Monday, October 7, 2013

خیر اور شر کی جنگ۔۔۔انسان اور اسکے ضمیر کا مکالمہ

وہ رو رہا تھا کیونکہ وہ آج پھر زخم خوردہ تھا۔ وہ اپنے ربّ سے لوگوں کی  زیادتیوں کی  شکایت کرر ہا تھا۔اس نے آسمان کی جانب ایک نگاہ ڈالی  لیکن وہاں چار سو خاموشی تھی اس نے دوبارہ اپنے اندر جھانکا جہاں اس کے ضمیر اورانا کے بیچ سخت کشمکش جاری تھی۔ انا جو شکوہ کرتی اسکا ضمیر اسے اس کا جواب دے دیتا۔یہ  ایک طویل بحث تھی جو طول پکڑتی جارہی تھی۔ آخر انا نے تھک کر  ضمیر کو مخاطب کیا : " تم مجھے سمجھا رہے ہو تمہیں معلوم بھی ہے کہ میں نے لوگوں  کے ساتھ کبھی برا  نہیں کیا پھر وہ میرے ساتھ برا کیوں کرتے ہیں۔؟ "
ضمیر: " ہاں میں جانتا ہوں تم جان بوجھ کر کچھ برا نہیں کرتے  لیکن  تم لوگوں کی ہر برائی پر  انہیں برا بھلا کہتے ہو۔ ہو سکتا ہے یہی وجہ ہو کہ وہ تم سے محبت نہیں کر پاتے۔"
 انا: "یہ تو کوئی بات نہ ہوئی برائی تو ان کی طرف سے ہوتی ہے اب میں انہیں  برا بھی نہ کہوں۔ میں کوئی فرشتہ تو نہیں جو کچھ بھی محسوس نہ کرے میں انسان ہوں  اور یہ ہی میری کمزوری ہے ۔"
ضمیر: "ہاں مت کہو برا ، صبر کرو۔ صبر میں بہت اجر ہے۔ تم فرشتہ نہیں تم تو اشرف المخلوقات ہو۔  تم وہ بھی کر سکتے ہو جو فرشتے نہیں کرسکتے۔ تمہیں انسان کی طاقت کا اندازہ ہی نہیں اللہ نے  اسی لئے  تو فرشتوں کو انسان کو سجدے کا حکم دیا تھا۔"
 انا: "چلو مان لیا!  میں اشرف المخلوقات ہوں  ۔ لیکن میں صبر ہی تو کرتا ہوں کیا کبھی انکو پلٹ کر جواب دیا یا کبھی ان سے قطع تعلق کیا  ۔ اللہ نے رشتوں کو جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے تبھی میں نے ان کے ہر ظلم پر چپ سادھی ہے  کہ کہیں  رشتے نہ ٹوٹ جائیں۔ لیکن اب بس! اب میں بھی ان کے ساتھ ویسے ہی پیش آؤ گاجیسا وہ مجھ سے پیش آتے ہیں۔"
ضمیر: "نہیں تم یہاں غلط ہو اور  تم صبر نہیں کرتے۔"
انا (طیش میں آکر): "یہ صبر نہیں تو اور کیا ہے ؟  کبھی ان سے بدلہ نہیں لیا ،   ان کے ظلم پر چپ رہی،  ان کو پلٹ کر جواب نہیں دیا ۔ لیکن اب میں  برابر بدلہ لوں گا تاکہ انہیں اندازہ ہو کہ میں کوئی معمولی چیز نہیں   ۔" ہونہہ !
ضمیر: "صبر ہمیشہ پہلی چوٹ پر ہوتا ہے۔ ایسے نہیں کہ دل میں پہلے برا بھلا کہو گالیاں دو اور پھر چپ کر جاؤ۔ اور کہو  کہ اچھا چلو میں نے صبر کرلیا۔  صبر تو تب تھا جب تمہیں تکلیف پہنچے تو تم دل  میں بھی انہیں برا نہ کہو اور اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دو۔"
انا(غصے سے) :"اچھا ! میں تو بہت برا ہوں نہ  تو پھر تم ہی  بتا دو کے صبر کیا ہے۔"
ضمیر(اسکے غصے کو نظر انداز کرتے ہوئے): "دیکھو!  یہ جو مشکلات ہیں یہ اللہ ہی کی طرف سے تمہاری آزمائش ہیں، اور انکو کشادہ دلی سے قبول کرنا  اور ترکِ شکایت ہی صبر ہے۔"
انا: "لیکن میرا دل لوگوں کے رویّے پر  بہت روتا ہے،  میں کیا کروں؟"
