Sunday, January 26, 2014

ریگنگ کی تباہ کاریاں


کلاس شروع ہونے میں ابھی کافی وقت باقی تھا اس لیے میں کلاس   کے سامنے بنی سیڑھیوں پر آکر بیٹھ گئی۔  چونکہ  آج نئے بیچ کا پہلا دن تھا  اس لئےیونیورسٹی میں معمول سے  زیادہ چہل پہل تھی۔ ۔ہر جگہ جونیئر طلبا ٹولیاں  بنا کر کھڑے تھے۔   ابھی میں یہ منظر دیکھ ہی رہی تھی کہ  کہ سامنے سے ایک لڑکا بھاگتا ہوا آیا۔ وہ خوف زدہ   اور گھبرایا ہوا تھا۔ اس نے رک کر ایک نظر پیچھے دیکھا ،   جب  میں نے  اس کے نگاہوں  کا تعاقب  کیا  تو ایک جم غفیر اس کے پیچھے بھاگا  چلاآرہا تھا  ۔  یہ مجمع سینئر طلبا کا تھا۔ اس لڑکے نے پھر سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن ایک سینئر  جمپ لگا کر اسکے سامنے  آگے آگیا اور اس کے فرار کی راہیں مسدود ہوگئیں۔ لڑکا بے بسی سے ان سینئیرز کو دیکھ رہا تھا  جو اس پر آوازیں کس رہے تھے ۔ راہ روکے لڑکے نے اس لاچار کا  نام پوچھا۔ اس سے قبل وہ کوئی جواب دے پاتا کہ ہجوم سے آوازیں آنے لگیں :
" بھگوڑا،  بھگوڑا،  بھگوڑا"
" جی نہیں  اسکا نام تو مسٹر ڈرپوک ہے۔"۔ ایک سینئر لڑکی نے  ہانک لگائی۔
اس  کے بعدساتھ ہی پورا ہجوم نعرے لگانے لگا  :" ڈرپوک، ڈرپوک، ڈرپوک"
سامنے کھڑے سینئیر نے اسے زور کادھکا دیا  اور وہ معصوم  ہجوم کے ہتھے چڑھ گیا۔ اب کوئی اس کی کمر سہلا رہا تھا تو کوئی سر کی مالش کررہا تھا۔  بڑی مشکل سے وہ ہجوم کی دستبرد سے خود کو بچاکر الگ کھڑا ہوگیا اور بےبسی  سے بولا:
"آخر تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟"
 "ہم کچھ نہیں چاہتے ، اگر تم جان چھڑانا چاہتے ہو تو ہم سب کو کینٹین سے کھانا کھلاؤ۔ " ابھی ایک مطالبہ پیش ہی ہوا تھا کہ ہجوم نے شور مچا دیا : "نہیں نہیں نہیں  ، ہمیں ناچ کر دیکھاؤ"۔ اس کے بعد بےہنگم قہقے  گونجنے لگے۔ایک اور سینئیر آگے بڑھا  اور جھٹ سے اسکا والٹ نکال لیا ۔ جونیئر نے والٹ  واپس لینا چاہا لیکن ناکام رہا۔والٹ سے تقریباً دو سو روپے برآمد ہوئے۔ اس پر سب نے اسے فقیر فقیر  کے طعنے دینے شروع کردیے۔ 
 اس سے زیادہ دیکھنے کا حوصلہ مجھ میں  نہیں  تھا لہذا میں وہاں سے اٹھ کر کلاس میں آگئی۔میرا دل بہت چاہا کہ اس لڑکے کو بچاؤں  لیکن مجھے معلوم تھا کہ ایسا کرنے سے میں خود بھی اس واہیات مذاق کا شکار ہوسکتی ہوں اور میں فطرتاً بزدل واقع ہوئی ہوں لہذا میری حیثیت ایک تماشائی سے زیادہ نہیں تھی۔میں نہیں جانتی اس لڑکے کے ساتھ بعد میں کیا ہوا لیکن  میں نے اس لڑکے کو دوبارہ یونیورسٹی میں نہیں دیکھا۔
وقت کا کام گزرنا ہے وہ گزر ہی جاتا ہے ۔آج اس واقعے کو    پانچ سال گزر گئے لیکن اس واقعے کی بازگشت  آج بھی میرے اندر موجود ہے۔
اس قسم کے " مذاق" کو ریگنگ یا  بُلنگ کہتے ہیں۔  ریگنگ  ایک ایسی سالانہ بربریت پر مبنی روایت ہے جو شمالی ایشیا میں پھیلی ہوئی ہے جو ہمارے اخلاقی  نظا م کو تباہ کررہی ہے۔  آج کے دور میں اس ستم ظریفی  کا سب سے بڑا  شکار سری لنکا،پاکستان اور انڈیا  کے طلبا ہیں ۔  اس کے علاوہ مغربی ممالک سے بھی ریگنگ کیسز سامنے آتے  ہیں۔ حالیہ سروے کے مطابق زیادہ  تر  اسٹوڈنٹس کی اموات  اسی ریگنگ کے باعث ہوتیں ہیں۔ سن  2008-2009 میں ریگنگ کے 89 کیسز رصرف انڈیا میں رپورٹ کیے گئے  جس میں 12 اموات اور 5 خودکشی کے کیسز تھے۔ 44فیصد  کیسز کو سیریس جسمانی انجریز کے باعث ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ پاکستان میں میڈیکل اور انجینئرنگ  کالجز سب سے زیادہ  اس بے ہودہ  روایت کا شکار ہیں۔ہاسٹلز خاص طور پر  اس بُلنگ اور ریگنگ کا گڑھ  ہیں کیونکہ یہاں کوئی روک ٹوک نہیں ہوتی۔ یہاں نئے آنے والوں کے  ساتھ انتہائی ظالمانہ سلوک کیا  جاتا ہے اور بعض اوقات ایسے  جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے جو کہ الفاظ میں بھی بیان نہیں ہوسکتا۔
