے۔ انکی تاریخِ پیدائش کا تو کسی کو علم نہیں  مگر انکے زندہ ہونے اور تاقیامت زندہ ہونے کے آثار ملتے ہیں۔


مکمل تحریر >>

My Blog List