ضمیر: "سب سے پہلے صبر کرنا سیکھو۔یاد کرو !  کفار مکہ نے نبی اکرم ﷺ پر کیسے کیسے مظالم نہیں ڈھائے ۔ لیکن رحمت ِ دوجہاں  ﷺنے کبھی کسی سے کچھ نہیں کہا۔ ہمیشہ ان کے بدتمیزیوں کے آگے خاموش رہے۔  اس لیے نہیں کہ وہ اس وقت طاقت ور نہ تھے یا انکی تعداد ذیادہ نہ تھی۔  فتح مکہ کے بعد  آپﷺ نے سب کو معاف کردیا ان کو بھی جنہوں نے مظالم ڈھانے میں کوئی کثر نہ چھوڑی تھی۔حالانکہ تب وہ تعداد میں سب سے ذیادہ اور طاقت ور تھے۔  لیکن انہوں بدلہ نہیں لیا  کیونکہ انکی یہ معافی اللہ تعالیٰ کے لیے تھی اور انکی وہ دشمنی بھی اللہ تعالیٰ کے لیے تھی۔"   
 انا ( بے صبری سے ): "لیکن اللہ نے تو بدلہ لینے کا کہا ہے کہ جیسا وہ ظلم کریں اتنا ہی بدلہ آپ بھی لے سکتے ہوتو پھر میں کیوں نہیں لے سکتا بدلہ؟"
ضمیر: "اللہ نے  تو یہ بھی کہا ہےکہ  جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کردیتے ہیں ایسے نیک لوگ اللہ کو  بہت پسند ہیں۔ اور ویسے بھی تمہیں بدلہ لے کر کچھ حاصل نہیں ہوگا  صرف تمہارا نفس خوش ہوگا۔ "
انا( غصے سے ) : " تو  میرا نفس  ہی خوش ہوجائے کچھ تو سکون ملے گا مجھے۔"
ضمیر: "مسلمان  نفس کو خوش نہیں کرتا۔  کسی بزرگ نے کہا تھا کہ جنت صرف دو قدم ہے۔ ایک قدم تم اپنے نفس پر رکھ دو ،  تو دوسرا قدم جنت میں ہوگا۔ "
انا : (خاموشی۔۔۔شاید وہ پست ہورہی تھی)
 ضمیر:  " تم برا بھلا کہنا چھوڑ دو  اور اچھا ہی سوچو  تاکہ وہ  تمہاری مثبت سوچ کے اثر سے بدل جائیں۔ تمہاری یہ منفی سوچیں انہیں تمہارا ہونے نہیں دیتی۔ دل میں کہیں نہ کہیں کھوٹ ہوتا ہے تبھی ہمارے ساتھ ایسا  ہوتا ہے ۔"
انا:  " تو میں کیا کروں؟   میں جب اچھا سوچنے لگتاہوں تو وہ پھر برائی کرتے ہیں۔ اللہ انکو  ہدایت کیوں نہیں دے دیتا۔"
ضمیر: "انکو ہدایت دینا اللہ کا کام ہے  تم صرف دعا کرسکتے ہو۔ لیکن تم وہ کیوں بھول رہے ہو جو اللہ نے تمہیں عطا کیا۔"
انا: " کیا مطلب؟"
ضمیر: " ابھی نماز فجرمیں   تم نے سورۃ الضحیٰ کی تلاوت کی تھی اسکا  ترجمہ یا دہے نا؟"
"انا"  ضمیر کی بات سن کر کہیں غائب ہو گئی وہ بری طرح پست ہوئی تھی۔ اب صرف انسان رہ گیا اور اسکا  بہترین ساتھی اسکا "  ضمیر  "۔
انسان: "ہاں "
"قسم ہے روزِ روشن کی۔اور رات کی جب وہ چھا جائے۔نہیں چھوڑا آپکو اے محمد ﷺ آپکے رب نے اور نہ وہ ناراض ہوا۔اور یقیناًآخرت آپکے لیےپہلی (حالت یعنی دنیا)سے کہیں بہتر ہے۔اور عنقریب آپکا  ربّ آپکو  وہ کچھ عطا کرے گا کہ آپؐ خوش ہوجائیں گے۔بھلا  اسنےآپکو یتیم پاکر جگہ نہیں دی ( بےشک دی)۔اور راستے سے ناواقف دیکھا تو رستہ دیکھایا۔ اور تنگ دست پایا تو غنی کردیا۔تو آپؐ بھی یتیم پر ستم نہ کریے گا۔ اور مانگنے والے کو جھڑکی نہ دیجیے گا۔ اور اپنے پروردگار کی نعمتوں کا بیان کرتے رہیے گا۔"
ضمیر: "جب حضرت محمد ﷺ پر پہلی وحی کے بعد وحی کا سلسلہ رک گیا  تو آپ بہت  غمگین  رہنے لگے   اور عبادات میں بھی خلل پڑا تو  کفار مکہ نے   انکا مذاق اڑایا اور کہا کہ محمدﷺ کو انکے خدا نے چھوڑ دیا ہے۔انکی باتوں پر آپﷺ بہت دلبرداشتہ ہوئے تب یہ سورۃ نازل ہوئی تھی۔" 