یہ روایت کہاں سے آئی؟  اس کی تاریخ کیا ہے ؟   تاریخ دان کہتے ہیں کہ اور بہت سی معاشرتی بیماریوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی مغرب کا تحفہ ہے۔ اسکی تاریخ  کی ابتدا یونان  میں اسپورٹس سے کی جاتی ہے  جب وہاں کوئی نیا کھلاڑی آتا تو پرانے کھلاڑی  ہر طرح سے اسے ذلیل خوار کرتے  تاکہ اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کی جاسکے۔   یہی روایات بعد میں کچھ تبدیلیوں  کے ساتھ فوج میں آئی اور پھر  یہ تعلیمی نظام میں داخل ہوئی۔
ریگنگ کی تباہ کاریاں اس عمل کے ساتھ ہی شروع  ہوگئیں  تھیں ۔ اس قبیح فعل  کے باعث سب سے پہلی موت 1873 میں ہوئی جب کارنل یونیورسٹی کا  نوآموز اسٹوڈنٹ ریگنگ کے باعث کھائی میں جا گرا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد ریگنگ ایک  بہت بڑے پیمانے پر پھیلنا شروع ہوئی یہ وہی وقت تھا جب ریگنگ نے بربریت کی صورت اختیار کر لی۔  اور انگریز نے جب برصغیرپر قبضہ کیا تو  یہ روایت اپنے ساتھ لائے۔  اور آج سری لنکا اور شمالی انڈیا اس ریگنگ کا گڑھ مانے جاتے ہیں۔   اور آج یہ رسم  ہمارے پاکستان میں بھی اپنی جڑیں مضبوط کر چکی ہے۔
اگر ہم  اسلام کی تعلیمات پر غور کریں تو واضح طور پر  اس  قسم کے مذاق کی کوئی گنجائش نہیں  اورقرآن و احادیث اس قبیح فعل کی مذمت میں واضح طور پر وعید سناتے ہیں۔
سورہ الحجرات میں  واضح طور پربیان ہوتا ہے کہ :
                ”اے ایمان والو! نہ مردوں کی کوئی جماعت دوسرے مردوں کا مذاق اڑائے ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں کیا عجب وہ ان سے بہتر نکلیں۔ (الحجرات 11:49)
مذاق اڑانا ایک شخص کی تحقیر کرنا اور اسے بے عزت کرنا ہے۔ اسی لئے روایات  میں کسی کی آبرو  کو نقصان پہچانے کی واضح الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے۔۔۔۔۔سرور عالم ﷺنے فرمایا ۔۔۔۔"جو کوئی کسی مسلمان کی عزت کو نقصان پہنچاتا ہے تو اس پر اللہ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوتی ہے اس کی نفل اور فرض عبادت قبول نہیں ہوگی۔"(صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 440 )
مذا ق اڑانے کا عمومی مقصد کسی مخصوص شخص کی تحقیر کرنا اور اسے کمتر مشہور کرنا ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے تکبر کا رویہ کارفرما ہے۔ دوسری جانب تکبرکے بارے میں  قرآ ن و حدیث  میں سخت الفاظ میں مذمت بیان ہوئی ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا اس پر ایک آدمی نے عرض کیا کہ ایک آدمی چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کی جو تی بھی اچھی ہو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ جمیل ہے اور جمال ہی کو پسند کرتا ہے تکبر تو حق کی طرف سے منہ موڑنے اور دوسرے لوگوں کو کمتر سمجھنے کو کہتے ہیں۔" ( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 266)
ایک اور روایت میں بھی  اس روئیے کی بالواسطہ مذمت بیان ہوئی ہے۔
                حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا۔۔۔۔"اللہ کے بندے بھائی بھائی ہو جاؤ  ،مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر سمجھتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا تقوی یہاں ہے کسی آدمی کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر پورا پورا حرام ہے اس کا خون اور اس کا مال اور اس کی عزت و آبرو"۔(صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2044)
                مذاق اڑانے کا منطقی نتیجہ کسی شخص کی دل آزاری کی شکل میں نکلتا ہے۔ اس ایذا رسانی کی بھی ان الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
عبداللہ بن عمرو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا" مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان ایذاء نہ پائیں۔" ( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 9)
ہمِیں چاہئے کہ بحیثیت مسلمان اس رسم کا قلع قمع کریں، اس کی مذمت کریں اورحکومتی  سطح پر اس کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کریں۔
مکمل تحریر >>

