بیاضِ مدیحہ: Gap analysis of todays society with Quranic societ...: اسلامی معاشرہ ہمیں تمام انسانوں کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اور ایک ایسا معاشرہ بنانے کا حکم دیتا ہے جس سے اخلاقی اور معاشرتی ب...
مکمل تحریر >>
Saturday, April 12, 2014
Friday, April 11, 2014
کیا آپ اپنی دشمنیاں ختم کرنا چاہتے ہیں؟ ۔۔۔۔۔۔ خاندانی اور نسلی دشمنیاں ختم کرنے کا قرآنی طریقہ کار
Posted by
Unknown
سورہ فُصّلٰت آیت ٣٤ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
وَ لَا تَسۡتَوِی
الۡحَسَنَۃُ وَ لَا السَّیِّئَۃُ ؕ اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ فَاِذَا
الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَ بَیۡنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ ﴿۳۴﴾
"اور
بھلائی اور برائی برابر نہیں ہو سکتی تو (سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو
بہت اچھا ہو (ایسا کرنے
سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ
تمہارا گرم جوش دوست ہے " ﴿٤٠: ٣٤﴾
اس آیت
میں ہم سب کے لیے ایک اہم اخلاقی
ہدایت موجود ہے کہ برائی کو اچھائی کے
ساتھ ٹالو یعنی برائی کا بدلہ احسان کے ساتھ، زیادتی کا بدلہ عفو کے ساتھ غضب کا
صبر کے ساتھ بےہودگیوں کا جواب چشم پوشی کے ساتھ اور مکروہات کا جواب برداشت اور
حلم کے ساتھ دیا جائے اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہارا دشمن دوست بن جائے گا دور
دور رہنے والا قریب ہو جائے گا اور خون کا پیاسا تمہارا گرویدہ اور جانثار ہو
جائے گا۔ اور ویسے بھی ایک مومن قانت اور
خصوصاً داعی الی اللہ کا مسلک بھی یہ ہونا
چاہیے کہ برائی کا جواب برائی سے نہ دے بلکہ جہاں تک گنجائش ہو برائی کے مقابلہ میں
بھلائی سے پیش آئے۔ اگر کوئی اسے سخت بات کہہ
بھی دے یا برا معاملہ کرے تو اس کے مقابل وہ طرز اختیار کرنا چاہیے جو اس
سے بہتر ہو۔ مثلاً غصہ کے جواب میں بردباری، گالی کے جواب میں تہذیب و شائستگی اور
سختی کے جواب میں نرمی اور مہربانی سے پیش آئے۔ اس طرز عمل کے نتیجہ میں ہو گا یہ کہ
سخت سے سخت دشمن بھی ڈھیلا پڑ جائے گا۔ اور گو دل سے دوست نہ بنے تاہم ایک وقت آئے
گا جب وہ ظاہراً ایک
گہرے اور گرم جوش دوست کی طرح بر تاؤ
کرنے لگے گا۔ بلکہ ممکن ہے کہ کچھ دنوں بعد سچے دل سے دوست بھی بن جائے اور دشمنی
و عداوت کے خیالات یکسر دل سے نکل جائیں۔
جیسا
آیت "عسی اللہ ان
یجعل بینکم وبین الذین عادیتہم منہم مودۃ" (سورہ ممتحنہ، رکوع٢) ہاں کسی
شخص کی طبیعت کی افتاد ہی سانپ بچھو کی طرح ہو کہ کوئی نرم خوئی اور خوش اخلاقی اس
پر اثر نہ کرے وہ دوسری بات ہے مگر ایسے افراد بہت کم ہوتے ہیں۔ بہرحال دعوت الی
اللہ کے منصب پر فائز ہونے والوں کو بہت زیادہ صبر و استقلال اور حسن خلق کی ضرورت
ہے۔
عام زندگی میں اگر ہم اس گوہر ہدایت کو لاگو کر لیں تو ہم بہت سی مشکلات
سے بچ سکتے ہیں۔ خاندانی اور قبائلی چپقلش کہاں نہیں ہوتی۔ لیکن ان کو بھی اسی اصول پر عمل پیرا ہو کر ختم کیا
جا سکتا ہے۔ ایک انسان کب تک آپ کو مار سکتا ہے۔ اگر جواباً ہم بھی برابر ہاتھ
اٹھائیں گے تو یہ لڑائی طول پکڑ سکتی ہے۔ اسی طرح اگر بحث
برائے بحث کی جائے تو بحث کبھی ختم نہیں ہوتی
بلکہ بڑھتی ہی رہتی ہے نتیجتاً غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں۔
اگر ہم پہلے ہی بحث کے جواب میں خاموش ہو جاتے تو نوبت یہاں تک نہ آتی۔ بلکہ آپ کے خاموش رہنے سے اس کا غصہ بھی ٹھنڈا پڑ
جائے گا اور کچھ دیر تک وہ نارمل بھی
ہوجائے گا۔