انسان: (اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔ لیکن یہ اب شکوے کے آنسو نہیں تھے ضمیر کو معلوم تھا  تبھی اسنے اپنی بات جاری رکھی۔)
ضمیر: " اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو معلوم تھا کہ تم آج پھر دل گرفتہ ہوگے تبھی اسنے تمہیں یہ سورۃ تلاوت کرائی تاکہ میں اسے تمہارے سامنے حجت پیش کرسکوں۔  اگر تم غور کرو تو  اللہ تم سے فرما رہے ہیں  یہ تودنیاوی  آزمائشیں ہیں۔ اور تم دنیا کی ہی فکررہے ہو یہاں کے لوگوں کے رویے تمہیں تنگ کرہے ہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے  کیونکہ آخرت کا اجر دنیا سے کہیں بہتر ہے۔  مجھ سے شکوے کر کے میری ناشکری نہ کرو۔ تم بے آسرا تھے  کیا میں نے تمہیں آسرا نہیں دیا۔ تم تنگ دست تھے کیا میں نے تمہیں غنی نہیں کیا ۔ تم محتاج تھے  کیا تمہیں لوگوں کی محتاجی سے نہیں بچا لیا۔ تم میری نعمتیں یاد کرتے رہو گے تو کبھی دل گرفتہ نہیں ہوگے۔"
ضمیر بول رہا تھا انسان سن رہا تھا۔ رو رہا تھا اور اللہ کی نعمتیں یاد کررہا تھا۔ واقعی وہ کیا تھا کچھ سال پہلےوہ  لوگوں کے در پر پڑا  تھا اپنی چھت نہ تھی اور اسکے اسباب بھی نہ تھے۔ اور آج وہ ایک خوبصورت   گھر کا مالک تھا ۔ کچھ سال پہلے وہ بے نمازی ، گناہگار، نا شکرا اور بھٹکا ہوا تھا اور آج وہ ہدایت یافتہ تھا۔ وہ صراط مستقیم کی راہ اپنانا چاہتا تھا۔ اس کو اللہ نے سیدھا راستہ دیکھا دیا تھا۔   اس کو دنیا کی وہ تمام نعمتیں دی تھیں  جو ایک عام انسان تصور کر سکتا ہے۔ہدایت اور دل کی نرمی بھی تو اللہ کا بہت بڑا انعام ہے۔ پھر بھی وہ شکوے کر رہا تھا۔ اگر اس کے ساتھ برا ہو رہا تھا تو اللہ اسکا نعمل البدل بھی تو ان نعمتوں کی صورت میں دے رہےتھے۔ اللہ صحیح کہتے ہیں کہ " اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔"
ضمیر: "اگر اللہ ہمیں معاف کردیتا ہے اور نعمتیں نچھاور کرتا ہے تو ہم کیوں  نہیں اللہ کی خاطر اللہ کے بندوں کو معاف کردیتے۔ کیوں صبر نہیں کرتے ۔ آخرت کی بجائے دنیا والوں کی فکر میں لگے ہیں۔ تم صرف  انہیں نظر انداز کرو  بہتر ہے کہ معاف کردو۔ اللہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اور انہیں ہر گز برا بھلا نہ کہو  ورنہ صبر و برادشت کا کوئی فائدہ نہیں۔ دل وسیع کرلو۔  اور اپنے اوپر اللہ کی نعمتیں یاد کرو اور اسکا شکر  ادا کرتے رہا کرو۔"
انسان  نے ہار کر آنکھیں بند کر لی  اسکو صبر آگیا تھا۔ وہ اب مسکرا رہا تھا اپنے پروردگار کی نعمتیں اور اپنے لیے  اسکی محبت کو یاد کر کے۔ ضمیر بھی مسکرا رہا تھا اپنی کامیابی پر۔ لیکن دور کہیں کوئی رو رہا تھا ۔ شیطان آج نا کام ہوا تھااسے رونا تو تھا ہی  کیونکہ  آج پھر ضمیر کا خیر شیطان کے شر پر غالب آگیا تھا۔
آسمانوں پر بہت دور ربّ کا نور بہت زور سے چمکا  جیسے وہ خوش ہو۔ فرشتے سمجھ گئے کہ لگتا ہے آج پھر  کوئی اہل ِ ایمان جیت گیا۔