Monday, January 20, 2014

حضرت خضرؑ کون تھے۔؟

حضرت خضرٰؑ   کون تھے اس بارے میں بہت سی رائےپائی جاتی ہیں۔  بعض علماءحضرت خضرٰؑ   کونبی، کچھ ولی اور کوئی فرشتہ مانتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم ان تینکیٹیگر یزکو دیکھ لیتے ہیں کہ یہ کون  ہوتے ہیں۔


نبی :  تفسیر ضیا القرآن کے حوالہ سےاس کی تشریح اور معنی کی تحقیق پیش ہے۔  اس کے ماخذ کے متعلق اہلِ لغت کے تین قول ہیں:               

1 :  نَبَاٌ

2: نَبُوَّۃٌ

3:  نَبَاوَۃٌ                                                                                                                                                

پہلے قول کے مطابق نبی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دینے والا ہو۔ اگر اسکا ماخذ نَبُوَّۃٌ   یا نَبَاوَۃٌ   ہو تو اس کے معنی بلند اور اونچی چیز کے ہو جاتے ہیں کیونکہ نبی دوسروں سے ہر لحاظ سے(علم و مقام)  ارفع و اعلیٰ  ہوتا ہے اس لیے اسے نبی کہتے ہیں۔
علامہ اصفحانی کی رائے کے مطابق "نبا" ہر خبر کو نہیں کہتےبلکہ" نبا " وہ خبر ہے جو :
*  فائدہ مند ہو          
*  اہم اور عظیم ہو

