ہر کسے کُو دور مانْداز اصلِ خویش
باز جوید روزگارِ وصلِ خویش
جو کوئی اپنی اصل سے دور ہو جاتا ہے
وہ اپنے وصل کا زمانہ پھر تلاش کرتا ہے.
~مثنوی مولانا روم~
لفظی معنی :
یہاں مولانا بانسری کا ذکر کرتے ہیں کہ جب بانسری اپنی اصل یعنی بانس سے الگ ہوگئی پھر بھی وہ اپنی بنسلی میں لوٹنے کی مشتاق ہے.
ظاہری معنی:
جب کوئی عاشق اپنے معشوق سے الگ ہوجاتا ہے تو وہ اس کی طرف جانے کا مشتاق رہتا ہے. اسی کہ یاد میں تڑپتا ہے.
باطنی معنی:
جب انسان اپنے رب کو بھول جاتا ہے اپنی اصل سے دور ہوجاتا ہے الگ ہوجاتا ہے. وہ یوں ہی بے چین رہتا ہے. وہ منزل تک پہنچنا چاہتا ہے. اپنی روح کو پانا چاہتا ہے. جو اس سے رب سے دوری کی وجہ سے کھو گئی ہے. کیونکہ جب رب نہیں ( جو کہ اصل ہے.) تو روح نہیں اور اگر روح نہیں تو دل دکھ، درد اور نالاؤں کا مسکن ہے. ایسا دل ویران ہوتا ہے.
~مدیحہ فاطمہ~