مکمل تحریر >>

Sunday, October 6, 2013

میرے پیارے نبی اکرام ؐ کی کچھ باتیں

حضور پاک ﷺ کے پاس ایک شخص حاضر ہوا اور دنیا اور آخرت کے متعلق  سوالات کیے۔ اسنے عرض کیا؛ یارسول اللہ ﷺ میں چاہتا ہوں کہ سب سے بڑا عالم بن جاؤں۔ آپﷺ نے فرمایا: " اللہ سے ڈرتے رہو، سب سے بڑے عالم بن جاؤ گے۔"اللہ کے خوف  اور اس کے احکام پر عمل کرنے سے انسان پر علم و حکمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ عرض کیا؛ میں چاہتا ہوں کہ بڑا آدمی بن بن جاؤں۔فرمایا: " سب سے بہتر وہ شخص ہے جو دوسروں کو نفع پہنچائے، تمہیں چاہیے کہ سب کیلیے نفع بخش بن جاؤ۔"
عرض کیا: میری تمنا ہے کہ عادل اور منصف بن جاؤں ۔پھر فرمایا: " دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرو  جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو۔" عرض کیا: میں اللہ کے دربار میں سب سے ذیادہ مقرب بننا چاہتا ہوں۔فرمایا: " سب سے ذیادہ اللہ کا ذکر کرو، اللہ کے مقرب بن جاؤ گے۔ عرض کیا: میری خواہش ہے کہ نیک اور احسان کرنے والا بنوں۔ارشاد فرمایا: " نماز اسطرح پڑھا کرو گویا تم نماز میں اللہ کو دیکھ رہے ہو۔" عرض کیا: میں چاہتا ہوں کہ میرا ایمان مکمل ہوجائے۔ فرمایا: " اپنے اخلاق اور عادات سنوار لو ایمان مکمل ہوجائے گا۔" عرض کیا: میں اللہ کا اطاعت گزار بننا چاہتا ہوں۔فرمایا: " اپنے فرائض ادا کرتے رہو تمہارا شمار اطاعت گزاروں میں کیا جائے گا۔" عرض کیا: میں اللہ سے اس حالت میں ملنا چاہتا ہوں کہ تمام گناہوں سے پاک ہوں۔فرمایا: " غسلِ جنابت کی برکت سے تمام گناہوں سے پاک اٹھو گے۔" عرض کیا: میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھ ر رحم کرے ۔فرمایا: " اپنے نفس پر رحم کرو اور اللہ کی مخلوق پر بھی رحم کرو اللہ تعالیٰ تم پپر رحم کرے گا۔" عرض کیا: میری آرزو ہے کہ میدان حشر میں نور کا ساتھ اٹھایا جاؤں۔ فرمایا: " اگر ظلم نہیں کرو گے تو قیامت میں نور کے ساتھ اٹھو گے۔" عرض کیا: میں چاہتا ہوں کہ میرے گناہ کم ہوں۔ فرمایا: " استغفار کثرت سے پڑھا کرو گناہ کم ہوجائیں گے۔" عرض کیا: میں سب سے ذیادہ بزرگ تر بننا چاہتا ہوں۔ فرمایا : " مصیبت کے وقت میں اللہ کی شکایت نہ کرو سب سے بزرگ تر بن جاؤ گے۔" عرض کیا: میں چاہتا ہوں کہ میرے رزق میں ذیادتی ہو۔ فرمایا : " ہمیشہ پاک و طاہر رہا کرو ،  رزق میں برکت ہوگی۔" عرض کیا: میں چاہتا ہوں کہ اللہ اور اسکے رسولﷺ کا دوست بن جاؤں ۔ ارشاد فرمایا: " جو چیزیں اللہ  اور اسکے رسول ﷺ کو پسند ہیں  انکے اپنے لیے پسند کرلو اور   جو چیزیں اللہ  اور اسکے رسول ﷺ کو  ناپسند ہیں ان سے نفرت اختیار کرو گے تو اللہ اور اسکے رسولﷺ کے دوست بن جاؤ گے۔" عرض کیا: میں اللہ کے غضب سے بچنا چاہتا ہوں۔ فرمایا: " کسی پر بےجا غصہ نہ کراگے تو اللہ کے غضب و ناراضگی سے بچے رہوگے۔" عرض کیا: میں اللہ کے دربار میں مستجاب الدعوات بننا چاہتا ہوں۔ فرمایا : " حرام چیزوں اور باتوں سے بچتے رہو گے تو  مستجاب الدعوات بن جاؤ گے۔" عرض کیا: میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے قیامت کے روز سب کے سامنے رسوا نہ کرے۔فرمایا: " اپنی شرمگاہ کی حفاظت کروگے تو اللہ تمہیں قیامت  میں رسوائی سے بچا لے گا۔"