   فرشتہ : فرشتےنورانی مخلوق ہیں ۔ یہ انسان و جناّت سے بھی بہت پہلے سے موجود ہیں۔ انکا کام صرف  اللہ کی عبادت کرنا اور اللہ کے احکامات ماننا ہے۔اور دنیا کے تکوینی امورانجام  دینا بھی انکے کاموں میں شمارہوتے ہیں۔ حضرت آدمؑ کو اللہ نے اسماء کا علم سیکھایا تو فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا ۔ یہ سجدہ اس بات کی علامت تھا کہ آدمؑ علم کی بنا پر فرشتوں سے افضل ہیں۔ حضرت آدمؑ کے پاس فرشتوں سے زیادہ علم تھا۔ اگر حضرت خضؑر فرشتے تھے تو تب بھی وہ وہیں موجود ہونگے انہوں نے بھی آدمؑ کو سجدہ کیا ہوگا۔حالانکہ سجدے کا مطلب ہی انسان کی علم پر برتری قبول کرنا اور انسان کی خدمت کرنا تھا۔ وہب بن منبہ نے رسول اکرم صلى الله عليه وسلم سے نقل فرمایا کہ جب موسیٰؑ نے یہ خیال کیا وہ اہلِ زمین میں سب سے بڑے عالم ہیں تو اس وقت اللہ نے جس شخص کی تلاش میں بھیجا وہ خضرٰؑ تھے (جو موسیٰؑ سے بھی بڑے عالم تھے)  تاکہ وہ ان سے علم سیکھیں۔جب فرشتوں سے زیادہ علم اللہ نے انسان کو دیا اور فرشتوں نے اس بات کو مانتےہوئے انسان کو سجدہ کیا تو پھر یہ کیسے مان  لیا جائے کہ ایک نبی جو کلیم اللہ ہے وہ ایک فرشتے سے علم سیکھنےجائیں کیونکہ وہ ایک نبی سے بھی بڑے عالم تھے۔حالانکہ وہ (فرشتے) سجدے کی صورت میں اپنی کم علمی کا اقرار کر چکے تھے ۔لہذا حضرت خضرٰؑ   فرشتے نہیں تھے۔

              

   ولی : ولی اللہ کے نیک بندے اور دوست ہوتے ہیں۔ یہ وہ بوریا نشین انسان ہوتے ہیں جنکی ساری زندگی عبادت میں گزرتی ہے اوروہ اپنے نفس پر پورا اختیار رکھتے    ہیں۔ اپنی عبادات اور مجاہدات سے وہاعلیٰ مقام حاصل کر لیتے ہیں جو بہت کم لوگوں کو ملتا ہے۔ انکی روحانی پرواز کعبہ شریف و روضہِ اطہر سے لے کر سدرہ المنتہیٰ تک ہوتی ہے۔ا نہی کے بارے میں قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ " وہ مردانِ  حق جنہیں تجارت اور خرید و فروخت یادِ خدا وندی سے غافل نہیں کرتی"۔  صوفیا ءکرام نےعلومِ اسلامیہ کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہے:


1: علم الاحکام
2: علم الاسرار
علم الاحکام یعنی مسائل و فضائلِ شریعہ تک محدود رہنے والے علماء محدث،فقیہ، مفتی اور مجتہد وغیرہ کہلاتے ہیں ۔ اور صرف علم الاسرار کے جاننے والے درویش صوفی ابدال  وغیرہ کہلاتے ہیں۔ البتہ اہلِ کمال کا ایک طبقہ ایسا بھی ہےجو دونوں علوم سے فائدہ حاصل کرتا ہے۔حدیث شریف میں انہیں بزرگوں کو انبیا ء کے وارث کہا گیا ہے۔ علوم الاسرار اور روحانیت کا سرچشمہ بھی دیگر علومِ اسلامیہ کی طرح قرآن مجید ہی ہے۔ ا اہلِ ولایت کو بھی صوفیا کرام نے دو طبقوں میں تقسیم کیا ہے ۔ایک کا تعلق تشریحی امور سے اور ایک کا تعلق تکوینی امور سے ہے۔ یعنی ایک طبقہ اہلِ دعوت و ارشاد ہے اور دوسرا طبقہ اہلِ تصّوف و اختیار ہےاور یہ رجال الغیب کی حیثیت سے  تکوینی امور انجام  دیتے ہیں مثلاًجنگ و امن ، عذاب و سزا ، بارش و طوفان، فتح و شکست ، حکومت و اقتداراور انسانی معاشرت سے متعلق دیگر انتظامی معاملات کا طے پانا(اللہ کے حکم سے ) ایسے ہی اہلِ باطن کے روحانی تصرف سے وابستہ ہوتاہے۔ اللہ  فرماتے ہیں  : " زمین و آسمان کے لشکر اللہ ہی کے ہیں "۔(الفتح:4)
امام قرطبیؒ اس کی تفسیر میں حضرت ابنِ عباس رضی تعالیٰ عنہا کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ آسمانی لشکر سے مرادملائکہ اور زمینی لشکر سے مراد اہلِ ایمان  ہیں۔امام جلال و الدین سیوطیؒ اپنی تفسیر" الدر المنثور"  میں بحوالہ ابن عباس رضی تعالیٰ عنہا نقل فرماتے ہیں : " روحیں اللہ کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہیں" سید الطائفہ حضرت جنید بغدادیؒ نے اولیاء کرام  کو بھی " جنداللہ "  فرمایا ہے۔
اللہ کے بہت سے فرشتےکائنات کے تکوینی امور اللہ کے حکم سے انجام دے رہے ہیں ۔لیکن مدبر حقیقی ذاتِ باری تعالیٰ ہی ہے۔سابقات اور سابحات بھی اس کے عطا کردہ امور میں مصروف رہتے ہیں۔
چنانچہ سور  بقر  آیت 251کی تفسیر میں امام قرطبی لکھتے ہیں کہ اس لشکر سے مراد "ابدال " ہیں اور وہ  چالیس ہیں۔
حضرت علی رضی تعالیٰ عنہا سے مروی ہے آپ نے فرمایا :"میں نےآپﷺ سے سنا : " یقیناً ابدال شام میں ہونگےاور وہ چالیس مرد ہونگے، جب کبھی ان  میں سے کوئی وفات پا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے کو متعین فرمائے گا، انکی برکت سےبادل بارش برسائیں گےاور انکے طفیل دشمنوں پر فتح دی  جائے گی اور انکے صدقے زمین والوں کی بلائیں ٹال دی جائیں گی۔"
ابدال: یہ لوگ انبیاء کے نائب ہیں یہ قوم  وہ ہے جسے اللہ نے اپنے لیے چن لیا اور اپنےعلم میں سے انہیںخاص علم عطا کیا ہے۔امام محی الدین ابن عربی اپنےرسالہ" حلیۃ الابدال " میں لکھتے ہیں : " میں نے ایک بزرگ سے پوچھاکہ ابدال کسطر ح ابدال  بنتا ہے؟  تو انہوں نے فرمایا: " چار چیزوں سےجو ابو طالب مکی نےقوت القلوب" میں لکھی ہیں 