اس واقع میں ہمارے لیے بہت سبق حاصل کرنے کی باتیں ہیں۔اگر کوئی انسان اس پر غور کرے تو اسکی دنیا اور آخرت دونوں سنور سکتی ہیں۔ایک اور جگہ حضورﷺ نے فرمایا کہ "اللہ نے مجھے نو باتوں کا حکم دیا ہے :
٭ ظاہراً   و باطناً اللہ سے ڈرنا
٭ غصے  کی حالت میں انصاف کی بات کرنا
٭  محتاجی اور مال داری میں میانہ روی اختیار کرنا
٭ جو مجھ سے تعلق توڑے اس کے ساتتھ جوڑو، جو بے مروتی کرے اس کے ساتھ مروت کروں
٭  جو مجھے محروم کرے اس کو دوں۔
٭  جو مجھ پر ظلم کرے اس کو معاف کروں
٭  میرا چپ رہنا غوروفکر کی وجہ سے ہو۔
٭ میرا بولنا اللہ کا ذکر ہو۔
٭ اور میرا  دیکھنا عبرت ہو اور میں نیکی کا حکم دیتا رہوں۔
مکمل تحریر >>

Friday, October 4, 2013

Gap analysis of todays society with Quranic society

اسلامی معاشرہ  ہمیں تمام انسانوں کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اور ایک ایسا معاشرہ بنانے کا حکم دیتا ہے جس سے اخلاقی اور  معاشرتی بیماریاں جنم نہیں لیتی اوراس سے ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔آج کے معاشرے کا اسلامی معاشرے کے درمیان جو بہت ذیادہ گیپ موجود  ہے ہمیں اس کو قرآنی احکامات پر عمل کر کےختم کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشرہ جس   بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے وہ خاندان ہے اور خاندان کی بنیاد میاں بیوی کے باہمی تعلقات ہوتے ہیں۔  اس لیے سب سے پہلے ہم اس کا گیپ انالیسسز کرتے ہیں۔

 میاں بیوی کے باہمی تعلقات :


موجودہ معاشرہ
اسلامی معاشرہ
طلاق کی اوسط شرح میں ریکارڈ اضافہ
٭    طلاق ایک حلال   مگر ناپسندیدہ حکم ہے ۔
نفرتوں کا اضافہ اور ایک دوسرے کا احترام ختم۔۔۔نتیجہ ؛   میاں بیوی کے اختلافات عام
٭ باہمی محبت اور احترام کا حکم۔۔۔نتیجہ ؛  ایک صحت مند معاشرہ
برداشت ختم اور جذباتیت کا اضافہ
٭  ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حکم
خاندانی نظام سے آزادی کو فروغ
٭ خاندانی نظام کے قیام  کو فروغ
عورت کی خودمختاری کو فروغ
٭ مرد قوام ہیں عورت پر
فوراً تین طلاقوں کے بعد گھر بدر کردینا یا ایک طلاق کے بعدعورت کا خود گھر کو چھوڑ دینا
٭پہلے ایک طلاق کا حکم ؛ عدت کے بعد فیصلہ تاکہ میاں بیوی کو سوچنے سمجھنے کا وقت ملے
بیوی کے نان نفقہ کو اہمیت نہیں دی جاتی نتیجہ ؛ لڑائی جھگڑے اینڈ  رزلٹ علیحدگی/طلاق
٭ بیوی کا مناسب نان نفقہ اور گھر کا خرچ
رشتہ دار خود طلاق دلوانے میں اہم کرادر ادا کرتے ہیں
٭ اگر ساتھ نہیں بن رہا تو رشتہ داروں کی مدد لی جائے تاکہ وہ صلح کرائیں
نااتفاقی اور بد اخلاقی کا مظاہرہ
٭ خوش اخلاقی اور اتفاق  سے پیش آنے کا حکم

انحرافات کو ختم کرنے کیلیے اصتلاحات :

اسلامی معاشرے کے قیام کے لیےاجتماعی طور پر مندرجہ ذیل اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے:
1: بے جوڑ شادیوں سے پرہیز کیا جائے اور لڑکا   لڑکی سے انکی پسند نا پسند  پوچھی جائے۔
2: شادی کے بعد ذمہ داری میاں بیوی پر  آجاتی ہے اسلیے دونوں کو محبت اور احترام کے ساتھ رہنا چاہیے۔ خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اگر ایک بدزبان ہے تو دوسرے کو خوش اخلاقی  اور برداشت سے کام لینا چاہیے۔
3: خاندانی نظام کو فروغ دیں اور خاندان میں رہنے کو ترجیح دیں۔
4: فیملی کورٹس کو درست کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان کورٹس میں ننانوے فیصد فیصلے عورت کے حق میں  یعنی خلع دلوانے میں کامیابی ہوتی ہے۔ انکا مقصد ہی طلاق دلوانا ہوتا ہے حالانکہ انکا بنیادی مقصد طلاق کو روکنے اور صلح کرانے میں ہونا چاہیے۔ اس مقصد کےلیے انہی کورٹس میں ایک کاؤنسلنگ  ادارہ کے قیام کو مضبوط بنانا چاہیے جو میاں بیوی کے باہمی اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کرے اور چھ ماہ کا وقفہ انکی کاؤنسلنگ کیلے رکھے پھر بھی بات نہ بنے تو   طلاق کا فیصلہ ہو۔
5: طلاق کا سب سے بڑا ذمہ ہمارے میڈیا کو جاتا ہے ۔ آجکل ایسے ڈرامےدکھائے جاتے ہیں جن میں طلاق ایک عام موضوع ہوتا ہے  اس طرح  یہ لوگوں کے ذہنوں میں پہلے سے ہی موجود ہوتا ہے  یعنی ہر جھگڑے کا حل طلاق۔ لہذا بڑے پیمانے پر میڈیا کو درست کرنے کی ضرورت ہے اور چھوٹے پیمانے پر ایسے مواد دیکھنے سے بچوں کو روکنا ماں باپ کی ذمہ داری ہے۔
6: ہر جھگڑے کا حل طلاق نہیں ہوتا یہ بات میاں بیوی کے علاوہ ماں باپ اور رشتہ داروں کو بھی سمجھنی 

چاہیے ۔

 کمزور طبقہ کی مدد اور زکوٰۃ

خاندان کے بعد معاشرے میں سب سے ذیادہ مستحق غرباء اور مساکین ہیں ۔ یہ معاشرے کا وہ کمزور طبقہ ہے جن کی کفالت  ہمارا فرض ہے نہ کہ کوئی احسان۔ آج کے معاشرے میں اگر کوئی انکی مدد کر بھی دے تو وہ صرف  دکھاوا کیلیے بہت کم لوگ ایسے رہ گئے  ہیں جو صرف اللہ کیلیے انکی مدد کرتے ہیں۔  اب انکا گیپ انالیسسز کرلیتے ہیں:

موجودہ معاشرہ
اسلامی معاشرہ
دکھاوے کی مدد وہ بھی کم رہ گئی ہے
٭ غرباء اور مساکین کا خیال  اور انکی مالی  مدد  انکا حق
آج کا معاشرہ زکوٰۃ کو  اہمیت ہی نہیں دیتا اور مال جمع کر تا ہے
٭ زکوٰۃ کی ادائیگی ہر صاحبِ مال پر فرض
دنیا اور مال کی محبت نے کمزور طبقہ کی مدد کا حوصلہ تک چھین لیا ہے۔
٭ کمزور طبقہ کی مدد
گردشِ دولت صفر،  تنیجہ؛  غریب غریب تر۔۔۔امیر امیر تر
٭ زکوٰۃ سے گردشِ دولت 