(1) خاموشی ،  (2) تنہائی ،  (3 ) بھوک   اور ( 4)   بیداری
رؤےزمین میں مختلف جہانوں اور آبادیوںمیں بلکہ برّ و بحرمیں ایسے رجال الغیب اور مردانِ خدا ہر دور میں موجود رہتے ہیں ۔صوفیا کرام  فرماتے ہیں کوئی بستی اور قریہ ایسا نہیں جس میں ایک قطب یا ابدال نہ  ہو جس کی برکت سے رحمت نازل اور عذاب ٹلتے ہیں۔
رجال الغیب اورخاصانِ خداکی جماعت کے سردار و پیشوا حضرت ابو العباس خضرٰؑہیں ۔ آپ کو نقیب  الاولیاءبھی کہا جاتا ہے۔آپ اللہ کےعبد خاص اورصاحب علم لدنی ہیں۔
علم لدنی کیا ہے؟علم لدنی ا نہی اسماء کا علم ہے جو حضرت آدمؑ کو دیا گیا تھا۔ انہی  اسماء کے علم کو تصّوف کی زبان میں علم لدنی کہتے ہیں۔ (لوح و قلم، قلندر بابا ا ولیاءؒ، علم لد نی)
قرآن مجید میں االلہ تعالیٰ نے فرمایا کہ:" پس اسنے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنے پاس کی خاص رحمت عطا فرما رکھی تھیاور اسے اپنے پاس سے خاص علم  (علم لدنی) سیکھا رکھا تھا۔"
جو علم (علم لدنی ) آدمؑ کو دیا گیا تھا وہی علم خضرؑکے پاس بھی تھا لیکن وہ فرشتوں کے پاس نہیں تھا ۔ثابت  ہوا کہ حضرت خضرؑ فرشتے نہیں تھے۔تو پھر وہ کون تھے؟
 اگر مذکورہ بالا آیت کو دوبارہ دیکھیں تو اللہ نے انکو "عبد" کہا ہے۔عبدروحانیت کا سب اونچا منصب ہے۔منصبِ عبد کے متعلق حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی  ؒدفتراِ وّل  کے مکتوب 30 میں فرماتے ہیں : 

    "لہذا مراتب ولایت کی انتہا مقام عبدیت ہے۔ولایت کے درجات میں مقام عبدیت سے اوپر کوئی  مقام نہیں۔"