انحرافات کو ختم کرنے کیلیے اصتلاحات :


محلے محلے میں ایک ادارہ قائم ہونا چاہیے جس کو محلے کے ایماندار لوگ چلائیں اور  جو محلے میں موجود ہر 
خاندان کا تحریری رکارڈ رکھے۔ جن میں کل تعداد، بوڑھوں کی تعداداور  بچوں کی تعدادوغیرہ موجود ہو۔ وہ
 ادارہ انکی خبر رکھے اور محلے کے امیر طبقہ سے زکوٰۃ   اور چندہ جمع کر ے۔ اس رقم سے محلے میں موجود  غریب اور جن کے پاس بنیادی ضرورتوں کےلیے وسائل نہیں  انکی مدد کی جائے مثلاً :
 ٭ بیواؤں کا ماہانہ خرچ
٭ غریب ماں باپ جن کے پاس بیٹی کی شادی اور جہیز کیلیے وسائل نہیں انکی مد
٭  غریب بچوں کی پڑھائی


٭ بیماروں اور ناداروں کی مالی اور جسمانی مدد( ہسپتالوں اور سرکاری دفتروں کے کام وغیرہ)


جسمانی مدد کیلیے  محلے کے نوجوانوں  کو اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس سے دولت کی گردش رہے گی اور غریبوں
 کے حالات بہتر ہونگے۔

یتیموں اور والدین کے حقوق :

والدین جب برھاپے کو پہنچ جاتے ہیں تو اولاد ان کے حقوق نظر انداز کردیتی ہے اور ان کا خیال رکھنے سے بچنے کیلیے انکو" اولڈ ہومز "میں بھیج دیتی ہے۔ یتیموں کے والی وارث نہ ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جاتا ہے اور انکی دولت کو انسے چھین لیا جاتا ہے۔ قرآن ہمیں ان دونوں کے ساتھ احسن 
معاملات کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اور ان کے حقوق ادا کرنے پر زور دیتا ہے۔

موجودہ معاشرہ

اسلامی معاشرہ


ماں باپ  کی عزت کم  اور بد اخلاقی کا مظاہرہ
٭  والدین کے ساتھ حسن و سلوک کا حکم
والدین

ماں باپ کے سامنے بلند آواز میں بات کرنا عام
٭ والدین کو اُف تک نہ کہو جب وہ بڑھاپے کو پہنچ جائیں
اولاد ماں باپ کی ضروریات کا خیال تو درکنار ان کا حال احوال تک دریافت نہیں  کرتی
٭ والدین کی ضروریات کا خیال

موجودہ معاشرہ

اسلامی معاشرہ


بہت کم ان کے حقوق صیح طریقے سے ادا کیے جاتے ہیں
٭  یتیموں کے حقوق کا خیال
یتیم

گزارے لائق دنیا دکھاوے کیلیے  پرورش
٭یتیموں کی اچھے طریقے سے پرورش
انکے مال پر رشتہ داروں کی بد دیانتی
٭ یتیموں کے مال میں دیانت داری


: انحرافات کو ختم کرنے کے لیے  اصتلاحات

ان انحرافات کو ختم کرنے کیلیے احساس کی ضرورت ہے ۔ ان  میں رشتہ داروں کا کرداربہت اہم ہے۔  یتیموں 
کیلیے اگر رشتہ دار  بد دیانتی کا مظاہرہ کر رہےہیں تو ایماندار رشتہ دار یا کوئی یتیم کا  ویل وشر ان کی مدد کیلیے 
قانونی مدد لے ۔ والدین کے ساتھ محبت سےے پیش آنا چاہیے اور یہ سمجھناچاہیے کہ جب وہ بڑھاپے کو پہنچ
 جاتے ہیں تو وہ چڑچڑے ہوجاتے ہیں اور ان کو ذیادہ ٹائم دینے کی ضرورت ہے ۔  اس لیے ان کےغصے کی 
نظر انداز کر کے انکا خیال رکھنا چاہیے۔ ان کے حقوق ویسے ہی پورے کرنے چاہیے جیسے انہوں نے بچپن میں
 ہمارا خیال رکھا  اور ہمارے  حقوق پورے کیے۔ جب بھی ان پر غصہ آئے تو ہمیں اپنا بچپن یاد کرنا چاہیے ۔

شرم و حیا:

معاشرے کی تقریباً تمام برائیوں کی جڑ بے حیائی ہے۔ آج کے معاشرے میں شرم و حیا  کا  بہت  ذیادہ  فقدان ہے۔

موجودہ معاشرہ
اسلامی معاشرہ
پردے کی بجائے عریانیت عام
٭ پردے کا اہتمام
نظروں کا کوئی پردہ نہیں 
٭نظروں کو جھکا کے چلنے کا حکم
کھلے عام بے حیائی کے مظاہرے 
٭کھلی چھپی بے حیائی سے پرہیز

انحرافات کو ختم کرنے کیلیے اصتلاحات 

٭اس کے لیے دینی تعلیم کی بہت ضرورت ہے
٭ پردے کی اہمیت کے بارے میں کانسپٹس  کلئیر کرنے چاہیے۔ بہت سی عورتیں اس کو قید سمجھتی ہیں  جبکہ پردہ عورت کی آزادی ہے ۔ وہ جیسے چاہے گھوم پھر سکتی ہے گندی نظروں بچ سکتی اگر اس کے جسم پر  پراپر پردہ ہو تو۔
٭اس میں میڈیا نئی نسل کو بہت خراب کر رہا ہےاور بے حیائی پھیلانے کا   سب سے بڑا محرک ہے۔  ایسا مواد دیکھنا اور پڑھنا چاہیے جس سے ایمان مضبوط ہو نہ کہ کمزور۔
٭ مخلوط تعلیمی نظام کو بھی ختم کرنا چاہیے۔
٭ پردہ  کو حکومتی سطح پر لازم کردینا چاہیے۔


: وراثت کا حق


وراثت کی غیر منصفانہ تقسیم سے بہت سے مسائل اور برائیاں جنم لیتی ہیں۔ اور رشتہ داروں میں اختلافات کا

 باعث بنتی ہیں۔

موجودہ معاشرہ
اسلامی معاشرہ
غیر منصفانہ تقسیم  خاص کر بیٹیوں کو ان کے حق سے محروم کردیا جاتا ہے
٭ جمع شدہ دولت کے چھوٹے چھوٹے حصے  منصفانہ تقسیم
بہت کم لوگ وصیت لکھتے ہیں اگر کوئی کرے بھی تو رشتہ دار جھوٹی وصیت بنالیتے ہیں 
٭وصیت کا حکم
مرنے والے کی طرف سے لالچ کی وجہ سے قرض کی ادائیگی رشتہ دار لازم نہیں سمجھتے
٭قرض کی ادائیگی

:انحرافات کو ختم کرنے کیلیے اصتلاحات 

٭ وارث اللہ نے بنائے ہیں اس بات کو ذہن نشین کرلینا چاہیے  پھر ہی منصفانہ تقسیم کرنی چاہیے۔
٭  وصیت کو اہمیت دینی چاہیے اور وصیت کرنے والے کو بھی چاہیے کہ اپنے  مال کو اللہ کے حکم کے مطابق 
تقسیم کرے۔
٭ تقسیم کے وقت بیٹیوں کے حق کا بھی خیال کرنا چاہیے۔
٭  رشتہ داروں کو بھی شریک کرنا چاہیے ورنہ بعد میں رشتہ دار گھر والوں کو بہت تنگ کرتے ہیں اور بہت 

لڑائی جھگڑے  ہوتے ہیں۔


حرفِ آخر:

اگر ہم اجتماعی اور انفرادی طور پر قرآن کے احکامات کو اپنی زندگی کے تمام معاملات میں شامل کرلیں تو ایک آئیڈیل اسلامی معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔ اور آج جو مسلمان اتنی پستی کا شکار ہو رہے ہیں وہ ایک بار پھر اپنے آپ کو مضبوط کر سکتے ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے ایک نیک اور صحت مند معاشرہ قوموں کی ترقی کا باعث بنتا ہیں۔ اور برا معاشرہ قوم کے زوال کا باعث بنتا ہے۔ اور بحیثیت مسلمان اسلامی معاشرے کا قیام صرف قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل  کی وجہ سے ہی ممکن ہے۔



مکمل تحریر >>

My Blog List