اس لحاظ سے ہم خضرؑ  کو   ولایت کے سب سے اونچے مقام عبد سمجھ سکتے ہیں۔ جو اپنے سے نیچے تمام منصب کے ہیڈ ہیں۔لیکن یہاں ایک بات ہمیں روکتی ہے کہ کوئی غیر نبی کسطرح نبی سے بڑھ کرعالم ہوسکتا ہے؟اور کیسے ایک نبی و رسول غیر نبی کے تابع ہو سکتا ہے۔کیونکہ جہاں عبدیت کی حد ختم ہوتی ہے وہاں سے حدِنبوت شروع ہوتی ہے۔ (حا ل سفر، پرو   فیسر فقیرباغ حسین کمال ؔ ،صفحہ نمبر61)

اگر وہ عبد ہوتے تووہ ہر لحاظ سے نبی سے نیچے تھے۔ لیکن موسیٰؑ کے واقعے میں خضرؑ  کا علمی مقام  موسیٰؑ سے زیادہ ہے۔ اس لحاظ سے ہم انہیں ولی بھی نہیں مان سکتے ۔ ولی نہ ماننے کی وجہ ایک اور بھی ہےکہ کسی ولی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ علم الغیب کی بنا پر کسی انسان کو قتل کردے اور نہ ہی تاریخ میں ایساکبھی ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اولیاء کرام  کو اللہ نے تب بھیجا جب نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا اس سے پہلے رجال الغیب موجودتھے وہ حضرت آدمؑ کے زمانہ سے لے کرحضرت محمد ﷺ کے زمانہ تک اور آپؐ کے زمانہ سے لے حضرت عیسیٰؑ کے ظہور تک موجود ہونگے یعنی ابد سے  آخر تک۔ اس سے پتہ چلتا ہے کی حضرت خضرؑ ولی نہیں بلکہ انکا تعلق رجال الغیب سے معلوم ہوتا ہے۔لیکن انبیاء ، انسان، فرشتے اور جنات بھی رجال الغیب ہوسکتے ہیں ۔انسان کی مثال میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اور حضرت مجدد الف ثانیؒ وغیرہ ہیں ۔اب حضرت خضرؑ  نہ ولی ہیں نہ فرشتہ جیسا کہ ثابت ہوالہذا ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ ہم حضرت خضرؑ کو نبی مانے۔اللہ نے قرآن میں اپنے انبیا ء و رسل کو کہیں عبد اور کہیں صدیق سے بھی خطاب کیا ہے۔سورۃ  مریم آیت 41 :"  اور اس کتاب میں ابراہیمؑ  کا ذکر کیجیے وہ صدیق اور نبی تھے۔" اور سور ۃ  صٓ کی آیت 41:" اور ہمارے عبد ایوب کو یاد کیجیے"۔ اورحضورﷺ کے متعلق"  عبدہ ُ   وَ   رَسُولہُ" اسی کی طرف اشارہ ہے۔اللہ نے عبد کا لفظ اپنے نبی کے لیے بھی  استعمال کیا ہے اسلحاظ سےحضرت خضرؑ ایک نبی  ہیں نہ کہ ولی یا فرشتہ۔ اور جیسا کہ نبی کی تعاریف اوپر بیان ہو چکی ہے کہ جسے اللہ نے  غیب کی خبریں دی۔ خضرؑ کے پاس بھی غیب کا علم تھا۔نبی سے مراد بلند اور ارفع بھی ہے۔

امام  ابو جعفرالطحاوی نے " مشکل الآثار " میں حضرت ابوامامۃ الباھلی رضی تعالیٰ عنہ سے مروی ایک روایت نقل کی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو بنی اسرائیل کا ایک واقع سناتے ہوئے حضرت خضرؑ  کا تذکرہ فرمایا اور دورانِ مکالمہ انکی نبوّت کا اثبات و اظہار فرمایا۔ (مشکل الآثار ،طحاوی ر قم : 1218 ) اس روایت کو امام  طحاوی کے علاوہ  امام ہیثمی نے مجمع الزوائدمیں بحوالہ طبرانی نقل کیا ہے۔ اس کے علاوہ ابو سعید نقاش نے اسے " فنون العجائب" میں روایت کیا ہے۔امام  ہیثمی کہتے ہیں کہ اسے طبرانی نے" معجم کبیر"  میں روایت کیا اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد صفحہ 502 )
رہی وہ روایت جس میں حضرت خضرؑ نے فرمایاکہ "اللہ تعالیٰ نے اپنے علوم  میں سے ایک علم مجھے سیکھایا  جسے آپ نہیں جانتے اور ایک علم آپ کو دیا جسے میں نہیں جانتا۔"
حضرت موسیٰؑ کے پاس نبوت اور شریعت کا علم تھا۔اور حضرت خضرؑ     کو اللہ نے نبوت کے ساتھ ساتھ بعض تکوینی امور کا علم (علم لدنی ) دیا تھاجسے صرف خضرؑ  کو نوازہ گیا تھا۔ اور اس علم کی بدولت وہ ایسے کام اللہ کے حکم سے انجام دیتے تھے جو شریعت کے خلاف تھے۔یعنی شریعت کا علم جو اللہ نے موسیٰؑ  کو دیا وہ خضرؑ  کے پاس نہیں تھا۔
دوسرا جس میں خضرؑ فرماتے ہیں کہ میں جو بھی کرتا ہو اللہ کے حکم سے کرتا ہوں۔ تو صرف فرشتے ہی اللہ کے حکم سے ہر کام نہیں کرتے بلکہ نبی و رسول بھی اللہ کے حکم کے پابند ہوتے ہیں ۔حضورﷺ نے  بہت دفع کفارِ مکّہ سے فرمایا کہ میں جو کہتا ہوں خود سے نہیں کہتا بلکہ اس کا حکم تو مجھے اللہ کی طر ف سے وحی  ہوتا ہے۔قرآن میں بھی یہ آیت کی صورت میں موجود ہیں۔
لہذا حضرت خضرؑ ایک نبی تھے ۔اور اللہ نے انہیں اپنی حکمتِ عالیہ سے ہر دور کیلیے قطب وابدال اور رجال الغیب کا معاون ٹھہرایا ہے۔خضرؑ صدیوں سے رجال الغیب سے ملاقاتیں کرتےآ رہے ہیں۔ اور بعض اوقات انکی راہنمائی بھی کرتے ہیں۔تمام اہلِ نظر خضرؑ کواولیاء کرام کا قائد مانتے ہیں۔سید علی کرم  اللہ وجہہ نے آپؑ کو " سید القوم" تسلیم کیا ہے۔ (روض الریاحین)
 قسطلانی شرح بخاری میں حضرت خضرؑ  کو مردانِ  غیب ہی نہیں بلکہ رجال الغیب کا رہنما بھی تسلیم کیا ہے۔

حضرت خضرؑ کا تعارف:





حضرت خضرؑ  کانام بلیآ  بن ملکان تھا۔آپؑ کا لقب خضر تھا اور کنیتابوالعباس تھی آپؑ حضرت نوح ؑ کی اولاد
 میں سے تھے اور آپؑ کے آباؤاجداد اس کشتی میں بھی سوار تھے جو طوفانِ نوح میں بچ کر لوگوں کو محفوظ کرتی گئی جوکائناتِ ارضی پر آئندہ نسلِ انسانی کے آباؤاجداد بنے۔خضر کا لقب پانے کی وجہ یہ ہے کہ آپؑ جہاں بیٹھتےوہاں سبزہ اگ آتا۔جہاں قدم رکھتے سبزہ نمودار  ہوجاتا۔ خضر کے معنی "سبز" کے ہیں۔اس لیے 
انکا لقب خضر تھا۔
تفسیر روح البیان کے مصنف نے حضرت ابو اللیث کی روایت بیان  کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حضورﷺ نے اپنے صحابہ کرام  کو بتایا تھا کہ" حضرت خضرؑ  ایک بادشاہ کے فرزند تھےجو انہیں اپنا جا نشین بنانا چاہتے تھے۔ مگر خضرؑ نے نہ صرف جانشینی سے انکار کیا بلکہ وہاں سے بھاگ کر دوربیاباں میں چلے گئےوہاں آکرایسے گم ہوئےکہ کوئی شخص انہیں تلاش نہ کر سکا"۔آپ کے اس سفر کے دوران آپکو آبِ حیات کاچشمہ ملا جس کا پانی پی کر آپ تاحیات زندگی پانے میں کامیاب ہوگئے۔ انکی تاریخِ پیدائش کا تو کسی کو علم نہیں  مگر انکے زندہ ہونے اور تاقیامت زندہ ہونے کے آثار ملتے ہیں۔


مکمل تحریر >>

My Blog List